BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 July, 2005, 10:52 GMT 15:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مدارس کےنصاب میں کیا ہے؟
پاکستان کا ایک مدرسہ
پاکستان کا ایک مدرسہ
لندن بم دھماکوں کے پس منظر میں دنیا کی نظریں پاکستان کے مدرسوں پر مرکوز ہوئی ہیں۔ برطانوی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ چند خودکش بمباروں نے حال ہی میں پاکستان کے مدرسوں میں وقت گزارا تھا۔ حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ مدرسوں پر گہری نظر رکھی جائےگی۔ تاہم پاکستان میں حکام اس بات کی تصدیق نہیں کر رہے کہ ایک بمبار نے وہاں ایک ایسی تنظیم کے مدرسے میں وقت گزارا تھا جسے کالعدم قرار دیا جاچکاہے۔

وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ انتہا پسندی کی تبلیغ کرنے والے مدرسوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔ آفتاب شیرپاؤ نے کہا حکومتی اہلکار عنقریب صدر جنرل مشرف کے شدت پسند تنظیموں کے خلاف فیصلے پر عملدرآمد کے لیےلائحہ عمل تیار کرنے کے لیے ملاقات کریں گے۔

کیا آپ نے مدرسے میں تعلیم حاصل کی ہے؟ مدرسوں کے تعلیمی نصاب میں کیا ہے؟ پاکستان کے مدرسے دنیا کے دیگر ملکوں میں واقع مدرسوں کے مقابلے میں کیا مختلف ہیں؟ کیا مدرسوں کے نصاب میں تبدیلی کی ضرورت ہے؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

نجم الحسن، ڈیرہ غازی خان:
ہاں جی، پاکستان کے مدرسوں میں یہی درس دیا جاتا ہے کہ صرف ہم ٹھیک ہے، باقی جتنے بھی فرقے ہیں چاہے وہ مسلمان بھی ہوں ٹھیک نہیں ہیں، ان لوگوں کو یہاں تک بتایا جاتا ہے کہ اگر آپ ان لوگوں کو جو ہمارا مسلک نہیں رکھتے ماردو گے تو تم جنت میں جاؤگے۔میں تو کہوں گا کہ ان مدرسوں کو فورا بند کردینا چاہئے اور ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جانا چاہئے تاکہ وہ کسی بھی فرقے یا کسی بھی مذہب کو نقصان نہ پہنچائیں۔

ڈاکٹر ریحان بنگش، یو اے ای:
یہ مدرسے پہلے بھی وہاں تھے، بمباری کیوں نہیں ہوتی تھی؟

اظفر خان، کینیڈا:
لندن میں حملوں کے بعد تو یہ ثابت ہوگیا کہ خودکش بمباروں اور مدرسوں کا کوئی تعلق نہیں اور مدرسوں کے خلاف پروپیگنڈا اصل حقیقت کے قریب نہیں ہے۔ مدرسوں کے خلاف کارروائی صورت حال کو اور خراب کردےگی۔ عراق اور افغانستان میں امریکہ اور برطانیہ کی کارروائی دیکھ کر ملسمانوں کا خون گرم ہوجاتا ہے۔۔۔۔

حامد حسین، یو اے ای:
تمام نہیں، لیکن کچھ بلیک شیپ ہرجگہ ہیں اور کچھ مدارس تعلیم دے رہے ہیں کہ اسے ہلاک کردو، تم جنت جاؤگے۔۔۔۔

طارق عباسی، جھنگ:
مدرسوں کے نصاب کو بدلنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں اور تجزیہ کرسکتے ہیں کہ مدرسہ سیسٹم نیا نہیں ہے، جب یہ پہلے ایک مسئلہ نہیں تھا تو اب کیوں ہے؟

نامعلوم:
مجھے اس بات پر تعجب ہے کہ آپ اس طرح کا اسٹوپِڈ سوال کیوں اٹھارہے ہیں۔۔۔۔

جاوید بھٹہ، گجرانوالہ:
اگر آپ دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو انصاف کی فراہمی لازمی ہے۔ امریکہ یوکے جو عراق میں کررہے ہیں اس کے بعد دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے کیا؟۔۔۔

بہرام علی راؤ، میانوالی:
میں نے تین مدرسوں میں تعلیم حاصل کی لیکن اس طرح کی کوئی بات نہیں ہے۔

سید فراز، یو اے ای:
یہ بار بار ثابت ہورہی ہے کہ زیادہ تر مدرسے غلط تعلیم دےرہے ہیں، یہ لوگ بڑی تعداد میں انتہاپسند ہیں۔

آصف سلیم مٹھا، ویسٹ کروئڈن:
میں نے خود قرآن پاک کی تعلیم مدرسے سے حاصل کی ہے مگر مدرسے میں لاسٹ پروفیٹ اور قرآن پاکستان کی تعلیمات سے ہٹ کر کوئی بھی ایسی بات نہیں پڑھائی جاتی جو غیرمسلمانوں کے ساتھ زیادتی والی بات سمجھی جائے۔۔۔۔

جاوید احمد، کراچی:
مدرسوں میں ٹیرورِزم کی نہیں، اینٹی ٹیرورِزم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ مدرسے اسلام کے قلعے ہیں اور اسلام امن کا مذہب ہے۔

محمد جاوید، شارجہ:
دینی مدارس میں کوئی غلط تعلیم نہیں دی جاتی ہے یہاں پر مسلمان بچوں کو اسلامی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ صرف غیرمسلم لابی کا پروپیگنڈا ہے کہ مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اگر آپ میں کسی کو شک ہے تو اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں آپ کو صاف فرق نظر آجائے گا۔جہاں تک لندن میں بم بلاسٹ کرنے والوں کا دینی مدارس میں رابطے کا ذکر ہے تو کچھ مہینے مدارس میں گزارنے سے ان کے مائنڈ کو چینج نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آج تک تو مدارس میں کے بارے میں بات کی جارہی ہے، کل کو مسلمانوں کے لئے کہا جائے گا کہ وہ مساجد میں جاتے ہیں اس لئے مساجدیں دہشت گردی کا گڑھ ہیں۔۔۔۔

عبدالرحمان اختر، لاہور:
پاکستان میں اسلامی تعلیمات کے لئے تمام مدرسے بہتر ہیں۔

امن محمد، نیو برائٹن، نیوزی لینڈ:
دراصل ہمارے مدرسوں میں اسلامی تعلیمات کی بجائے لوگوں کو تعصب کی زیادہ درس دیتے ہیں کیوں کہ ان میں زیادہ غریب اور جاہل لوگوں کا ہی رش ہے اور یہ مولوی لوگ جو ہیں یہ تو بس اپنی ہی بنائی باتوں سے بچوں کے ذہن میں غلط باتیں ڈال دیتے ہیں مثلا اپنی مسلمان کی مسجد میں خودکش حملہ کرو اور دنیا کی طاقتوں سے لڑو۔۔۔۔

عصمت زمان خان، مانٹریال:
پاکستانی مدارس روٹیاں مانگ کر کھاتے ہیں بم کہاں سے لائیں گے۔۔۔۔

فیاض ممتاز، ٹورانٹو:
مغرب والوں کو اپنے نصاب کے بارے میں زیادہ سوچنے کی ضرورت ہے، مسلمانوں کے نصاب کے بارے میں نہیں۔ وہ ہر روز عراق، فلسطین، افغانستان میں سو لوگوں کو مارتے ہیں، اب انگلینڈ میں صرف پچاس لوگوں کے مرنے پر کیوں شور مچارہے ہیں؟

محمد اظہر بٹ، شارجہ:
میں نے بھی مدرسوں میں تعلیم حاصل کی ہے لیکن کوئی بھی مدرسہ، کوئی بھی جماعت یا خودکش بموں کی تعلیم نہیں دیتی۔ افغانستان میں کتنے بچے مارے گئے، کتنے عورتوں کو مارا گیا، فلسطین میں کیا ہورہا ہے۔۔۔۔

جہانگیر احمد، دبئی:
یہ غیرمسلموں کا پروپیگنڈہ ہے۔ میں نے پاکستان میں اپنے شہر میں واقع مدرسے کا دورہ کیا ہے جہاں غریب لڑکے لڑکویں کی تعلیم دی جاتی ہے۔ میری اہلیہ نے بھی مدرسے میں تعلیم حاصل کی۔

شاہزیب خان، ایتھنز:
مدرسوں میں دینی تعلیم دی جاتی ہے اور دین ہمیں اسلام پر چلنا سکھاتا ہے نہ کہ دہشت گردی۔ امریکہ اور یوکے کو ان مدرسوں سے کچھ نہیں ملے گا۔ یو کے اور امریکہ اپنی الزام تراشی سے بعض رہیں۔

عمیر شاہ، اسلام آباد:
میں پاکستان میں ایک لِبرل شخص اور انٹی مسلم ہوں۔ لیکن میں نہیں سمجھتا ہوں کہ مدرسوں کے نصاب میں کوئی مسئلہ ہے۔ وہ قرآن اور حدیث پڑھاتے ہیں۔۔۔۔

نغمانہ نیازی، اسلام آباد:
اہل مغرب کی بوکھلاہٹ پر ہنسی آتی ہے، کیا عراق میں جو مسلمانوں نے خودکش حملے کرکے امریکیوں اور انگریزوں کے ناک میں دم کررکھی ہے وہ بھی پاکستانی دینی مدرسوں سے تربیت یافتہ ہیں؟

یوسف علی، کراچی:
پاکستان کے مدرسوں کے تعلیمی نصاب میں کیا ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ طالبان جیسی ٹیرورسٹ آرگنائزیشن کے سربراہ ملاعمر نے پاکستان کے ہی ایک مدرسے سے تعلیم حاصل کی۔ میرے کچھ دوست مدرسوں سے تعلیم حاصل کررہے ہیں اور اب وہ مجھے کافر کہنے لگے ہیں، پاکستان کے نوے فیصد مدرسوں میں نفرت اور مذہبی منافرت پھیلانے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔

عاطف خلیل، پشاور:
مدرسے کے نصاب کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ ان میں انتہاپسندی نہیں ہے۔

آفتاب احمد، دہلی:
ہاں میں نے مدرسے میں تعلیم حاصل کی۔ مدرسہ کا نصاب واضح ہے۔ اس سے انسان کو ایک اپنی زندگی جینے اور گزارنے کا ایک رحم دل انسانیت کی حیثیت سے سبق حاصل ہوتا ہے۔ مدرسہ کی کتابیں کبھی انسان کو راستے بھٹکنے نہیں دیتیں، یہ کبھی انسان کو مجرم یا خودکش بننے کی طرف راغب نہیں کرتیں۔

علی طاہر سید، کراچی:
یہ تو تسلیم کرنا ہوگا کہ کچھ مدرسوں میں انتہاپسندی کی تعلیم دیجارہی ہے۔ نصاب اور طالب علموں کا ذہن بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ اس جدید دنیا میں ہم بہتر مقام حاصل نہ کرسکیں گے۔

ابو عمر، دوبئی:
کسی بھی علم کا مثبت استعمال انسانیت کی خدمت ہوتی ہے اور اس کا منفی استعمال انسانیت کے لئے وبالِ جان۔ امریکی اور یورپی تعلیم فن و حرب اور اس کی ایجادات نے بھی اس دنیا میں بہت تباہی مچائی ہے اور مچا رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ اور یورپ تعلیم کا مثبت استعمال کریں اور ہر انسان کو اس کے حصول کا حق دیں۔ مدارس کے بغیر امت بےجان جسد کی مانند ہے۔

منہاج فاروقی، مانٹریال:
دیوبندی مدارس کا خیال رکھیں کیوں کہ ان کے ننانوے اعشاریہ نناوے فیصد طالب علم اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔

عبدالرحیم احمد، واٹرلو، کینیڈا:
اس نصاب میں وہی ہے جو ہونا چاہئے۔ کیا آپ امید کرتے ہیں کہ ایک سائیناگوگ میں قرآن کی تعلیم دی جائے گی؟ یا سندھ میڈیکل یونیورسٹی الیکٹریکل انجینیئرنگ کی تعلیم دے گی؟۔۔۔

حمید انعامدار، بیجاپور، انڈیا:
کیا مدرسوں اب اس طرح کی تعلیم دینی ہوگی کہ کوئی ظلم کرے تو برداشت کرو؟ کہ اگر کوئی تمہارے گھر پر قبضہ کرے تو گھر چھوڑ دو؟

راجہ یونس، دمام:
کوئی بھی مدرسہ یا تعلیمی انسٹیٹیوٹ دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا اور نہ ہی کوئی مذہب ایسی دہشت گردی کی پرچار کرتا ہے۔ یہ تو انسان کو یہ درس دیتے ہیں کہ انسان کی تعظیم کی جائے اور انسان کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے۔ ویسے تو یہ چلن اب عام ہوگیا ہے کہ کہیں کوئی معمولی سی بھی گڑبڑ ہو جائے اس کا رشتہ فورا اسلامی شدت پسندی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اگر کسی انسان کی جان لینے کے نام پر شدت پسندی یا دہشت گردی ہے تو سیدھے موجودہ دور میں سب سے بڑے دہشت گرد بش، ٹونی بلیئر اور مشرف ہیں کہ کابل، قندھار، کوفہ، بغداد، وانا میں معصوم انسانوں کی جان جارہی ہے۔۔۔۔

رب نواز، پشاور:
در حقیقت یہ غیرمسلموں کا پلان ہے کہ مدرسوں اور اسلامی تعلیمات کو ختم کردیا جائے۔

راحت ملک، راولپنڈی:
نہیں لگتا کہ ان مدرسوں میں اس طرح کی تعلیم دی جاتی ہو۔ اگر ایسا ہو تو ہر کوئی بمبار بن کر باہر نکلے، ہاں ایک واحد واقعہ ایسا ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سارے مدرسے اس طرح کی تیاری میں ہیں۔

عبداللہ حیدری، پاکستان:
میں نے مدرسے میں تعلیم حاصل کی اور نصاب میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں۔

یوسف خان، کراچی:
بات نصاب کی نہیں، بات سچائی کی ہے۔ ظلم کو مٹانے کے لئے نصاب میں تبدیلی کی بجائے ظلم کے اس نظام کو بدلا جائے، نہ رہے گا بانس نہ رہے گی بانسری۔

شائستہ خان:
سب لوگ مدرسوں کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، لیکن کوئی آدمی ایک بھی مثال نہیں لاسکتا کہ کسی مدرسے کے طالب علم نے کبھی کوئی خودکش حملہ کیا ہو۔ ایسا کرنے والے سب کے سب لوگ خود الزام لگانے والے لوگوں کی تیار کردہ سکولوں اور یونیورسٹیوں کے ہوتے ہیں۔ مگر ان لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ الزام دوسروں پر ڈالتے ہیں۔

شاہد فاروقی، الخبر:
دنیا میں دہشت گردی کی وجہ ناانصافی ہے، اس لئے نصاب میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

فواز درانی، یوکے:
میں نے کسی مدرسے میں تعلیم تو حاصل نہیں کہ مگر اتنا ضرور دیکھا ہے کہ مدارس کے نصاب میں ایسی کوئی بات نہیں جس میں بم مارنے یا قتل کرنے کی کوئی تربیت یا ترغیب دی جاتی ہو۔ اگرچہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نصاب میں دیگر دنیاوی علوم کو بہت زیادہ پروموٹ نہیں کیا گیا، مگر یہ کوئی خرابی نہیں۔ دنیا کے دیگر تعلیمی ادارے بھی تو اپنے اپنے خاص نصاب رکھتے ہیں، پھر آخر کو تمام طور پر آبجیکشن مدارس پر ہی کیوں؟

حسین، دبئی:
یہ سب کچھ اسٹنٹ ہے، کچھ اور نہیں۔ مدرسوں میں مسلم بچے اسلامی تعلیمات حاصل کرتے ہیں۔ یہ خودکش حملے لوگ امریکہ کے مشورے پر کررہے ہیں۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
سارے سوالوں کے جواب چھوڑ کر صرف اس بات کا جواب دینا ضروری سمجھتی ہوں کہ مدرسوں کے نصاب میں واقعتا تبدیلی کی ضرورت ہے، کیوں کہ اسلام جبر کا مذہب بالکل نہیں ہے، کوئی زور زبردستی نہیں ہے، قرآن پاک میں ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں، لیکن ہمارے مدرسوں میں دینی تعلیم صرف اس حد تک دی جاتی ہے کہ دنیا کے کسی معاملے کی ان کو ہوا ہی نہیں۔

66آپ کے مضامین
خصوصی ضمیمہ: آپ کی آواز، آپ کی تحریر
66آپ کی کہانیاں
خصوصی ضمیمہ: بچھڑے ہوئے لوگ
66گلوبلائزیشن کیا ہے
ضمیمہ: گلوبلائزیشن کی دستک
66طلباء کی کہانیاں
ضمیمہ: علم کی تلاش میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد