BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 June, 2005, 11:15 GMT 16:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اردو زبان میں نئے الفاظ کی ضرورت؟
اردو زبان میں نئے الفاظ؟
کیا ہماری بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ ساتھ ہماری زبان بھی بدل رہی ہے؟
حال ہی میں انگریزی زبان کی ایک لغت، کولِنز اِنگلش ڈِکشنری کا تازہ ترین ایڈشن شائع ہوا، جس میں پندرہ سو نئے الفاظ کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو پچھلے کچھ سالوں میں بول چال کے ذریعے انگریزی زبان میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان الفاظ سے نہ صرف انگریزی زبان اور ثقافت میں آنے والی تبدیلیوں کی عکاسی ہوتی ہے بلکہ زبان کے استعمال میں آنے والی تبدیلیاں بھی نمایاں ہوتی ہیں۔ ان نئے الفاظ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عام لوگ زبان کے ارتقاء میں ایک نہایت ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ ایک زندہ زبان کی نشانی یہی ہے کہ وہ کتنی تیزی اور آسانی سے تبدیلیوں کو اپنانے میں کامیاب ہوتی ہے۔ تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ اردو زبان میں بھی کچھ ایسے الفاظ ہیں جو بھلے ہی اب تک کسی لغت یا ڈِکشنری میں شامل نہ کیے گئے ہوں، مگر عام بول چال کا حصہ بن گئے ہیں؟ کیا ہماری بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ ساتھ ہماری زبان بھی بدل رہی ہے؟ کیا آپ ایسے کچھ نئے الفاظ سوچ سکتے ہیں جو آپ کی نظر میں اردو زبان کا حصہ بن گئے ہیں؟ ان نئے الفاظ کے ساتھ ساتھ یہ بھی لکھ بھیجیں کہ آپ کی نظر میں انہیں ڈِکشنری میں کیوں شامل کیا جانا چاہیئے۔

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


عبدل منان، پاکستان:
میں آپ کی بات سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں کہ زندہ زبانوں کی نشانی ہے کہ وہ اپنے اندر نئے الفاظ کو کس طرح شامل کرتی ہے۔ میرے خیال میں اردو زبان میں اور خاص طور پر پاکستان میں ایک ورڈ ’الیکشن‘ بہت عام ہو گیا ہے۔ اگر یہ پہلے سے اردو ڈکشنری میں شامل نہیں تو اسے ضرور شامل ہونا چاہیئے۔

سعید بٹ، لاہور، پاکستان:
بات چاہنے یا نہ چاہنے کی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ارتقاء اور تغیر قدرتی عوامل ہیں۔ آپ قدرت کو روک نہیں سکتے۔ ایک وقت یہ بھی تھا کہ آج کل مروج زبانوں میں سے کسی بھی زبان کا وجود نہیں تھا۔ زبانیں بنتی رہی ہیں، شکل بدلتی رہی ہے اور پھر مرتی بھی رہی ہیں۔ یہ عمل تا قیامت جاری رہے گا۔

شیخ محمد یہییٰ، کراچی، پاکستان:
اردو زبان مختلف زبانوں کا مجموعہ ہے۔ اس زبان میں انگریزی زبان کے شامل ہونے میں ہمارے میڈیا کا ہاتھ ہے۔ نئی جنریشن کے لوگ اردو کے ساتھ انگریزی بولنے اور لکھنے کو فیشن کا حصہ سمجھتے ہیں۔

فرخ صدیق، کراچی، پاکستان:
جناب، اس کی اردو کو از حد ضرورت ہے۔ کیونکہ بدلتی رُت میں آئے دن نئی چیزیں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ اس لیے اسے دوسری زبانوں سے ممتاز کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس پر اردو زبان تبقے کو سوچ وچار کرنا چاہیئے۔

عاکف غنی، فرانس:
انگلش اور دیگر کئی زبانوں کے الفاظ اردو بول چال میں شامل ہو چکے ہیں۔ مگر بے تحاشا ہر لفظ کو کسی زبان میں شامل کرنا اس زبان کے وجود کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ البتہ کئی الفاظ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو اگر ویسے کا ویسا ہی اپنا لیا جائے تو وہ زیادہ خوبصورت اور بولنے میں اچھے لگتے ہیں جبکہ ترجمہ شدہ الفاظ مشکل ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے بے شمار الفاظ ہیں جو دیگر زبانوں سے خاص طور پر انگلش سے اردو میں لائے گئے ہیں۔ ایسے الفاظ کو اگر اردو لغت میں شامل کر بھی لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔

خالد عباسی، کراچی، پاکستان:
اردو تو خود مختلف زبانوں کا ممجموعہ ہے جس کی وجہ سے اسے لشکری زبان بھی کہا جاتا ہے۔ ’ڈائٹ، ڈِسٹنس، برگر، پیتزا، پرسکرِپشن، بیچ‘ وغیرہ کچھ ایسے لفظ ہیں جو اب عام بول چال میں استعمال ہونے لگے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ اردو کی لغت کو بھی اپ ڈیٹ کیا جائے۔

عارف جبار قریشی، سندھ، پاکستان:
اردو ایک لشکری زبان ہے۔ اس میں مختلف زبانوں کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ دنیا کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔ ویسے اب جو لفظ استعمال ہو رہے ہیں انہیں لغت میں شامل نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے اردو زبان کی شکل ہی بگڑ جائے گی۔

احتشام فیصل چودھری، متحدہ عرب امارات:
اردو زبان کے ساتھ ایک بہت بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں الفاظ کا اضافہ نہیں کیا گیا۔ کسی قوم کی شناخت اس کی تہذیب ہے اور تہذیب کی بنیاد بولی جانے والی زبان پر رکھی جاتی ہے۔ اگر ہم اپنی تہذیب کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں تو اردو زبان کو وقت کے دھارے میں لانا ضروری ہے۔ مزید الفاظ کے اضافے کے ساتھ ساتھ اردو گرامر میں بھی تبدیلی ضروری ہے تاکہ نئے سیکھنے والوں کو آسانی فراہم ہو۔

محمد احمد مفتی، ٹورانٹو، کینیڈا:
پاکستان میں نئے الفاظ کو اردو ڈکشنری میں شامل کرنے کا فیصلہ ’اردو ڈکشنری بورڈ‘ نام کا ادارہ کرتا ہے۔ اس ادارے کا نام ہی لے لیجیئے: کیا ’ڈکشنری‘ کی اردو ’لغت‘ نہیں؟ کیا بورڈ کی اردو کوئی نہیں؟ آپ اردو ٹی وی کو سن لیجیئے۔ خبروں میں ایسے بے تحاشا انگریزی الفاظ آپ کو سنائی دینگے جن کی اردو عام بول چال میں استعمال ہو رہی ہے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ مسئلہ نئے الفاظ کے اردو لغت میں شامل کرنے کا نہیں بلکہ عام بول چال کے اردو الفاظ کو متروک ہونے سے بچانے کا ہے۔

ندیم ملک، پیرس، فرانس:
اردو، جس کے معنی لشکری زبان کے ہیں، اس میں پہلے ہی بہت سے زبانوں کا میل جول ہے۔ اتنی اسانی سے پتا نہیں چل سکتا کہ اس میں کون سے الفاظ نئے ہیں۔ بہر حال میری نظر میں ایک لفظ نیا ہے، جو شاید بھی تک کسی ڈکشنری میں موجود نہ ہو، وہ ہے ’ٹوپی ڈرامہ‘ جو آج کل ہماری زبان میں بولا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے فراڈ۔ اس لفظ کو سننے سے ہنسی آ جاتی ہے۔ میرے خیال میں اس کو ڈکشنری میں شامل کر لینا چاہیئے۔

اعظم شہاب، ممبئی، انڈیا:
زبان ہی کیا، دنیا کی کوئی چیز بھی اگر رُک جائے تو اس کے زوال کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ بد قسمتی سے اردو زبان پر گزشتہ کئی برسوں سے حد درجہ زوال تاری ہے، جس کا نتیجہ یہ سامنے آ رہا ہے کہ اردو زبان اپنی تمام تر شیرینی کے باؤجود تنگیِ دامن کی شکایت کر رہی ہے۔ اب ایک لفظ ’چیلینج‘ ہی کو لے لیجیئے، اردو زبان میں اس کے مترادف کئی لفظ مل جائیں گے، لیکن اس لفظ کے تمام تر گوشوں کو اجاگر کرنے کی صلاحیت اردو کے کسی لفظ میں نہیں ہے۔ ’سٹیج‘ بھی ایک ایسا لفظ ہے، جو ہے تو انگلِش کا لفظ مگر اردو میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن از خود اردو اس کا متبادل دینے سے قاصر ہے۔ اردو کی نئے سرے سے درجہ بندی میرے خیال میں بہت ضروری ہے اور یہ کام انڈیا اور پاکستان کو مشترکہ طور سے کرنا چاہیئے۔

پرویز بلوچ، بحرین:
ہم گاڑی والے اردو بولتے ہیں۔ جب اردو لیاری سے نکل کر بہار کالونی جائے اور کچھ دیر مہاجر کیمپ میں رک کر پنجاب کالونی کے لیے روانہ ہو اور وہاں سے بنارس، لالو کھیت، گولی مار، ساندھےپادھا، ملیر سے ہوتے ہوئے صدر میں آ کر رکے تو اس گاڑی میں کتنے نئے اور پرانے لفظ ملیں گے جو ہم روزانہ بولتے ہیں، مگر اسے کوئی اردو دان اہل زبان شاید قبول نہ کریں۔

کمال احمد منصور، فیصل آباد، پاکستان:
اردو پہلے کون سی ڈِکشنری کے سہارے چل رہی ہے۔۔۔ہاں البتہ یتیم کے سر پر جتنے ہاتھ ہوں اتنے ہی بہتر ہیں۔

قمر جاوید، فیصل آباد، پاکستان:
میں اس سے بالکل متفق ہوں کہ اردو زبان میں ترقی رک چکی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ انگلش زبان کا ہے۔ جب سے کمپیوٹر نے پاکستان میں شہرت پائی اردو زبان ختم ہوتی ہوتی گئی۔ میں ایک پوئٹ ہوں، اس نقطے سے مجھے اردو زبان کی ترقی رکی ہوئی دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ نئے لفظوں میں کئی لفظ ہیں اب کن کن کا ریفرنس دیں؟ میں کمپیوٹر انجینئر بھی ہوں۔ اب آپ کمپیوٹر کا ہر لفظ اردو میں نہیں پڑھ سکتے۔ انڈیا اس لحاظ سے آگے ہے۔

ریاض فاروقی، دبئی:
جو چیزیں بھی انسان کی بنائی ہوئی ہیں ان میں تبدیلی یا ترقی ممکن ہے۔ اردو زبان ہو یا کوئی اور زبان، ٹائم گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ الفاظ کا استعمال ترک ہوتا ہے، کچھ نئے الفاظ آ رہے ہیں، جیسے انڈیا میں ایک لینگویج آ گئی ہے جس کو ’ہنگلِش‘ کہتے ہیں، آدھی ہندی اور آدھی انگلِش۔ تو ایسا ممکن ہے دو زبانیں مل سکتی ہیں مستقبل میں۔

جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان:
یہ دور آئی ٹی کا دور ہے اور ہم روز مرہ گفتگو میں بہت سے ایسے الفاظ بولتے ہیں جو کہ انگلِش اور اردو دونوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً ’چیٹ‘ کا لفظ ہم بہت یوز کرتے ہیں۔ اسی طرح ’ای میل‘ کو بھی اس لِسٹ میں شامل کرنا چاہیئے۔ اسی طرح ’لو‘ کو بہت استعمال کیا جاتا جب کہ اس کا اصل لفظ یعنی ’محبت‘ عام طور پر یوز نہیں ہوتا۔ اسی طرح ’ویب سائٹ‘ کو بھی بہت استعمال کیا جاتا ہے۔

فرقان حسنین، کراچی، پاکستان:
ہم اردو بولتے کب ہیں جو اس میں نئے الفاظ کو آنا چاہیئے؟ ہر بات پر انگلِش۔۔ جب ہم جذبے کی جمع کو جذبات کی بجائے جذباتوں بولیں گے۔۔۔اس ٹی وی نے اردو کا ستیاناس کر دیاہے۔

عمران، امریکہ:
اردو زبان غیر سرکاری طور پر ہر انگلِش سلینگ اور ٹیکنیکل ٹرم کو اپنا لیتی ہے۔ یقین نہ آئے تو کسی پاکستانی چینل کو دیکھ لیں۔ بس ذرا ڈکشنری اپ ڈیٹ نہیں کی جا رہی، ورنہ اردو کا ارتقاء کافی تیز ہے۔

سبیل منیری، پاکستان:
میں کسی بھی موضوع پر اپنی رائے نہیں دوں گا کیونکہ آپ میری رائے شائع نہیں کرتے۔

طاہر اقبال چودھری، جاپان:
اردب اس وقت کی مکمل ترین زبان ہے دوسری زبانوں کے مقابلے میں۔ فی الوقت اس میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ مثال کے طور پر جاپانی زبان میں ’ل‘ نہیں ےہ۔ ’ل‘ کی بجائے ’ر‘ بولا جاتا ےہ۔ سکھوں کی زبان میں ’ز‘ کو ’ج‘ بولتے ہیں۔ اردو میں دوسری زبانوں کے مقابلے میں پہلے ہی زیادہ ایلفابیٹ ہیں۔

66آپ کی رائے
مائیکل جیکسن کیس اور اس کی میڈیا کوریج
66آپ کی رائے
کشمیری رہنماؤں کے موقف میں تبدیلی
66آپ کی رائے
جنوبی ایشیا میں گرمی کی لہر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد