BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 July, 2005, 10:49 GMT 15:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پکوان مغلئی اور شیف بنگالی

تندوری چکن
انیس سو اڑتیس تک انگلستان میں صرف چھ انڈین ریستوران تھے۔
اگرچہ ہندوستان میں انگریزوں سے پہلے فرانسیسی ، پرتگالی اور ڈچ آئے لیکن کیا وجہ ہے کہ انڈین فوڈ کو انگریزوں سے اتنی پزیرائی ملی اور دوسری نوآبادیاتی طاقتوں نے اس کا بہت ہی معمولی اثر قبول کیا۔

اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی جاتی ہے کہ دوسری یورپی اقوام کے مقابلے میں انگریزوں پر ہندوستانی دسترخوان کا جادو یوں چل گیا کیونکہ ان کا ہندوستان سے ناطہ کوئی دو سو برسوں پر پھیلا ہوا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ فرانسیسی اپنے پکوانوں کی ندرت پر ہمیشہ نازاں رہے اور بیرونی خوردنی ثقافت کی ہمیشہ مزاحمت کرتے رہے۔ جبکہ ڈچ اور پرتگیزی چونکہ اپنی افریقی اور جنوب مشرقی ایشیائی نوآبادیوں سے گرم مصالحوں کی بہت عرصے سے تجارت کرتے آرہے تھے اس لیے انکے لئے زبان کا چٹخارہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔

لیکن انگریزی دسترخوان پر آلو اور ابلے ہوئے اور روسٹ گوشت کی حکومت رہی اس لیے ہندوستانی مصالحے دار کھانوں نے انہیں ایک نئی لذت سے روشناس کروایا، اور انہیں اس طرح کا جوبھی کھانا ملا اسے انہوں نے کری (مصالحے دار شوربہ) کا نام دے دیا۔

لیکن یہ نظریہ اس حقیقت کے آگے ڈگمگا جاتا ہے کہ کری کی اصطلاح جس کے معنی تامل زبان میں مصالحے دار چٹنی کے ہیں آخر چودھویں صدی کی انگریزی میں کیسے داخل ہوئی جبکہ اس وقت تک اہلِ برطانیہ کا ہندوستان سے کسی قسم کا ناطہ نہیں تھا۔

مثلاً انگلستان کے بادشاہ رچرڈ دوم نے دو سو باورچیوں کو مختلف کھانوں کی تراکیب یکجا کرنے کا کام سونپا۔ ان باورچیوں نے ایک سو چھیانوے تراکیب یکجا کیں جو ’دی فارم آف کری‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔

لیکن جب سن سترہ سو تہتر میں لندن کے پورٹمین اسکوائر میں پٹنہ سے آنے والے دین محمد نے ہندوستان کافی ہاؤس کے نام سے پہلا ریستوراں کھولا تو عام برطانوی ہندوستانی کھانے کے ذائقے سے آشنا ہوا۔ سن سترہ سو اسی میں انگلستان میں کمرشل سطح پر پہلی مرتبہ کری پوڈر متعارف ہوا۔ لیکن تب تک برطانیہ اور ہندوستان کے باقاعدہ تجارتی تعلقات قائم ہوگئے تھے اور ہندوستان جانے آنے والے سپاہیوں، ایسٹ انڈیا کمپنی کے عملداروں اور انگریز اشرافیہ کے لیے کری والے مصالحے دار کھانے کوئی انمول چیز نہیں رہی تھی۔

ملکہ وکٹوریہ کے شاہی خانساماں چارلس فرانکتیلی نے سن اٹھارہ سو چھیالیس میں شائع کردہ اپنی کتاب ’دی ماڈرن کک‘ میں ہندوستانی کری ساس بنانے کی ترکیب بھی شامل کی اور اسی برس مشہور انگریز شاعر ولیم تھیکرے نےاپنی نظموں کے ایک مجموعے ’کچن میلوڈیز‘ میں پوئم ٹو کری کے نام سے ایک نظم تخلیق کی جس میں تھیکرے صاحب بچھڑے کے گوشت کو ہندوستانی انداز کے سالن میں پکانے پر اپنی محبوبہ کے رطب السان نظر آتے ہیں۔

بریانی
’برطانیہ انڈین فوڈ کا دیوانہ ہے‘

اتنی پزیرائی کے باوجود یہ بات قابلِ حیرت ہے کہ انیس سو اڑتیس تک انگلستان میں صرف چھ انڈین ریستوران تھے۔ ان میں سے تین لندن میں اور ایک ایک آکسفرڈ، کیمبرج اور مانچسٹر میں تھا۔ لیکن آج برطانیہ کے طول وعرض میں دس ہزار کے لگ بھگ انڈین ریستوراں ہیں جو انیس سو اسی کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہیں۔ان میں سے نصف کے لگ بھگ لندن میں بتائے جاتے ہیں اور ساؤتھ آل، ویمبلے ، ایلنگ اور مشرقی لندن کے علاقے بروک لین اور اپٹن پارک پہنچ کر یوں لگتا ہے کہ ہر دوسری دوکان مغلئی ، گجراتی، پنجابی یا ساؤتھ انڈین کھانوں کا مرکز ہے۔

لیکن برطانیہ میں انڈین فوڈ انڈسٹری کا سب سے حیرت ناک پہلو یہ ہے کہ تقریباً اسی فیصد ریستورانوں کے مالک یا ان میں کھانا بنانے بنگلہ دیشی نژاد ہیں۔اور ان میں سے بھی نوے فیصد کا تعلق بنگلہ دیش کے صرف ایک علاقے سلہٹ سے ہے۔گویا سلہٹ کی ساری معیشت برطانوی کری کی صنعت سے بندھی ہوئی ہے۔

پکوان مغلئی یا پنجابی مگر ریستوران کا مالک اور شیف بنگالی۔

سہیل خان لندن میں ریستورانوں کی ایک چین ٹیسٹ آف انڈیا کے مالک ہیں۔اب سے تیس برس پہلے ان کے چچا نے انہیں سلہٹ سے بلوا لیا تھا۔

سہیل خان کا کہنا ہے کہ سن پچاس اور ساٹھ کی دھائیوں میں ہندوستان اور پاکستان سے آنے والے زیادہ تر لوگ جسمانی مزدوری، فیکٹریوں میں کام کاج ، محلے کی کارنر شاپ یا ٹیکسی چلانے سے دلچسپی رکھتے تھے۔ کھانے پینے کا شعبہ کم و بیش خالی تھا اس لیے سلہٹ کے لوگ جو اٹھارویں صدی سے ہی انگریز تجارتی جہازوں پر نوکری کرنے کے عادی تھے انہوں نے ریستورانوں کی صنعت میں قدم رکھا اور اسی کی بنیاد پر رفتہ رفتہ سلہٹ سے آنے والے لوگ پہلے سے یہاں موجود رشتے داروں کے ریستورانوں میں کام کرنے کے بعد اسی شعبے کے ہو کر رہ گئے۔

لیکن انڈین ریستورانوں کے کاروبار میں سب کچھ ہی بھلا نہیں ہے۔ کاروبار میں اتنے زیادہ پھیلاؤ کے سبب تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ بنگلہ دیشی کیٹررز ایسوسی ایشن کے سکریٹری اشرف الدین کا کہنا ہے کہ انڈین ریستوران انڈسٹری کو تقریباً بیس ہزار تربیت یافتہ کارکنوں کا خسارہ ہے۔ اور یہ خسارہ اور بڑھےگا کیونکہ برطانوی امیگریشن کا محکمہ تربیت یافتہ باورچیوں کو تین برس سے زیادہ کا ویزا دینے پر تیار نہیں۔

ریستورانوں کے مالکان کی اولاد کو اس شعبے کو اپنا معاشی مستقبل بنانے سے زیادہ دلچسپی نہیں۔ وہ پڑھنے لکھنے کے بعد کاؤنٹر پر کھڑے رہنے اور اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے ریستوراں کی دیکھ بھال کرنے کی بجائے زیادہ بہتر شعبوں میں جانا چاہتے ہیں جبکہ مقامی سطح پر مغربی کھانے کے شیف تیار کرنے کا تو انتظام ہے لیکن انڈین کھانے بنانے کی تربیت دینے کا کوئی تسلی بخش ادارہ نہیں۔ صرف تھیمز ویلی یونیورسٹی ایک ایسا ادارہ ہے جہاں گزشتہ چھ برس سے ایشین فنِ پکوان کا ڈپلوما کورس کرایا جارھا ہے۔

شکوے اور مسائل اپنی جگہ، لیکن برطانیہ انڈین فوڈ کا اتنا دیوانہ ہے کہ یہاں ہر برس دس نومبر کو نیشنل کری ڈے منایا جاتا ہے۔ اور یہی دیوانگی اس جزیرے میں کری کے روشن مستقبل کے لیے کافی ضمانت ہے۔


دیسی کھانے کی تاریخ کے بارے میں پڑھئیے گا، سلسلے کی اگلی کڑی میں۔ معروف شیف اور ’فوڈ رائٹر‘ مریدولا بالجیکر آپ کو بر صغیر کی تاریخ اور کھانوں کی سیر کرائیں گی۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66کری کی کہانی۔۔۔
برطانیہ میں کری اور چکن تکہ مصالحہ
66یہ کری کہاں سے آئی؟
دیس، پردیس اور ’دیسی کھانے‘: نیا سلسلہ
66ایران کےصحرا میں
افسانہ یہ سفرنامہ؟ قارئین فیصلہ کریں
66مدرسوں کی حالت
مدرسے فکری سطح پر دور جدید سے دور
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد