BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 01 August, 2005, 10:20 GMT 15:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شاہ فہد انتقال کر گئے
شاہ فہد
شاہ فہد 1982 میں سعودی عرب کے بادشاہ بنے تھے۔
سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فہد بن عبدالعزیر طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ ولی عہد شہزادہ عبداللہ کو ان کا جانشین مقرر کیا گیا ہے اور وزیر دفاع پرنس سلطان کو ولی عہد مقرر کیا گیا ہے۔

شاہ فہد 1923 میں پیدا ہوئے اور 1975 میں ولی عہد بننے سے پہلے سعودی عرب کے وزیر تعلیم رہے ہیں۔

شاہ فہد 1982 میں اپنے بھائی شاہ خالد کی وفات کے بعد سعودی عرب کے بادشاہ بنے تھے۔شاہ فہد نے دس سال پہلے دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے بعد خود کو روزمرہ کے حکومتی معاملات سے علیحدہ کر لیا تھا اور اختیارات اپنے سوتیلے بھائی ولی عہد شہزادہ عبداللہ کو منتقل کر دیے تھے۔

شاہ فہد کے عہد میں سعودی عرب کے برطانیہ اور امریکہ سے قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ داخلی طور پر انہیں تیل سے آمدنی میں کمی اور معاشرے میں بڑھتے ہوئے انتشار کا سامنا رہا۔

آپ شاہ فہد کو اور ان کے دور کو کیسے یاد کریں گے؟ شاہ فہد کے عہد کا خطے پر کیا اثر پڑا؟ اور آپ کو کیا لگتا ہے وہ اس خطے کے لیے سیاسی اعتبار سے کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ ہمیں اپنے تاثرات لکھ بھیجیں۔

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


ریاض خان، پاکستان:
شاہ فہد نے حجاج کرام کی مکہ اور مدینہ میں کافی خدمت کی ہے۔ اللہ ان کو جنت میں جگہ دے ( آمین )۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ ہمارے شاہ صاحب کو عربوں پر کچھ زیادہ بھروسا نہیں تھا ورنہ وہ مسلمانوں کے لیے ضرور کچھ کرتے۔

گلاب خان، پاکستان:
شاہ فہد جیسے مسلم حکمران نے سعودی عرب جیسے قبیلے پر بڑی مضبوطی سے حکومت کر کے امیر معاویہ کی یاد تازہ کردی ہے۔

شیخ محمد یحیی، پاکستان:
آج اسلامی دنیا ایک شاہ فہد سے ہی نہیں بلکہ ایک ایسی قیادت سے محروم ہو گئی ہے جس نے مغرب اور اسلام کے تعلقات کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

جان محمد بلوچ، کوئٹہ، بلوچستان:
بش، بلیئر، شیرون اور پرویز مشرف کا ایک اچھا دوست اس دنیا سے چلا گیا۔ مجھے ان سب کے لیے افسوس ہے۔

ابو ارسلان، اسلام آباد، پاکستان:
اللہ مرحوم کی مغفرت کرے اور نئے شاہ عبداللہ کی مدد اور رہنمائی فرمائے۔ وہ اسلامی دنیا کے ایک عظیم لیڈر کی شکل میں کام کریں۔

رضا، کراچی، پاکستان:
خادم حرمین شریفین، شاہ فہد وہیں چلے گئے ہیں جہاں ایک دن ہر انسان کو دو کپڑوں میں جانا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ شاہ فہد کی نجی دولت تقریباً بیس بلین ڈجلر تھی اور کہا جاتا ہے کہ اگر کسی کے پاس بہت ساری دولت ہو تو سمجھ لینا چاہیئے کہ کسی غریب کا حق مارا گیا ہے۔

علی، پاکستان:
شاہ فہد کے عظیم کارناموں میں مدینہ کی توسیع بھی شامل ہے۔ ہمیں ان کے اچھے کارنامے یاد رکھنے چاہیئے ناکہ شرابی اور زانی کہہ کر دھتکارنا چاہیئے۔ کسی کی تنقید کرنے سے پہلے خود میں جھانکنا چاہیئے۔

عمران جلالی، ریاض، سعودی عرب:
میں چھ برس کا تھا جب میں نے شاہ خالد کا انتقال اپنے سامنے دیکھا تھا اور شاہ فہد کو بادشاہ بنتے۔ وہ ایک اچھے انسان تھے۔ انہوں نے مکہ اور مدینہ کی توسیع کی۔ یہ ان کا سب سے بڑآ کارنامہ ہے۔

محمد عاصف، چمن، پاکستان:
جتنے عرصے انہوں نے حکومت کی اس میں کم از کم انہیں اپنے ملک کو تیل کی دولت کے بل بوتے پر ایک طاقتور اور مضبوط اسلامی ملک بنانا چاہیئے تھا لیکن افسوس انہوں نے وہ کارنامے انجام دیے کہ اب جب ان سے حساب ہوگا تو ان کو پتہ چل جائے گا۔

عمران، امریکہ:
حرمین کی توسیع کا بجٹ : پانچ ارب ڈالر
شاہ فہد کی ذآتی دولت : بیس ارب ڈالر
سعودی خاندان کے امریکہ میں اساسے : آٹھ سو پچاس ارب ڈالر

واہ رے خادم حرمین شریفین!

سرفراز خان، متحدہ عرب امارات:
شراب کے نشے میں دھت ہو کر موٹی کارلو کے جووے خانوں میں رقمیں لگا کر ایک عیاش بادشاہ مر گیا۔

راجہ مفتی انایت اللہ انور، کینیڈا:
شاہ فہد ایک بہت اچھے انسان تھے لیکن مسلمانوں کے لیے انہوں نے وہ سب کچھ نہیں کیا جو وہ کر سکتے تھے۔ بہر حال اللہ ان کی مغفرت کرے۔

نبیل عامر، کیلیفورنیا:
ان کے عظیم کارناموں میں حرمین کی توسیع سرفہرست ہے۔ کیا پتہ اللہ کے ہاں اس بنیاد پر بخشے جائیں۔ اللہ ان پر رحم کرے، ان کا دور بہت اچھا دور تھا مگر خلیجی جنگ کے اثرات نے ملک کو کھوکھلا کردیا جس کے بعد وہ صورت حال نہیں رہی جو پہلے تھی۔

قادر قریشی، ٹورانٹو:
فہد اچھا آدمی تھا مگر اس کے انتقال کا فائدہ نہیں ہوا، ملسمانوں کو جمہوریت نہیں ملی۔

عمران، امریکہ:
میں شاہ فہد کے بارے میں جو کچھ جانتا ہوں آپ کی خبروں کے ذریعے۔ جیتے جی وہ مغرب کے لئے سونے کے انڈے دینے والی مرغی تھا۔ اب مرگیا تو آپ بتاتے ہیں کہ وہ زانی اور شرابی تھا۔ بی بی سی کو چاہئے کہ سارے حکمرانوں کے بارے میں سچ ان کی زندگی میں بولا کرے۔ مرنے کے بعد کسی کو’نور جہاں‘ بنانے کا کیا فائدہ؟

کاشف ملک، کوپن ہیگن:
دنیا کے آدھے ٹیرورسٹ یتیم ہوگئے۔ بادشاہ سلامت نے کبھی پیسوں کی پرواہ نہیں کی، اور جتنا کرسکتے تھے دنیا میں وہابی اور دہشت گرد پیدا کیے۔ اب قبر میں جن اس سے جو سوالات ہوں گے اس سے نہ سی آئی اے اور نہ اسرائیل بچاسکے گا۔

میر بلوچ، تھائی لینڈ:
شاہ فہد کے انتقال سے ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے جس کو پر ہونے میں وقت لگے گا، ان کے دور میں سعودی عرب نے بہت ترقی کی۔

پرویز بلوچ، بحرین:
اللہ تعالیٰ ملک فہد کو مغفرت دے اور اسے اپنے جوار رحمت میں خاص جگہ دے۔

محمد فاضلی، کینیڈا:
میں امید کرتا ہوں کہ ہمیشہ کی طرح فہد کی موت پر میرے کمنٹ کو آپ شائع نہیں کریں گے۔ لیکن مسلمانوں کے لئے ان کی موت میں میں ایک بڑا دن دیکھتا ہوں، وہ اچھے مسلمان نہیں تھے، امیر شخص تھے، لیکن مسلمانوں کے لئے کچھ بھی اچھا نہیں کیا۔۔۔۔

عمر نقی، لندن:
سعودی عرب کے واحد لیڈر جو جاتے جاتے امریکہ کو خوش کرکے گئے۔

جاوید اقبال بٹ، مدینہ منورہ:
میں انیس سو اکیاسی سے سعودی عرب میں کام کررہا ہوں، میں نے شاہ فہد کے تئیس سال کے دور اقتدار کو دیکھا ہے، وہ عظیم مسلم رہنما تھے، انہوں نے ملک کی ترقی کے لئے کافی کام کیا، اور اپنی وفات تک اسے ماڈرن ملک بنانے کے لئے کوشاں رہے، ہسپتال، تعلیم وغیرہ کے لئے، سعودی قوم کے لئے، اور غیرسعودیوں کے لئے بھی۔ ان کے دور میں سعودی عرب تین جنگوں سے بچ گیا: ایران۔عراق جنگ، عراق۔کویت جنگ، عراق۔امریکہ جنگ۔ اس دور میں سعودی عرب سیاسی، اقتصادی طور پر مضبوط رہا۔۔۔۔

شریف خان، پاکستان:
مرنا تو سب کو ہے ایک نہ ایک دن، اللہ تعالیٰ ان کو جنت نصیب کرے کیوں کہ ایک مسلم تھا اور ایک بادشاہ تھا، کہ نام بہت بڑا ہوتا ہے۔۔۔۔

رحمت زدہ، دبئی:
شاہ فہد کے دور میں امریکہ کا عمل دخل سعودی عرب میں بہت زیادہ بڑھ گیا تھا جس سے عام سعودی باشندے کافی پریشان تھے۔ ان کے جانشین نے پہلا کام ہی یہ کیا ہے کہ حکومت کی باگ ڈور پوری طرح ہاتھ میں آنے سے پہلے ہی امریکن فورسز کو واپس کی راہ دکھلائی ہے۔ یہ ان کا بہت ہی اچھا فیصلہ تھا، میں نے عام لوگوں کے تاثرات معلوم کیے ہیں اور اس سے بہت خوش ہیں۔

نامعلوم:
کیا مسلمان ملک پر حملے میں امریکہ کا ساتھ دینا امت کی خدمت ہے؟

بابر راجہ، جاپان:
خادمین حرمین شرفین نے واقعی حرمین کے خادم کا فرض انجام دیا۔ آج ہم عمرہ یا حج کرنے جائیں تو ہم کو معلوم ہوگا کہ ان لوگوں کی کیا خدمت ہے، اللہ ان کو جنت میں جگہ دے۔

شکیل انجم، جرمنی:
کاش ان کے مرنے کے بعد ملک میں کوئی اچھی تبدیلی آئے۔ عیاش حکمرانوں کی عیاشیوں کا خمیازہ ان کے بعد ان کی قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔

نجیب اللہ بلوچ، کوئٹہ:
ان کی وفات کے بارے میں سن کر افسوس ہوا۔ عرب لوگوں کے لئے بدقسمتی ہے کہ شیخ احمد یاسین، شیخ زید، یاسر عرفات جیسے عظیم رہنما نہیں رہے۔

علی عمران شاہین، لاہور:
اسلام کے دور حاضر کا سب سے بڑا خادم اس دنیا سے رخصت ہوگیا، دل غمگین ہیں اور آنکھوں سے آنسو رواں ہیں، اور ہم اے شاہ فہد تیری جدائی پر بہت مغموم ہیں۔

شیر یار خان، سنگاپور
اللہ شاہ فہد کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ مرحوم شاہ اپنے دور سے زیادہ عرصے تک اپنی بیماری کی وجہ سے مفلوج رہے۔ شاید وہ بیماری کی وجہ سے برائے نام بادشاہ رہے ہوں گے۔ شاید اگر وہ صحت مند ہوتے تو آج مسلم دنیا کی ایسی حالت نہیں ہوتی۔ شاہ فہد خود اپنے لیے کچھ کرنے کے قابل ہوتے تو اس خطے اور اپنے ملک پر کچھ اثرات چھوڑتے۔ دنیا کو ان کی وفات کے بعد ان کے جانشین کی پالیسیوں سے پتہ چلے گا کہ ان کا دنیا اور خطے پر کیا اثر تھا۔

نامعلوم
میں نے تو ان کا نام آج پہلی دفعہ سنا ہے۔۔۔

عظمی قریشی، امریکہ
ایک شرابی کے مرنے پر اتنا افسوس؟

جاوید، جاپان
ایک بادشاہ اپنی بادشاہت بچاتے بچاتے جسکو صرف اپنی بادشاہت کی ہی فکر تھی وہ حقیقی بادشاہ کے پاس چلا گیا۔ آج امریکہ، یورپ اور اسرائیل اس عظیم لیڈر کے جانے پر افسوس کر رہے ہوں گے۔

انام الحق صدیقی، سعودی عرب
وہ ایک عظیم رہنما تھے اور سعودی عرب کی ترقی میں انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ سعودی عرب کے لیے اچھا نہیں ہوا۔

جان، دبئی
شاہ فہد ایک عظیم انسان تھے اور متحدہ عرب امارات کے دوست۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اب ان کا درد ختم ہو گیا ہے۔ اللہ ان کی روح کو سکون بخشے۔

عالم گیر بیگ، سویڈن
آج کا دن بہت عظیم ہے کیونکہ آج مسلم دنیا کو ایک جابر، ظالم اور عیاش امریکی ایجینٹ سے نجات مل گئی ہے۔ پتہ نہیں اللہ کیوں ایسے لوگوں کی عمر دراز کرتا ہے۔ بہر حال خص کم جہاں پاک۔

عابد لطیف، لاہور، پاکستان
ہم سب اللہ کی طرف سے آتے ہیں اور اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ اللہ کرے ہم سب نئے حکمران کے عہد میں عزت اور امن کے ساتھ اپنی زندگی گزاریں۔
بیجل سندھی، لاڑکانہ، سندھ
ضیاڑ شاہ حسین اور رضا شاہ کے بعد سی آئی اے اپنے اس سب سے وفادار حامی سے محروم ہو گیا ہے جو اپنے آخری دم تک امریکہ میں اپنے حکمرانوں کا وفادار رہا۔ سعودی عرب اب شاید سچ معنی میں تبدیلی دیکھا گا۔

رضوان حیدر، رحیم یار خان، پاکستان
وہ بہت اچھے انسان تھے۔ ہم ان کی مغفتر کے لیے دعا کرتے ہیں۔

شعیب بخاری، برطانیہ
اللہ انہیں جنت میں جگہ دے۔

نوشابہ نوشین، اسلام آباد، پاکستان
بادشاہ تھے اور بادشاہ ہمیشہ تین کام کرتے ہیں - کھاؤ، پیو اور عیش اڑاؤ - انہوں نے اس پر خوب خوب عمل کیا۔

قمر عباس، پاکستان
میں شاہ فہد کو صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ ایک امریکی پٹھو تھے - انہوں نے مسلمانوں کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ ساری زندگی امریکیوں اور گوروں کی خوشنودی میں گزار دی۔

امین اللہ شاہ، پاکستان
شاہ فہد اپنے خطے میں امریکہ اور برطانیہ کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پاک سر زمین میں بسیرا چھوڑ کے جا رہے ہیں - ان کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد ان کی ان پالیسیوں کے اثرات جاری رہیں گے۔

غلام فرید شیخ، سندھ، پاکستان
اچھا دور تھا لیکن اتنا اچھا نہیں کہ ’آئیڈیل‘ (یعنی پسندیدہ) ہو۔۔۔بس صحیح ہے لیکن ابھی اور بہتری کی ضرورت ہے کیونکہ سعودی عرب مسلم ممالک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مرکز ہے اور دنیا کی سب سے قابل احترام اور عزت والی جگہیں سعودی عرب میں ہیں۔۔۔اس لیے سعودی عرب کی حکومت اور بادشاہ کو ایسے اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے جو پوری دنیا کے لیے مثال ہوں۔۔۔

راجہ یونس، سعودی عرب
شاہ فہد کے انتقال کی خبر آج صبح دس بجے آئی۔ شاہ فہد ایک عظیم رہنما تھے اور ان کے دور حکومت میں بہت ترقی ہوئی۔ حرمین شریفین کا پروجیکٹ ایک عظیم پیش رفت ہے۔ شاہ فہد کا دور حکومت ایک مثالی دور تھا اور انہوں نے ملکی ضروریات کے ساتھ ساتھ امت کی ضروریات کا بھی خاص خیال رکھا۔ آج سعودی عرب ایک مثالی معاشرہ ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی اپنی شناخت ہے۔ اتار چڑھاو تو ہر دور میں ہوتے ہیں۔ شاہ فہد بہت عرصے تک دلوں میں رہیں گے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان
مسلمان امت کے ایک عظیم لیڈر کا انتقال ہوا ہے اور یقینی طور پر بہت افسوس ہو رہا ہے۔ انہوں نے قرآن کی تبلیغ کے لیے بہت کام کیے، خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں اسلام کے ماننے والے کم ہیں۔ انہوں نے مساجد اور اسلامک سینٹر قائم کیے۔ ان کا نام امت کے عظیم لیڈر کی حیثیت سے یاد رہے گا۔

محمد جاوید، متحدہ عرب امارات
امت اسلام ایک اور عظیم لیڈر سے محروم ہو گئی ہے۔ اللہ ان کی روح کو اپنی امان میں رکھے۔ ایک اچھے دور کا خاتمہ ہو گیا۔

راجہ عبدل، پاکستانی زیر انتظام کشمیر
خادم حرمین شریفین بادشاہ سعودی عرب، شاہ فہد کے انتقال پر تمام عالم اسلام غمگین ہے۔ شاہ فہد مسلمان قوم کے عظیم ہیرو تھے۔ خانہ کعبہ کی دیکھ بھال میں وہ اپنی مثال آپ تھے۔ خدا ان کو کروٹ کروٹ آرام دے۔

66آپ کی رائے
مدرسوں کے تعلیمی نصاب میں کیا ہے؟
66لندن دھماکے
آپ نے کیا دیکھا، ہمیں لکھ بھیجیے
66آپ کی رائے
بلدیاتی انتخابات: آپ کے ناظمین نےکیا کیا؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد