BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 February, 2004, 13:12 GMT 18:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈاکٹر قدیر: اپنے کیے پر نادم ہوں
قدیر خان
پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سرکاری ٹیلی وژن پر آ کرجوہری ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے الزامات کا اعتراف کیا ہے اور قوم سے اپنے کیئے کی معافی مانگی ہے۔

انہوں نے کہا:’بہنوں اور بھائیو! میں اپنے کیئے پر بہت نادم ہوں اور صدمے سے دوچار قوم سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔ میں یہ بات بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ان سرگرمیوں کے لئے (جن میں میری شمولیت رہی) حکومت نے کوئی اجازت نہیں دی تھی۔ میں اس کی پوری ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور آپ سے معذرت چاہتا ہوں۔‘

ڈاکٹر قدیر کی قوم سے اپیل
 میں پاکستانیوں سے انتہائی قومی مفاد میں قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مزید کسی طرح کی بھی قیاس آرائیوں سے پرہیز کرے اور قومی سلامتی کے اس انتہائی حسساس مسئلے کو سیاسی رنگ نہ دے
ڈاکٹر قدیر خان

انہوں نے کہا جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے پریشان کن الزامات اور چند شہادتیں پیش کیئے جانے کے بعد جن میں کہا گیا تھا کہ کچھ پاکستانی اور کچھ غیر ملکی گزشتہ دو دہائیوں سے جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہیں، حکومتِ پاکستان نے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

’ان تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ لگائے گئے اکثر الزامات اور بہت سی باتیں درست تھیں اور یہ یقیناً میرے ہی کہنے پر شروع ہوئی تھیں۔‘

انہوں نے کہا کہ تفتیش کاروں نے ان کے سامنے اپنے نتائج اور شہادتیں رکھیں اور ’میں نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ ان میں سے اکثر باتیں سچ اور درست ہیں۔‘

ڈاکٹر قدیر نے کہا ’مجھے علم ہے کہ قومی سلامتی کے لئے میری خدمات کے عوض آپ نے مجھے بہت عزت بخشی ہے اور پیار دیا ہے اور میں ان تمام اعزازات اور ایوارڈز کے لئے جو مجھے عطا کیئے گئے، بہت شکر گزار ہوں۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کا بہت قلق ہے کہ ان کے زندگی بھر کا کارنامہ کہ انہوں نے ملک کو کسی سقم کے بغیر اپنی حفاظت کرنے کے قابل بنایا، خود انہیں کی وجہ سے انتہائی خطرے سے دوچار ہو سکتا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی سرگرمیوں کے پیچھے نیت بری نہیں تھی البتہ ان سے فیصلہ کرنے میں غلطیاں ہوئیں۔

تحقیقات سے کیا پتہ چلا؟
 تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ لگائے گئے اکثر الزامات اور بہت سی باتیں درست تھیں اور یہ یقیناً میرے ہی کہنے پر شروع ہوئی تھیں
ڈاکٹر قدیر خان

انہوں نے کہا کہ ان کا ماتحت عملہ جس نے اس حوالے سے کچھ باتیں تسلیم کی ہیں، بد نیت نہیں تھا بلکہ صرف ان کی (ڈاکٹر قدیر کی) ہدایات پر عمل کر رہا تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے انہیں کبھی بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

انہوں نے پاکستانیوں سے ’انتہائی قومی مفاد‘ میں اپیل کی کہ وہ مزید کسی طرح کی بھی قیاس آرائیوں سے پرہیز کریں اور قومی سلامتی کے اس انتہائی حسساس مسئلے کو سیاسی رنگ نہ دیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد