دوسرا حصہ: افریقہ اور عالمگیریت کا موجودہ ماڈل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس فروخت کے کئی ماہ بعد بھی یوگنڈا کے عوام کی ان شیئرز تک کوئی رسائی نہیں ہے۔ یوگنڈا کے کچھ لوگوں نے یوگنڈا کے کمرشیل بینک میں سرمایہ کاری کرنے کا حل بینک آف اسکاٹ لینڈ کے شیئز خرید کر نکالا ہے۔ بنک آف اسکاٹ لینڈ افریقہ کے اسٹینڈرڈ بینک گروپ کے شیئرز میں حصہ دار ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ یوگنڈا کے بیشتر لوگ اسطرح سرمایہ کاری کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ عالمگیریت کے حامی چند مثالوں کے ذریعے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ درآمد اور برآمد پر محصول کم کرنے سے اور درآمدی کوٹوں کے خاتمے سے نئی برآمدی صنعتوں کے لئے سرمایہ کا حصول ممکن بنایا جا سکے گا۔ مزید یہ کہ اس سے آمدنی اور روزگار میں اضافہ ہوگا۔ لیکن یہ نکتۂ نظر پیش کرنے والے عالمگیریت کی بے لگام مارکیٹ اور بین الاقوامی کارپوریشنز کی تحریک کے مضر اثرات سے صرفِ نظر کر جاتے ہیں۔ بین الاقوامی کارپوریشنز ترقی پزیر ملکوں کو ان کی مارکیٹ کی بڑی سائیز، کم پیداواری اخراجات اور قدرتی وسائل کی بہتات کی وجہ سے ترجیح دیتی ہیں۔ افریقہ اور دوسرے ممالک میں بین الاقوامی کارپوریشنز کو ناکافی ماحولیاتی قوانین ، کمزور ٹریڈ یونینز اور عدم مقابلے کا فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے۔
عالمگیریت سے بظاہر افریقہ کو فائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن اپنی موجودہ خام حالت میں عالمگیریت غربت کے شکار براعظم کو صرف نقصان ہی پہنچا سکتی ہے بلکہ اس سے خطرہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ افریقہ کی معیشت کو مغربی دنیا کی محتاج بنا دے۔ ایک مثال ہے کہ ایک گدھے اور ہاتھی کو اکٹھے باندھ کر ہل نہیں جوتا جاسکتا کیونکہ ان کی طاقت اور حجم مختلف ہیں۔ یہی عالمگیریت نے افریقہ میں کیا ہے۔ دونوں کے وزن اور حجم میں فرق کی وجہ سے کمزور افریقہ اس کوشش میں ہے کہ وہ طاقت ور عالمگیریت کے شانہ بشانہ چل سکے جبکہ عالمگیریت اپنی برتری کی وجہ سے ہر طرح کا جائز و ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے۔ تو پھر ایسی صورتحال میں کیا کیا جائے؟ ہونا تو یہ چاہئے کہ ترقی یافتہ ممالک عالمی سطح پر بھی انہی اصولوں کو اپنائیں جن پر عمل کر کے وہ خود خوش حالی کی راہ پر گامزن ہوئے تھے۔ اپنے صنعت کاری کے طرف سفر میں ترقی یافتہ ممالک کو بین الاقوامی ٹیکنالوجی کے استعمال پر کسی پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ کیا یہ مطالبہ غیر حقیقی ہے کہ اس ٹیکنالوجی تک افریقی رسائی پر عائد تجارتی پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے؟ افریقہ کے قرضوں کو بھی اسی طرح معاف یا ان میں ترمیم کرنی چاہئے جیسے مغربی ممالک میں کیا گیا۔ ایسے اقدام سے قرضہ لینے اور دینے والے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔ جب تک قرضہ کی تلوار افریقہ کے سر پر لٹکتی رہے گی، اس وقت تک ترقی کے متعلق تمام بلند و بانگ دعوے حقیقت کا روپ نہیں دھار سکیں گے۔
مزید برآں زراعتی سبسڈیز کو ختم یا کم کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور یورپی زراعتی سبسڈیز میں کمی سے پیداوار میں اضافہ ہو تا ہے اور اخراجات میں کمی ہوتی ہے جں سے ان کی اشیاء افریقہ کی اشیاء کے مقابلے میں سستی اور مقدار میں زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کا افریقی کسانوں پر بڑا پریشان کن اثر ہوتا ہے۔ عالمی منڈی میں امریکہ کپاس کی یلغار نے اکثر غریب افریقی ممالک کی جی ڈی پی کے ایک فیصد سے زیادہ کا صفایا کر دیا ہے۔ یہ وہی ممالک ہیں جن کی معیشت کا انحصار کپاس کی برآمد پر ہے۔ زراعتی سبسڈیز کو ان کی موجودہ سطح پر رکھ کر تجارتی پابندیوں میں کمی کرنے مطلب یہ ہے کہ ایک ہاتھ سے لے کر دوسرے ہاتھ سے واپس لے لیا جائے۔ آخرکار سیاسی رہنما غربت کے خلاف افریقہ کی جنگ کی قیادت کریں گے۔ صرف سیاسی رہنما ہی ہیں جو صحت کو لاحق ایڈز جیسے خطرات کا سامنا کر سکتے ہیں، وہ تعلیم کو پہلی ترجیح قرار دے سکتے ہیں اور ایسی معاشی پالیسیاں اختیار کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں بیرونی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو۔ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کہ افریقہ کے یہ مقامی اقدامات اس وقت تک بے سود رہیں گے جب تک ایک ہمدرد عالمی فریم ورک نہیں ہوگا۔ اگر افریقہ کو اپنی حالت سدھارنی ہے تو ترقی یافتہ ممالک کو اس کی مدد کرنی پڑے گی۔ یہ مدد اسی طرح ہو سکتی ہے کہ ترقی یافتہ مالک اپنی منڈیاں افریقی مصنوعات کے لئے کھول دیں، قرضوں میں سہولتیں فراہم کریں اور متفقہ سماجی مقاصد کی بنیاد پر ترقیاتی امداد دی جائے۔ ہمیں لکھئے: عالمگیریت آپ کی زندگی اور معاشرے کو کیسے متاثر کررہا ہے؟ نوٹ: نوربرٹ ماؤ یوگنڈا کی پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ یہ مضمون بی بی سی اردو آن لائن اور ییل سنٹر فار دی اسٹڈی آف گلوبلائزیشن کے درمیان پارٹنرشِپ کے تحت شائع کیا جارہا ہے اور ییل گلوبل کی کائپ رائٹ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||