 |  سیاہی کچا نکلنے کے الزامات |
افغانستان کے صدارتی انتخابات میں عبوری صدر کرزئی کے مدمقابل امیدواروں نے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے اور نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مخالف امیدواروں نے یہ اعلان انتخابات میں استعمال ہونے والی ان مٹ سیاہی کے ناقص ہونے کی شکایت موصول ہونے کے بعد کیا گیا۔ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان اٹھارہ میں سے پندرہ امیدواروں نے کیا جب کے دو امیدوار پہلے ہی دستبردار ہو چکے ہیں۔ اس بائیکاٹ کے انتخابات کے نتائج پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا اب انتخابات کی کوئی قانونی حیثیت رہ جائے گی؟ کیا مستقبل میں ایک افغان حکومت کا قیام بحران کا شکار ہوسکتا ہے؟ اگر آپ افغان ووٹر ہیں تو آپ کا دن کیسا گزرا؟ کیا آپ کو اپنا ووٹ دینے میں کوئی دقت پیش آئی؟ اپنی رائے اور تجربات ہمیں لکھ بھیجیں۔
یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
نوٹ: بعض تکنیکی وجوہات کی وجہ سے کچھ قارئین کی آراء کی اشاعت میں تاخیر ہوئی جس کی لیے ادارہ معذرت خواہ ہے۔
ملیحہ امبر، ربوہ، پاکستان: ہم کیا بتا سکتے ہیں مسلمانوں کا خدا تو بُش ہے، وہی ان کی قسمت کا فیصلہ کر رہا ہے آج کل۔ اسی سے پوچھ لیں۔ صوبیہ شکیل، روچسٹر، امریکہ: یہ وہ ملک ہے کہ جہاں تاریخ میں شاید پہلے انتخابات ہوئے ہیں۔ بائیکاٹ تو بہت ہی معمولی بات ہے، شکر کریں بندوقیں نہیں چلیں۔ علی عمران شاہین، لاہور،پاکستان: میں تو حیران ہوں کہ کرزئی کے مقابلے میں دوسرے امیدوار سامنے ہی کیوں آئے۔ ساری دنیا کو نتائج سے پہلے ہی پتا ہے۔ اب طالبان کے لیے حمایت بڑھے گی اور امریکہ کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو گا۔ منظور احمد بانیان، اسلام آباد، پاکستان: یہ بہت افسوسناک صورتِ حال ہے۔ اگر امریکہ کرزئی صاحب کو صدر بنانا چاہتا ہے تو اس میں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ علینہ طاہر، ٹورانٹو، کینیڈا: کیا انتخابات میں صرف انمٹ سیاہی ہی ناقص تھی؟ افغانستان کو ایک حق پرست منتظم کی ضرورت ہے، مگر یہ ان انتخابات سے تو حاصل نہیں ہوگا۔ محمد صفاد، جرمنی: افغان قوم پر ظلم اب مذید بڑھ جائے گا۔ حمزہ اوین، ربوہ، پاکستان: ہماری حالت پر تو اب خدا کو بھی ترس نہیں آتا کیونکہ ہمارا خدا پر یقین کم ہے اور بش پر زیادہ۔ بینش صدیقہ، کراچی، پاکستان: یہ انتخابات تو ویسے بھی ایک ڈرامہ ہی تھے اور اب باس کا ثبوت بھی مل گیا ہے۔ امریکہ جو بھی کھیل کھیلتا ہے اس کا پول فوراً کھل جاتا ہے۔ مبارز احمد، شہدادپور، پاکستان: ان انتخابات کی کوئی قانونی حیثیت تھی اور نہ ہی ہو گی۔ جاوید اقبال ملک، لاہور، پاکستان: افغانستان کو آج تک کوئی مخلص رہنما نہیں ملا، جو بھی ملا بےوفا ملا۔ عدیل امتیاز، ریڈنگ، برطانیہ: بائیکاٹ کا کوئی فائدہ نہیں، منافقوں کی مرضی چلے گی۔ سعدیہ ظفر، ٹورانٹو، کینیڈا: یہ بھی اچھی بات ہے کہ سیاہی پہلے ہی کچی نکلی ورنہ اگر انتخابات کے بعد میں لیڈر کچے نکل آتے تو پھر بائیکاٹ کا کوئی فائدہ بھی نہ ہوتا۔
 |  میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ملک پر خدا کا عذاب ہے اور یہ اس دن سے شروع ہوا ہے جب سے ہمارے بزرگوں نے اپنے اقتدار کے لیے بے گناہوں کو شہید کروانا شروع کیا۔  میرخان، امریکہ |
شاہدہ اکرم، ابوظبی، متحدہ عرب امارات: جیسا کہ میں نے پہلے بھی لکھا تھا، ہو گا وہی جس کا اوپر سے فرمان آئےگا۔اور فرمان یہی تھا کہ کرزئی کی کرسی کو بچانا ہے۔ بائیکاٹ بھی ایک ڈھونگ تھا اور اس کا مقصد بھی کرزئی صاحب کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ جب سب کچھ وہی ہونا تھا جس کا حکم اوپر سے آیا تھا تو پھر اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ شہلا اظہر، ٹورنٹو: اب ہماری رائے کی کیا ضرورت ہے۔ چلے گی تو بش صاحب کی رائے ہی۔ سب ان کے حکم پر سجدہِ شکر بجا لائیں گے ہمیشہ کی طرح۔ عمر خان، فلاڈیلفیا، امریکہ: افغانستان میں انتخابات کا ہونا ہی ایک اچھا عمل ہے۔ جو دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں، ان کے جیتنے کا کوئی امکان ہی نہیں تھا۔ اگر دس بار انتخابات ہوں گے تو بھی ہارنے والے دھاندلی کا الزام ہی تراشیں گے۔ میر خان، امریکہ: میں اگرچہ امریکہ میں رہتا ہوں لیکن افغانی ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ملک پر خدا کا عذاب ہے اور یہ اس دن سے شروع ہوا ہے جب سے ہمارے بزرگوں نے اپنے اقتدار کے لیے بے گناہوں کو شہید کروانا شروع کیا۔ جب نیک لوگوں کا وجود اٹھ جائے تو تباہی ہی مقدر ہوتی ہے۔ اس لیے افغانستان کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ ظلِّ ہما، شہدادپور، پاکستان: جناب افغان مزید کیا بحران کا شکار ہوں گے۔ رہی بات حکومت کی تو وہ تو آپ بی بی سی والے بھی کافی سمجھدار ہیں۔ سپن گل، مالاکنڈ ایجنسی، پاکستان: اگلے سو برس تک افغانستان میں جمہوریت اور امن کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ایمن سہیل، ٹورنٹو: ہوگا کیا، کچھ بھی نہیں۔ انتحاب ہوں گے، کرزئی صدر بنیں گے اور جب تک امریکہ کی مانیں گے تو چلیں گے، ذرا بھی نخرہ دکھایا تو دہشت گرد قرار پائیں گے۔ کرن جبران، واٹرلو، کینیڈا: افغانستان کے لوگ اب مزید بحران کا کیا شکار ہوں گے جن پر اتنی مشکلیں پڑی ہیں کہ آساں ہوگئیں۔ عرفان عنایت، پاکستان: یہ عالمی استعمار کے خلاف ایک ردِّعمل ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ اس کا کوئی خاص فائدہ ہوگا۔ امریکہ اور کرزئی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ میڈیا ان کے ساتھ ہے اور یہ میڈیا کا دور ہے۔  | جیکو ڈاھڈو، سو گابو  الیکشن کی کون سی آئینی حیثیت ہے؟ سندھ میں کہتے ہیں کہ جیکو ڈاھڈو، سو گابو یعنی جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔  غلام فرید شیخ، گمبٹ، سندھ |
غلام فرید شیخ، گمبٹ، سندھ: الیکشن کی کون سی آئینی حیثیت ہے؟ سندھ میں کہتے ہیں کہ جیکو ڈاھڈو، سو گابو یعنی جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ جس کو جو مل رہا ہے، دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ عبدالولی، امریکہ: افغانستان کے انتخابات خطے اور افغان قوم کےلئے بہت اچھی خبر ہیں۔ سیاہی کے کچے ہونے کے باوجود انتخابات انتہائی پرامن ماحول میں منعقد ہوئے۔ بائیکاٹ کا انتخابات کی قانونی حیثیت پر کچھ اثر نہ ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ یہ صرف ایک تیکنیکی مسئلہ ہے اور ایسے مسئلے کہیں بھی پیش آسکتے ہیں۔ ملک میں امن واستحکام لانے کے لیے تمام امیدواروں کو نتائج قبول کرکے ایک مثبت راستے پر جمہوریت کا آغاز کرنا چاہیے۔ بدر عربی، کینیڈا: رائے دینی بیکار ہے کیونکہ اب امریکہ اور یورپ کو اس میں کوئی دھاندلی نظر نہیں آئے گی۔ وہ جو چاہتے ہیں وہ اسی طرح حاصل ہوسکتا ہے۔ محمد محسن جاوید، مونٹریال، کینیڈا: کچی سیاہی سے لکھ دے میرے دل پر اپنا نام علی رضا چوہدری، اسلام آباد، پاکستان: باقی لوگ جو مرضی آئے کرلیں ہونا وہی ہے جو امریکہ او اس کے اتحادی چاہیں گے۔ بائکاٹ صرف ان کے ارادوں کو مزید تقویت دے گا۔ سمیع اللہ خان، برطانیہ: یہ صرف ایک بہانہ ہے کیونکہ انہیں اپنی ہار کا معلوم ہے۔ افعانستان کے عوام سو فیصد کرزئی کے ساتھ ہیں۔ جو لوگ طالبان کی حمایت کرتے ہیں میں ان سے پوچھتا ہوں کہ وہ اپنے ملک میں طالبان کی حکومت کیوں نہیں قائم کر لیتے؟ جو کہتے ہیں کہ ہم امریکہ کے غلام ہیں یہ ان کا خیالِ خام ہے۔ ہم پانچ ہزار سال سے آزاد ہیں اور ہمیں اپنی آزادی کے لیے مرنا آتا ہے۔ جو یہ کہتے ہیں انہیں اپنا سوچنا چاہیے کہ انہوں نے انگریزوں کی غلامی میں تین سو برس گزارے ہیں۔ عمیر حسین، پشاور، پاکستان: افغان حکمران بھی سیاہی کی طرح ہی کچے نکلیں گے۔ واقف سنگھ، حیدرآباد، پاکستان: اب تو بعض امیدواروں نے اپنا فیصلہ بھی واپس لے لیا ہے۔ عجیب بات ہے، بغیر سوچے سمجھے اتنا بڑا فیصلہ کرنا اور پھر واپس لے لینا۔ اس سے ظاہر ہے کہ کرزئی کے مقابل لوگوں کو پتہ تھا کہ ان کی دال نہیں گلنے والی۔ باقی پاکستانی سیاست کے اثرات افغان سیاست پر صاف نظر آتے ہیں۔ |