وسعت اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر دنیا پاکستان کے بی اے ایل ایل بی وزیرِ قانون محمد وصی ظفر کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہے؟ وصی صاحب پنجاب کے شیرہیں۔ شیر جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے خواہ وہ انڈے دے یا بچے۔ ویسے بھی ہمارے جیسے ملکوں میں وزیرِ قانون صرف وزیر نہیں ہوتا بلکہ خود قانون ہوتا ہے۔ سو اگر انہوں نے کسی وقت اسلام آباد کے کسی ہوٹل میں کھانا دیر سے لانے والے بیرے کی سب کے سامنے پٹائی کردی تو کیا غلط کیا؟ اگر وزیرِ قانون کے بانکے بیٹے کے کراچی ائیرپورٹ کے لاؤنج میں لگی قطار کو توڑنے کی کوشش پر کسی پاگل مسافر نے اعتراض کر ڈالا اور جس کے جواب میں وزیرِ قانون کے بیٹے نے اس کا تھوبڑا سُرخ کر دیا تو پھر کیا ہوا؟ اس پس منظر میں اگر وصی ظفر صاحب وائس آف امیرکہ سے بات کرتے ہوئے ’لانگ آرم آف دی لاء‘ کے محاورے کو ’بانہہ پانا‘ سمجھ بیٹھے اور انہوں نے کہہ دیا کہ جس نے یہ بات کی ہے میں اس کے خاندان میں ’بگ آرم‘ ڈال دوں گا، تو کون سی قیامت آگئی۔ یہ تو بہت زیادتی ہے کہ فلمی ہیرو اگر بڑھک مارے کہ ’اوئے میں پھٹیاں بھن دیاں گا، ٹوٹے ٹوٹے کردیاں گا‘ تو ہم سب مل کر واہ واہ کرتے ہیں لیکن اگر کوئی وزیرِ قانون یہ کہے کہ ’میں بانہہ پا دیاں گا‘ تو ہمیں برا لگتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ وزیرے قانون نے یہ محاورہ بطور گالی استعمال کیا ہے۔ پرانے زمانے میں چھوٹے شہروں اور قصبوں میں لکڑی کے بڑے بڑے کیمرے عام ہوا کرتے تھے۔ فوٹو گرافر کو تصویر کھینچنے کے لیے کیمرے کے پیچھے لٹکے ہوئے کالے کپڑے کے نیچے منہ چھپا کے بازو ڈالنا پڑتا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ وصی ظفر صاحب نے اپنے آبائی قصبے جڑانوالہ میں یہ منظر ضرور دیکھا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ اسی مشاہدے کی روشنی میں انہوں نے وائس آف ایرکہ پر کہا ہو کہ ’میں بانہ پا دیاں گا‘۔ وصی ظفر صاحب کو اس مسئلے میں حاشدوں کی پرواہ کیے بغیر قانون کے لمبے بازو کو بانہہ فرض کرکے حسبِ منشا استعمال کرتے رہنا چاہیے۔ اس ملک کو ساٹھ برس ہوگئے ہیں، اب تو لوگ بھی عادی ہوگئے ہیں۔ |