BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 06 February, 2004, 12:24 GMT 17:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماسکو دھماکہ: سوال پوچھیں
ماسکو کی زیر زمین ریل
ماسکو کی زیر زمین ریل
روس کے دارالحکومت ماسکو کی زیرزمین ریل میں ہونیوالے دھماکے میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس زیرزمین ریلوے سے روزانہ نوے لاکھ لوگ سفر کرتے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس دھماکے میں چیچنیا کے علیحدگی پسند باغی ملوث ہیں۔ لیکن ماضی میں چیچنیا یا دارالحکومت ماسکو میں چیچن علیحدگی پسندوں نے خودکش حملے کیے ہیں۔ چیچنیا میں روسی حکمرانوں کے خلاف لڑنے والے یہ علیحدگی پسند مسلمان ہیں۔

چیچنیا کے مسائل اور ماسکو میں حالیہ مہینوں میں ہونیوالے خودکش حملوں کے بارے میں بی بی سی روسی سروِس کے صحافی ارتیوم لِس آپ کے سوالوں کا جواب دیں گے۔ آپ اپنے سوال بھیجیں۔

آپ کے سوالات، ارتیوم لِس کے جوابات

آپ اپنے سوالات انگریزی، اردو یا roman urdu mein bhej sakte ہیں


احسن، کراچی: چیچنیا کے تنازعے کے حل میں اقوام متحدہ کیوں نہیں شامل ہوتا؟ اس مسئلے پر امریکہ اور برطانیہ کیوں خاموش ہیں؟

ارتیوم لِس: کچھ چیچن رہنما اس مسئلے کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی شرکت چاہتے ہیں۔ لیکن اس میں دو رکاوٹیں ہیں: ایک تو چیچنیا میں یہ مشکل ہے کہ کس سے بات کی جائے؟ کیونکہ جو باغی چیچن رہنما اقوام متحدہ کی شرکت چاہتے ہیں ان کا انتہا پسند گروہوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے، ساتھ ہی روس یہ کہتا رہا ہے کہ یہ مسئلہ اس کا داخلی معاملہ ہے اور کوئی بیرونی طاقت اس میں مداخلت نہ کرے۔ امریکہ اور برطانیہ روسی حکومت کے سخت رویے پر تنقید کرتے رہے ہیں لیکن کوئی سخت قدم اٹھانے سے کتراتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ واشنگٹن اور لندن دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں روسی کی حمایت چاہتے ہیں۔


ثاقب احمد، بہار، انڈیا: چیچنیا کی کل آبادی کتنی ہے، اور اس میں مسلمانوں کی آبادی کتنی ہے؟ روس نے چیچنیا پر قبضہ کب کیا؟ اور کون سے ممالک اور ریاستیں چیچنیا کی ہمسایہ ہیں؟

ارتیوم لِس: چیچنیا کی آبادی دس لاکھ افراد سے کچھ زیادہ ہے جن میں سے ستانوے فیصد مسلمان ہیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمان صرف پچہتر فیصد ہیں۔ چیچنیا شمالی قفقاز کے علاقے میں واقع ہے اور اس کی سرحدیں روس، آذربائیجان اور جارجیا سے ملتی ہیں۔ چیچنیا انیسوی صدی عیسوی میں ایک طویل جنگ کے بعد روسی سلطنت کا حصہ بنا۔


پرویز بلوچ، بحرین: مغربی ممالک ایسے معاملات میں مسلمانوں کو ہی مورد الزام کیوں ٹھہراتے ہیں؟

ارتیوم لِس: چیچنیا کے مسئلے سے ملتے جلتے تمام دیگر معاملات کا جواب تجویز کرنا بلا شبہہ ایک مشکل کام ہے۔ تاہم چیچنیا کے چند انتہا پسند گروہ اس جنگ کو جہاد کا نام دیتے آئے ہیں اور ان کے سربراہان کی جانب سے ویڈیو پر جاری کردہ تمام بیانات کے پس منظر میں سبز جھنڈے لہراتے نظر آتے ہیں۔ انیس سو چھیانوے سے نناوے تک چیچنیا عملی طور پر ایک آزاد ملک تھا اور چیچنیا میں شرعی قانون نافذ تھا، جس کی وجہ سے وہاں جاری جنگ کو ہمیشہ مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان ایک جنگ قرار دیا گیا۔ اس دوران روسی حکومت یہ کہتی رہی کہ روس ایک کثیرالثقافتی ریاست ہے اور چیچنیا میں موجود انتہا پسند، عام مسلمان نہیں، اس کے دشمن ہیں۔


اظفر خان، ٹورانٹو: روس نے چیچنیا پر کب قبضہ کیا؟ روس مقامی لوگوں کو خود مختار کیوں نہیں بناتا؟

ارتیوم لِس: انیسویں صدی میں جب روسی بادشاہ زار قفقاز کے پہاڑوں پر کنٹرول کررہا تھا اس وقت اسی چیچنیا پر بھی قبضہ کیا گیا۔ انیس سو چورانوے سے چھیانوے کے دوران ہونیوالی دورجدید کی چیچن لڑائی کے بعد چیچنیا عملی طور آزاد ہوگیا۔ لیکن جلد ہی وہاں انتہا پسندوں نے اقتدار پر کنٹرول کرلیا اور اس دوران منشیات کی تجارت، لوگوں کو یرغمال بنانا، کچھ مقامی لوگوں کے لئے پیسہ کمانے کا ذریعہ تھا۔ انیس سو ننانوے میں چیچن جنگجوؤں نے پڑوسی جمہوریہ داغستان کو بھی چیچنیا سے منسلک کرلیا۔ اس کے بعد ماسکو میں فلیٹوں میں ہونیوالے بم دھماکوں کے نتیجے میں دو سو سے زائد جانیں ضائع ہوئیں جس کا ذمہ دار چیچن چھاپہ ماروں کو ٹھہرایا گیا اور یہ واقعہ دوسری چیچن لڑائی کے آغاز کی بنیاد بنا جو اب تک پوری طرح ختم نہیں ہوئی ہے۔


امین نظامانی، ملتان: چیچنیا میں جاری بحران کے لئے صرف چیچنیا کے مسلمانوں کو ہی ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟

ارتیوم لِس: کم از کم گزشتہ چند سالوں کے دوران روسی حکام اس بار پر زور دیتے آئے ہیں کہ یہ لڑائی انتہاپسندوں اور علیحدگی پسندوں کے خلاف ہے، نہ کہ مسلمانوں کے۔ بلکہ صدر ولادمیر پوتن یہ کہتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کی تعلق مذہب سے نہیں ہے۔


ڈاکٹر خورشید عالم ایاز، گجرات، پاکستان: روس چیچنیا کے لوگوں کو آزادی کیوں نہیں دے رہا ہے جو ایک صدی سے جنگ لڑرہے ہیں؟ روسی فوج چھاپہ ماروں سے کیوں نہیں نمٹ پاتی؟

ارتیوم لِس: سن انیس سو چورانوے اور چھیانوے کی لڑائی کے بعد چیچنیا عملی طور آزاد ہوگیا، اور اس وقت چیچن رہنما بہت حد تک یہی چاہتے تھے۔ لیکن جلد ہی یہ بات ثابت ہوگئی کہ چیچنیا کی نئی قیادت وہاں جاری خونی لوٹ مار اور ڈاکہ زنی پر قابو نہیں پاسکتی۔ انیس سو نناوے میں چیچن چھاپہ ماروں کا ایک گروہ چیچنیا کے علاقے سے گزرتا ہوا روسی جمہوریۂ داغستان میں داخل ہوگیا۔ بہت سے روسیوں کا کہنا ہے کہ اگر چیچنیا کو آزاد کردیا جاتا ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ یہ واقعہ پھر دہرایا جائے گا۔ اس کے باوجود کہ باغیوں کے موجودہ رہنما وہ سابقہ لیڈروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اعتدال پسند ہیں، خوف کا ایک عنصر بدستور قائم ہے۔ کئی وجوہات کی بنا پر چیچنیا میں روسی فوج کو قدرے تھوڑی کامیابی ملی ہے، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ روسی فوج کی حالت خستہ ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کئی فوجی اور افسران کے ظالمانہ برتاؤ کے باعث اتنہا پسندوں کے ساتھ شامل ہونیوالے چیچن باشندوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔


رابعہ نظیر، ناروے:آپ کو نہیں لگتا کہ ماسکو کی زیرزمین میں دھماکوں کے پیچھے روسی حکومت کا ہاتھ ہے کیونکہ ولادمیر پوتن صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

ارتیوم لِس: صدر پوتن کے بہت سے مخالفین نے یہ موقف اختیار کیا ہے۔ ان مخالفین کا کہنا ہے کہ ولادمیر پوتین اس نعرے کے بعد جیتے تھے کہ وہ دہشت گردوں سے سختی سے نمٹیں گے تاکہ یہ مسئلہ ختم ہوجائے۔ پوتن نے اس طرح کے انتخابی وعدے اپارٹمنٹ میں ہونیوالے دھماکوں کے بعد کیے تھے۔ ان دھماکوں کے لئے روسی حکام چیچن باغیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں۔ لیکن پوتن کے مخالفین ان دھماکوں کے لئے سیکیورٹی انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ مخالفین یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ خفیہ پولیس پوتن کو صدر بنانے کے لئے پریشان تھی کیونکہ وہ سابق انٹیلیجنس ایجنسی کے جی بی کے سابق سربراہ رہے ہیں۔ صدراتی انتظامیہ ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔


ناظم شیخ، ممبئی، انڈیا: کس کی غلطی کی وجہ سے معصوم روسی مارے جارہے ہیں؟

ارتیوم لِس:کئی لوگ اس کا جواب مختلف طریقوں سے دیتے ہیں۔ تین جواب دیکھنے میں آئے ہیں۔ ایک، روسی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے رشتہ داروں کا بدلہ لینے کے لئے بعض لوگ حملے کررہے ہیں۔ دو، چیچن انتہا پسند آزاد ریاست کے قیام کے لئے حملے کررہے ہیں۔ تین، بین الاقوامی دہشت گرد گروہ بھی ان حملوں میں ملوث ہیں۔


ارشد رحمان، ٹیکسس، امریکہ: امریکہ اور اس کے اتحادی عراق میں طاقت کے ذریعے آزادی اور جمہوریت فروغ دے رہے ہیں۔ چیچنیا میں کیوں نہیں؟

ارتیوم لِس: صدام حسین کا عراق بین الاقوامی سطح پر ایک ’اچھوت ریاست‘ بن گیا تھا جسے صدر بش نے بدی کے محور میں شامل کیا تھا۔ لیکن روس مغربی دنیا کے لئے ایک اتحادی ملک ہے، روس ایسے ممالک کا بھی اتحادی ہے جو مغرب کے خلاف ہیں جیسے ایران اور شمالی کوریا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک اتحادی پر طاقت کا استعمال کرنا سنجیدہ طرز عمل نہیں ہوگا، بالخصوص اس لئے کہ روس ایک ایٹمی طاقت ہے اور عراق سے کئی گنا طاقتور ملک ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور کچھ حد تک یورپی ممالک بھی چیچنیا کو روس کا داخلی معاملہ سمجھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ روسی حکومت خود اسے حل کرے۔


اسد علی، مانسہرہ، پاکستان: چیچن خودکشی پر کیوں اتر آئے ہیں؟

ارتیوم لِس: ایک عام جواب یہ ہے کہ چیچن لوگوں میں مایوسی ہے اور وہ روسی فوج کے ہاتھوں اپنے رشتہ داروں کی ہلاکت کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انتہا پسند اپنے مفاد کی خاطر لوگوں کو خودکشی کی ترغیب دے رہے ہیں۔


عمار فاروق، جھنگ: کیا خودکش حملے دہشت گردی ہیں؟

ارتیوم لِس: یہ سوال پوری دنیا میں پوچھا جارہا ہے۔ لیکن کوئی ایک جواب نہیں ہے جس سے سبھی لوگ مطمئن ہوں۔ لیکن روس میں وہ لوگ بھی جو ایک خودمختار چیچن ریاست کی حمایت کرتے ہیں اس بات پر متفق ہیں کہ معصوم شہریوں پر حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔ بھلے ہی فوجی ٹھکانوں پر ہونیوالے حملوں کے اخلاقی جواز پر بحث جاری رہے۔۔۔


عقیل احمد، جرمنی: چیچن مسئلہ کیا ہے؟ اس کا حل کیا ہے؟

ارتیوم: کچھ چیچن لوگوں اور ان کے رہنماؤں کی آزادی کے لئے خواہش اور روسی حکام کا ارادہ کہ وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے، چیچن مسئلہ کی وجہ ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بہت سی وجوہات ہیں، مثال کے طور پر روس اور چیچنیا کے درمیان تاریخ میں کئی بار فوجی محاذ آرائی ہوئی ہے، چیچن لوگوں کے خلاف کمیونسٹ رہنما اسٹالِن کی سخت کارروائی، وغیرہ۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا کوئی آسان حل نہیں ہے۔ بعض روسی لوگ سمجھتے ہیں کہ انتہاپسندوں سے سختی سے نمٹا جائے جس کے بعد عام لوگوں کے ساتھ پڑوسی کی طرح رہا جاسکتا ہے۔ مغربی تجزیہ کار مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہیں اور باغیوں سے سمجھوتے کے حق میں ہیں۔


نعیم، سعودی عرب: آپ کو لگتا ہے کہ چیچن باغیوں کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ ہے؟ کوئی شواہد؟

ارتیوم: چیچنیا میں القاعدہ کے ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملتے۔ بلکہ بڑے پیمانے پر ایسا سمجھا جاتا ہے کہ کئی باغی رہنما چیچنیا اور روس کے باہر سے آئے، بالخصوص عرب ملکوں سے۔ چیچن باغیوں میں کئی غیرملکی ہیں لیکن ان کی مالی مدد کون کرتا ہے کہنا مشکل ہے۔


ارشد علی، ہنگو، پاکستان: آئندہ چند برسوں میں کیا یہ مسئلہ حل ہوجائے گا؟ کیا خودکش حملے ختم ہوں گے؟

ارتیوم: ایسا لگتا ہے روس اس مسئلے میں پھنستا جارہا ہے اور اس کی فوج اعتماد کے ساتھ اس مسئلے سے نہیں نمٹ سکتی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ خودکش حملے ختم ہونگے یا نہیں، یا پولیس کیا کارروائی کرتی ہے۔ لیکن اتنا ضرور ہوگا کہ اس مسئلے پر عوامی بحث جاری رہے گی، لیکن بیشتر روسی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ملک ان خودکش حملوں کو فوری طور پر ختم نہیں کرسکے گا۔


اپنے عنوانات ہمیں بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد