BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 June, 2005, 14:18 GMT 19:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جی ایٹ سے آپ کی امیدیں؟
برطانیہ سے غربت کا خاتمہ نہیں ہوسکا، کیا جی ایٹ ترقی پزیر ممالک سے غربت کے خاتمے میں کامیاب ہوگا؟
برطانیہ سے غربت کا خاتمہ نہیں ہوسکا، کیا جی ایٹ ترقی پزیر ممالک سے غربت کے خاتمے میں کامیاب ہوگا؟
ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم جی ایٹ کا اجلاس چھ سے آٹھ جولائی کے درمیان برطانیہ میں ایڈنبرا کے پاس گلین ایگل کے مقام پر منعقد ہوگا۔ برطانوی حکومت اس اجلاس سے پہلے سے ہی غریب ترین افریقی ممالک کے قرضے معاف کرنے کے لئے کوشش کررہی ہے جس میں کامیابی کی جانب پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم ’غربت کو تاریخ بنائیں‘ کی ایک مہم کے تحت گلوکار باب گیلڈوف احتجاج کے طور پر موسیقی کے کئی پروگرام منعقد کررہے ہیں تاکہ دنیا کے رہنماؤں پر غربت کے خاتمے کی اہمیت اثر انداز ہو۔

گلوبلائزیشن یعنی عالمگیریت کے اس دور میں ترقی پزیر ممالک فکرمند ہیں کہ آزادانہ بین الاقوامی تجارت سے امیر ممالک فائدہ اٹھارہے ہیں اور غریب لوگ مزید غربت کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔

حال میں یہ بھی امید کی جارہی تھی کہ برطانیہ درجۂ حرارت میں تیزی روکنے والے معاہدے کیوٹو پراٹوکول پر دستخط کرنے کے لئے امریکہ کو راضی کرلے گا لیکن اس جانب کامیابی کی امید کم ہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک پر یہ بھی الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ غریب ملکوں کو اسلحے کی فروخت کرکے انہیں جنگوں میں الجھائے ہوئے ہیں۔ بعض غیرسرکاری تنظیمیں اسلحہ کی ذمہ دارانہ خرید و فروخت کے لئے ایک بین الاقوامی معاہدے کی کوششیں کرتی رہیں ہیں۔

جی ایٹ ممالک کے رہنماؤں کے لئے آپ کا کیا پیغام ہے؟ جی ایٹ سے آپ کی کیا توقعات ہیں؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
جی ایٹ ممالک کے لئے میرا پیغام سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ جس کام کو آپ خود کرنا پسند نہیں کرتے وہ دوسرں سے کیوں کروانا چاہتے ہیں؟ خود ان چیزوں سے آپ فائدہ اٹھاکر دوسرے غریب ملکوں کا جینا کیوں حرام کررہے ہیں، کیسی عجیب پالیسی ہے جو سب کے لئے الگ الگ طریقۂ کار کے تحت ہے، اور اس کی وجہ سے غریب ممالک اور غریب تر ہوتے جارہے ہیں اور امیر ممالک کا ہی ہر طرح سے فائدہ ہورہا ہے۔۔۔

اکسی خان، لندن:
ہم افریقہ اور ایشیا کے کسانوں کے لئے تجارت اور انصاف چاہتے ہیں۔۔۔

عبدالسلام، پاکستان:
جناب جی ایٹ اور کچھ نہیں مسلمانوں کے خلاف احتاد کا نام ہے۔ یہ ایک طرح کی وزارت خزانہ ہے اس انٹی مسلم اتحاد کا اور نیٹو ان کا ڈیفنس کا ادارہ ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اک دن بہت جلد آنے والا ہے کہ مسلمان ورسس ریسٹ آف دی ورلڈ ایک معرکہ ہوگا۔ یہ سب اس کی تیاری ہے۔ جی ایٹ سے میرا یہی توقع ہے اور ان کے لیڈرز کو میرا پیغام ہے کہ اگر ورلڈ میں پیس چاہتے ہیں تو امریکہ کا ساتھ چھور دو۔ وہ پیس کا دشمن ہے۔

اشفاق نظامانی، ٹورانٹو:
جی ایٹ ممالک غریب ملکوں کی مدد کررہے ہیں۔ لیکن غریب ملکوں کے لوگ سوچتے ہیں کہ یہ جی ایٹ ممالک کی ذمہ داری ہے کہ ان کی مدد کریں۔ وہ غلط ہیں۔۔۔

یاسر رفیق، مانٹریال:
پاکستان کو ان کنٹریز سے کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے۔

کرِسٹوفر لِنتھویٹ، انگلینڈ:
بش کی تقریر سننے کے بعد مجھے یقین ہے کہ وہ افریقہ کی مدد کے لئے خلوص نیت سے ہیں۔ لیکن جیسا کہ کہاوت ہے: خیر کا مزہ کھانے میں ہی ہے۔ جب تک زمینی سطح پر تبدیلی نہیں دکھائی دیتی، تب تک میں اپنی بات محفوظ رکھتا ہوں۔ الفاظ کے کوئی معنی نہیں، اقدامات دیکھیں گے۔

سید غوث، امریکہ:
جو چاہیں سو آپ کریں، ہم کو بس بدنام کریں۔

عابد عزیز، ملتان:
میں امید کرتا ہوں کہ جی ایٹ ہمیں مزید جنگ، غربت، غیراستحکام، ہتھیار دے گا تاکہ ہم ایک دوسرے کو ہلاک کرسکیں۔۔۔

شہزاد بدر، اسلام آباد:
آٹھ بھیڑیے ملکر بھیڑوں کی قسمت کا کیا فیصلہ کریں گے؟ ظاہر بات ہے یہی طے کیا جائے گا کہ ان بھیڑوں یعنی تھرڈ ورلڈ کاؤنٹیز کے عوام کا خون تو پی چکے ہیں، اب ان کو مزید کس طرح ہڑپ کیا جاسکتا ہے۔

رِک، برطانیہ:
امریکہ صحیح کہتا ہے۔ ہم اپنے پیسے افریقہ میں نہیں پھینکتے رہیں گے۔ افریقی بھی یہ نہیں چاہتے۔ انہیں باقی دنیا کے ساتھ ملک کر کام کرنے کے مواقع کی ضرورت ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ آپ اسی سابق موسیقار کے ٹی شرٹ خریدیں اور اس کے کنسرٹ دیکھ کر افریقہ کو بچائیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے سامان خرید کو ان کو بچائیں، تجارت کے طریقے بنائیں اور ان کے برآمدات بڑھانے کے راستے۔ لیکن ایسا کرنے کے لئے افریقی قوموں کو اپنے آمروں کا سامنا کرنا پڑے گا، اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنا پڑے گا چاہے جیسے بھی ہو۔ جیسا کہ بش نے کہا، پیسے افریقیوں کو ملے، نہ کہ کرپٹ افریقی لیڈروں کو۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
جب ایک گھر میں دو بھائی ایک دوسرے کو کاٹنے کے چکر میں ہیں تو یہ امیر ملک کس طرح ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے؟ اب امریکہ پوری ورلڈ میں اپنا الو سیدھا کررہا ہے، ساؤتھ کوریا اور نارتھ کوریا کو آپس میں لڑاکر اپنے مقاصد حاصل کیے جارہے ہیں، اس وقت سول میں سینتیس ہزار امریکی فوج موجود ہے۔ اسی طرح پاکستان اور انڈیا کا پرابلم بھی حل کرنے میں امریکہ سمیت بڑی قوتیں سنجیدہ نہیں ہیں، عرب کنٹریز کے تمام منرل وسائل پر امریکہ قابض ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ امیر قوتیں امیرتر ہورہی ہیں اور غریب غریب تر۔ یہ اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک سوپر پاور دوسری غریب قوتوں کا استحصال بند نہیں کریں گے۔

ڈاکٹر ایم، یو کے:
میں چاہتا ہوں کہ جی ایٹ صرف انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ پر ہی فوکس نہ کرکے، بلکہ ماحولیات پر بھی توجہ دے۔ شاید مسٹر بلیئر اسکول کے وقفے میں اضافے کی تجاویز پر توجہ دینے کے بجائے ریسائکلِنگ پر توجہ دیں۔

نسیم رمساہی، امریکہ:
افریقی رہنماؤں کو مزید ذمہ داری سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔

چاند بٹ، جرمنی:
پاکستان سے کسی لیڈر نے پاکستان کے قرضے معاف کرنے کی آواز نہیں نکالی۔ شاید اس میں ان کو کوئی پرسینٹ کِک بیک کی امید نہ ہوگی۔ میری دعا ہے کہ تھرڈ ورلڈ کے قرضے معاف ہوں تو سرفہرست پاکستان کے قرضے بھی معاف ہوں۔ کیوں کہ یہ قوم لہولہان ہوچکی ہے، ایک طرف یہ ویسٹ کو انتہا پسندوں سے بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں دوسری طرف یہ قوم اپنے ہی سیاست دانوں کی نااہلی کی سزا پچاس سال سے بھگت رہی ہے، یہ سسکیاں لیتی نناوے فیصد غریب قوم تو معافی کی مستحق ہے۔ اپنوں کو تو قوم پر رحم نہیں آتا، دنیا پاکستانی قوم پر رحم کرے۔

راب، نیویارک:
اگر جارج بش کیوٹو معاہدے پر دستخط بھی کردیں تو بھی سنیٹ اسے منظوری نہیں دے گی۔ کلنٹن کے دور میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔

عمیر چودھری، ٹورانٹو:
مزید غربت، ناانصافی اور طاقت کا ناجائز استعمال۔ غریب قوموں کے لئے کوئی امید نہیں۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
جی ایٹ ممالک خصوصا امریکہ اور اس کے حواری برطانیہ پوری دنیا کے لئے شر کا محور ہیں۔ انہوں نے نام نہاد اقوام متحدہ کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا کو یرغمال بنالیا ہے اور ان ممالک کو سود در سود کی چکی میں پیس کر رکھ دیا ہے۔ یہ جی ایٹ ممالک اپنی ذات کے علاوہ کسی دوسرے ملک سے مخلص کبھی نہیں ہوسکتے۔ اسی سودی کاروبار پر تو ان کی دکانیں رواں دواں ہیں۔ بس اس کا ایک ہی حل ہے، ان غریب ممالک کے عوام اپنے بےحس، کمیشن ایجنٹ حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ان سے پوچھیں کہ تم نے ہمارے ملک کو گروی رکھ لیا لیکن ہمیں کیا دیا؟ ان حکمرانوں سے اس یرغمال پن کا حساب لیں اور اپنے پاؤں پر خود کھڑے ہوں، جی ایٹ سے قرض کی بھیک نہ مانگیں۔۔۔

راملہ:
ہمیں تو کسی سے کوئی امید نہیں۔ اپنے سیاست دانوں سے نہیں تو ان کیا ہوگی؟

جوسیف ووجےچاؤسکی، نیوجرسی:
امریکہ میں، ہمارے اوپر 3000000000000 ڈالر کا قرضہ ہے۔ دوسرے ممالک کیوں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنا پیسہ ایسے ہی دوسروں کو بانٹتے رہیں؟ مجھے غلط نہ سمجھیں، مدد کرنا نیک کام ہے، لیکن ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں جتنا دوسرے لوگ سمجھتے ہیں۔

غلام فرید سندھی، سندھ:
بن بن کے سب قازب، دھوکہ دی ہے سب نے۔

نغمہ نیازی، اسلام آباد:
جی ایٹ سے خوش حالی کی امیدیں بن بادل آسمان سے بارش والی بات ہے۔ امیدیں رکھنی ہی کیوں چاہئیں؟ اللہ نے ہاتھ، پاؤں، دماغ نہیں دیا کیا؟ جی ایٹ ممالک کے لوگ کوئی نئی اسپیسیز ہیں؟ صرف اور صرف خلوص، محنت، حب الوطنی، خودی جیسے شعائر چاہئیں۔۔۔۔

وِل، اٹلانٹا، امریکہ:
جارج بش ایک عظیم شخصیت ہیں جنہیں تاریخ اکیسویں صدی کے عظیم ترین رہنما کی حیثیت سے یاد رکھے گی۔ دنیا کے لیفٹِسٹوں، جاگ جاؤ، کافی کی مہک سونگھو۔

عمران، امریکہ:
مجھے تو کوئی خوش فہمی نہیں۔ مسئلہ تو بےچارے جی ایٹ والوں کا ہے۔ آج کل اپنی ساکھ بہتر کرنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد:
کیسا جی ایٹ، کیسے لوگ، ابھی بھی لوگوں کو یہی نہیں معلوم کہ وہ کتنے غریب ہیں اور جو جی ایٹ کے ملک ہیں ان کو نہیں پتہ کہ وہ کتنے امیر ہیں۔ تو پھر کیسی بات، سب ہی شہزادہ اور پری کی کہانی ہے جس میں غریب کا ذکر اس کی غربت سے ہے نہ کہ اس کی کوئی پہچان۔

66آپ کی رائے
ترک وطن -- آپ کا تجربہ کیسا رہا؟
66گلوبلائزیشن کیا ہے؟
گلوبلائزیشن پر خصوصی ضمیمہ
66آپ کی رائے
جی-8 ممالک اور اسلحے کی خرید و فروخت
آپ کی رائے
بین الاقوامی سرحدیں یا سیاست؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد