ایٹمی تنازعہ: وسعت اللہ خان سے سوال پوچھئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سے ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے الزامات اور جوہری پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر سمیت متعدد ایٹمی سائنسدانوں کی حراست کے بارے میں ہمارے صحافی وسعت اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے قارئین کے سوالوں کا جواب دیں گے۔ آپ پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے متعلق اپنے سوالات ہمیں بھیجئے۔
سوال وجواب کا یہ سلسلہ اب بند کیا جاچکا ہے۔ قارئین کے سوالات اور ان کے جوابات نیچے درج ہیں۔ جنید، جرمنی: کیا یہ مسئلہ مشرف کی حکومت ختم ہونے کے بعد دوبارہ عالمی سطح پر اٹھایا جا سکتا ہے؟ وسعت اللہ خان: آپ تو کل کی بات کر رہے ہیں، یہ مسئلہ تو اب بھی بین الاقوامی سطح پر مسلسل زیرِ بحث ہے اور آنے والے دنوں میں اس پر مختلف زاویوں سے مزید روشنی پڑے گی۔ صلاح الدین صالح، چترال: موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں آپ پاکستان کے جوہری پروگرام کے مستقبل کو کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟ وسعت اللہ خان: پاکستان کا جوہری پروگرام اس وقت بین الاقوامی سرچ لائٹ میں ہے اور جلد یا بدیر پاکستان کو بین الاقوامی دباؤ کم کرنے کے لئے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے سے معلومات کے تبادلے اور مربوط بنانا پڑے گا۔ شعیب باجوہ، فیصل آباد: جنرل مشرف نے سوال اٹھایا ہے کہ میڈیا کو ڈی بریفنگ کے معاملے میں ’پاکستان پہلے‘ کو اصول مدِّ نظر رکھنا چاہئے۔ کیا پاکستانی میڈیا اس ضمن میں اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہے؟ کیا میڈیا کو مشرف صاحب کا نقطہِ نظر ٹھیک لگتا ہے؟ وسعت اللہ خان: جب معلومات پوری طرح میسر نہ ہوں تو قیاس آرائیوں اور سنسنی خیزی کے لئے خود بخود جگہ بن جاتی ہے۔ صدر مشرف کا یہ جملہ حکومتی طرزِ عمل کو کافی حد تک سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ اگر فوج کا کوئی آدمی اس میں ملوث ہے تو میڈیا کو قومی مفاد میں اس سے صرفِ نظر کرنا چاہئے۔ عاطف قریشی، لاہور: کیا ڈاکٹر قدیر بے گناہ ہیں؟ وسعت اللہ خان: اس سوال کا جواب حکومتِ پاکستان، ڈاکٹر قدیر اور اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔ اختر نواز، لاہور: گلے میں سرکارِ برطانیہ کے نشری ادارے کا بلا پہن کر کیا آپ کو زیب دیتا ہے کہ آپ پاکستان کے بارے میں اس دردمندی کا اظہار کریں؟ لندن میں بیٹھ کر آپ کو تنکا شہتیر کیوں دکھائی دیتا ہے؟ وسعت اللہ خان: جب سوال میں فیصلہ صادر کر دیا جائے تو اس کا کوئی جواب ممکن نہیں۔ ابو محسن، سرگودھا: سب سے پہلے جوہری ٹیکنالوجی کس ملک نے بنائی اور سب سے پہلے ایٹم بم کا استعمال کس ملک نے کیا؟ کیا کسی سائنسداں نے کبھی اکیلے بم بنایا ہے؟ وسعت اللہ خان: پہلی بار جوہری ٹیکنالوجی کا استعمال امریکہ نے کیا اور پہلا ایٹم بم امریکہ نے گرایا۔ کوئی سائنسداں اکیلا بم نہیں بنا سکتا، اس کے لئے ایک پوری ٹیم درکار ہوتی ہے۔ عباس ہمیہ، ہنزہ: کیا پاکستان کی موجودہ معاشی صورتِ حال دیکھتے ہوئے جوہری پروگرام رول بیک کرنا بہتر نہ ہوگا؟ جتنا پیسہ اس پر خرچ ہو رہا ہے، اسے غریب عوام اور تعلیم جیسے مسئلوں پر خرچ کرنا ہمارے مفاد میں نہ ہوگا؟ وسعت اللہ خان: عوام پر پیسے خرچ کرنے نہ کرنے کا تعلق ایٹمی طاقت ہونے یا نہ ہونے سے نہیں ہے۔ جب اٹمی پروگرام نہیں تھا اس وقت عوام پر کتنے پیسے خرچ ہو رہے تھے۔ عمران محمود، نیوزی لینڈ: اس تمام صورتِ حال کی وجہ سے پاکستان بھارت امن مذاکرات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ وسعت اللہ خان: اب تک تو اس معاملے کا دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے رابطوں پر کوئی اثر نہیں پڑا لیکن فی الوقت کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ آئندہ بھی یہی صورتِ حال رہے گی۔ سید وسیم صابر نقوی، راوالپنڈی: کیا شمالی کوریا کو معلومات فراہم کئے بغیر پاکستان اپنا ڈیلیوری سسٹم بنا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ ایران اور لیبیا سے ان معلومات کے بدلے ملنے والا پیسہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے لئے ضروری نہیں تھا؟ وسعت اللہ خان: آپ نے ایک بنیادی سوال اٹھایا ہے اور ٹھوس شواہد کے بغیر حکومتِ پاکستان کے لئے اسے جھٹلانا مشکل ہوگا۔ مغربی حکومتوں اور بین الاقوامی جوہری ادارے کی سوچ بھی کم و بیش انہی خطوط پر دکھائی دیتی ہے۔ فرحان راجپوت، پاکستان: بھارت اور اسرائیل نے بھی تو جوہری طاقت کسی سے حاصل کی اور افریقی ممالک نے بھی۔ پھر پاکستان کو ہی کیوں بدنام کیا جا رہا ہے؟ وسعت اللہ خان: بین الاقوامی تعلقات میں دو اصول چلتے ہیں۔ پہلا اصول ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس اور دوسرا اصول ہے ’جسے پیا چاہے وہی سہاگن‘۔ شہزاد احمد، کشمیر: کیا قدیر خان کا اعتراف حقیقی ہے یا کسی دباؤ کا نتیجہ؟ وسعت اللہ خان: کہا یہ جا رہا ہے کہ اتنا بڑا کام انفرادی طور پر نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ڈاکٹر قدیر خان کا اعتراف رضاکارانہ ہے یا جبر کا نتیجہ، اس کا فیصلہ آزادانہ تحقیقات کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ لیکن پاکستان کی سیاسی اور سرکاری تاریخ میں آزادانہ تحقیقات کی مثالیں کم ہی نظر آتی ہیں۔ نعمت، ہنگو: کچھ لوگ قدیر خان کی دیانت داری پر شک کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ کبھی غیر دیانت داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اگر انہوں نے کوئی پیسہ بنایا بھی ہے تو پچھلی کئی دہائیوں سے بہت سے لوگ ایسا کر رہے ہیں۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ وسعت اللہ خان: آپ کے جذبات اپنی جگہ لیکن اگر کسی نے چوری کی ہو تو اس بات کو چوری کے جواز کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مسعود احمد، حیدرآباد: پاکستان کے جوہری پروگرام کی تفصیلات کیا ہیں؟ وسعت اللہ خان: یہ سوال تفصیلی جواب مانگتا ہے اور اس سلسلے میں کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ سید امام، کینیڈا: میں مختصر سوال پوچھ رہا ہوں لیکن بعد میں تفصیل سے پوچھوں گا۔ اس حکومت نے سکولوں سے سائنسدانوں کی تصاویر ہٹانے کا حکم کیوں دیا ہے؟ کیا وہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کے آئیڈیل سائنسدانوں کے بجائے اداکار اور کھلاڑی بنیں؟ وسعت اللہ خان: یہ ہمارے لئے اطلاع ہے کہ سائنسدانوں کی تصاویر ہٹائی جا رہی ہیں۔ کیا اس بارے میں آپ مزید تفصیلات بتا سکتے ہیں؟ مظہر قیوم، ساہیوال: کیا اتنی سخت نگرانی اور حفاظتی اقدامات میں یہ ممکن ہے کہ ایک تنِ تنہا آدمی یہ کام سر انجام دے جائے؟ وسعت اللہ خان: کئی لوگ یہی سوال پوچھ رہے ہیں۔ فدا محمد، نیو یارک: میرا خیال ہے کہ کامران خان کی رپورٹ کے نتیجے میں مشرف اور قدیر ملاقات کروائی گئی۔ یہ کام مشرف نے اپنی عزت نفس اور وقار مجروح ہونے سے بچنے کے لئے کیا۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ وسعت اللہ خان: ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو۔ لیکن اس مرحلے پر اکثر چیزیں غیرواضح ہیں۔ عبید سائیں، امریکہ: اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام رول بیک ہونے والا ہے۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ، اسراییل اور بھارت کے پاس پاکستان کی جوہری لیبارٹریوں پر حملے کا جواز موجود ہے یا اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری پاکستان کو اس پروگرام کے خاتمے کے لئے مجبور کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے اس میں فائدہ بھارت کا ہی ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ وسعت اللہ خان: جنرل پرویز مشرف نے بھی اسلام آباد میں ایڈیٹروں سے ملاقات کے دوران اسی خدشے کا اظہار کیا ہے۔ ضیاء المصطفیٰ گوندل، راوالپنڈی: آپ کے خیال میں اس تنازعے سے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا اور کیا اس وجہ سے پاکستان کی ریسرچ تو متاثر نہیں ہوگی؟ وسعت اللہ خان: اس بات کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ پاکستان جوہری توانائی کے عالمی ادارے کو مطمئن کر پاتا ہے یا نہیں۔ اس کا خاصا امکان ہے کہ پاکستان مستقبل قریب میں اپنی نیک نیتی کے ثبوت کے طور پر جوہری عدم پھیلاؤ عالمی معاہدے این پی ٹی پر دستخط کر دے۔ ضیاء، راولپنڈی: جو کچھ ہوا اس سے میں ہونے والی بدنامی کے نتیجے میں کیا امریکہ یا اس کے اتحادی کوئی ایکشن لے سکتے ہیں اور کیا؟ وسعت اللہ خان: پاکستان کے خلاف اقدامات کا دارومدار بہت حد تک اس بات پر ہے کہ مغربی دنیا اور پاکستان کے مفادات کب تک ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ چوہدری جمیل احمد خان، کمالیہ: آپ کیا کہتے ہیں کہ ڈاکٹر قدیر کا خطاب ان کے اور حکومت کے درمیان کوئی خفیہ سمجھوتہ ہے؟ وسعت اللہ خان: لگتا تو ایسا ہی ہے لیکن اب یہ خفیہ کہاں رہا۔ زرتاشیہ فیصل، متحدہ عرب امارات: اب جب کے ڈاکٹر صاحب نے قبول کر لیا ہے تو آپ کے خیال میں پاکستان کا ایک جوہری ریاست کے طور پر مستقبل کیا ہے؟ ذرا تفصیل سے بیان کیجئے۔ وسعت اللہ خان: پاکستان کو ظاہر ہے کہ اب اپنی جوہری صلاحیتوں کے تناظر میں پہلے سے زیادہ پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑے گا اور اگر باہر کی دنیا پاکستان کے اس مؤقف کو پوری طرح تسلیم نہیں کرتیں کہ اس کا جوہری پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے تو پاکستان پر کئی طرح کے دباؤ پڑ سکتے ہیں۔ نذیر احمد نظامانی، ٹنڈو آدم خان: آپ کے خیال میں کیا ڈاکٹر قدیر صاحب اس عید پر کسی جنرل صاحب کے لئے قربان ہو گئے ہیں؟ وسعت اللہ خان: یہ خیال صرف آپ کا نہیں، بے شمار لوگوں کا ہے اور حکومت کی جانب سے جب تک اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات نہیں ہوتی یہ سوال پوچھا جاتا رہے گا۔ مختار خوار، جرمنی : آج جو پاکستانی جوہری پروگرام اور اس کے سائنسدانوں کے ساتھ ہورہا ہے کیا یہی کچھ بھارتی پروگرام اور سائنسدانوں کے ساتھ بھی ممکن ہے؟ وسعت اللہ خان: دونوں پروگراموں کی نوعیت اور تاریخ مختلف ہے لہٰذا اس سلسلے میں ہندوستان اور پاکستان کا موازنہ ممکن نہیں ہے۔ ڈاکٹر عبدالمجید، فیصل آباد: میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا مشرف کی بھی کبھی ڈی بریفنگ ہو سکے گی؟ وسعت اللہ خان: اس کا جواب تو آنے والی کوئی حکومت ہی مناسب طور پر دے سکے گی۔ یاسین محمود، سپین: میرے خیال کے مطابق ڈاکٹر قدیر بے گناہ ہیں اور حکومت برابر ملوث ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ وسعت اللہ خان: حکومتِ پاکستان کے علاوہ ہر ادارہ اور شخص کم و بیش اسی طرح سوچ رہا ہے۔ قدوس ہاشمی، برطانیہ: جوہری معاملات جیسے اہم کام میں فوج کی نگرانی نہ ہو، یہ سمجھ نہیں آتی۔ اتنا بڑا کام ہو جائے اور فوج یا آئی ایس آئی کو پتہ نہ چلے، یہ نہیں ہو سکتا۔ یہ سب ان کا اپنا کام ہے اور پھنسایا سویلین کو جا رہا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟ وسعت اللہ خان: آپ کی اس رائے کا جواب یہی ہو سکتا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جائے بلکہ اس میں ہر متعلقہ ایجنسی اور فرد کو شامل کیا جائے۔ ہوسکتا ہے کہ حکومتِ پاکستان کو جلد یا بدیر یہی کرنا پڑے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||