BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 July, 2005, 13:08 GMT 18:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کینیڈا میں دیسی کھانا: تب اور اب

دیسی کھانا
ٹورانٹو میں پاکستانی پکوان تیار کرنا یا اس کا لطف اٹھانے کے لیے کوئی تردد نہیں کرنا پڑتا۔
ٹورانٹو جیسا بے مثال شہر اپنی آغوش میں بے پناہ ثقافتیں سمیٹے ہوئے ہے۔ ان رنگا رنگ ثقافتوں کت روشنیوں سے مزین یہ شہر ٹورانٹو ایک ایسے قوس قزع کا نمونہ پیش کرتا ہے جس کا ہر رنگ نہ صرف قابل دید ہے بلکہ کسی نہ کسی قوم کی نمائندگی کرتا دکھائی دیتا ہے، وہاں دنیا بھر کے مزہ دار ذائقے بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔

آج سے تقریباً دس سال قبل کینیڈا ایئرپورٹ پر اترتے ہوئے جہاں بے شمار سوالات میرے ذہن میں کلبلا رہے تھے وہاں ایک اہم سوال پردیس میں دیس کے ذائقوں کا بھی تھا۔ وہ پاکستانی پکوان جن کا لطف اٹھاتے ہوئے بچپن سے جوانی کا سفر طے کیا۔ یہ چٹ پٹے مصالحے دار پکوان جو زندگی کا لطف دوبالا کر دیتے ہیں، پردیس میں آ کر ان کے بغیر رہنے کا تصور بھی زندگی کب بے ذائقہ کر دیتا تھا۔

یہاں آکر علم ہوا کہ ٹورانٹو میں جیراڈ سٹریٹ اور کوکس ول کے سنگم پر ایک انڈین بازار ہے جہاں دور دراز سے لوگ گروسری شاپنگ کرنے اور پاکستانی، انڈین کھانوں کا لطف اٹھانے آتے ہیں۔ یہ انڈین اور پاکستانی مارکیٹ جیراڈ بازار کے نام سے مشہور تھی۔

واحد بازار ہونے کی وجہ سے ہر وقت ایک گہما گہمی کا عالم ہوتا تھا۔ ہر طرف انڈو پاک کلچر کی بہار نظر آتی تھی۔ شام ہوتے ہی اور خصوصاً اندھیرا چھا جانے کے بعد روشنیوں کی چکاچوند اور انڈین پاکستانی لوگوں کا ہجوم ایک دلفریب نظارہ پیش کرتا تھا۔

چند سالوں کے اندر اندر ایک خوش آئند تبدیلی دیکھنے کو ملی کہ جہاں انڈو پاک ثقافت اور پکوان کو ایک ہی رنگ میں پیش کیا جاتا تھا وہاں پاکستان کی الگ سے ایک پہچان واضح ہونے لگی اور پاکستانی سٹورز اور ریستوران بھی نظر آنے لگے۔ یہاں تک کہ کنیڈین گروسری سٹورز میں بھی حلال گوشت کے الگ سیکشن دکھائی دینے لگے اور پھر یہاں کینیڈا میں جہاں پاکستان سے آئے تجربہ کار لوگ زندگی کے ہر شعبہ میں سرگرم نظر آتے ہیں وہاں فوڈ بزنس اور خصوصاً پاکستانی گروسری اور ریستوران کے بزنس میں بھی پیش پیش نظر آنے لگے۔

اور آج دس سال کے بعد جبکہ ایک واضح تبدیلی رونما ہو چکی ہے کہ ٹورانٹو میں پاکستانی پکوان تیار کرنا یا اس کا لطف اٹھانے کے لیے کوئی تردد نہیں کرنا پڑتا۔ چھوٹے چھوٹے پاکستانی ریستورانتو اب ہر جگہ نظر آتے ہیں اور بعض جگہ پر پاکستانی پکوان اور گروسری کا بزنس بہت وسیع پیمانے پر بھی دکھائی دیتا ہے، جیسے کہ 3138 ایئرپورٹ روڈ پر واقع انارکلی بازار جہاں ہر مخصوص پاکستانی پکوان، دہی بڑے، چاٹ پاپڑی، گنے کا رس اور خاص طور پر پاکستان میں تیار کردہ ہر قسم کی مٹھائیاں بھی دستیاب ہیں۔ اسی طرح ہائی وے 10 اور ڈنڈاس پر واقع مجید سوپر مارکیٹ جہاں پاکستانی سبزیاں، پھل، خصوصاً آم اور جامن اور خالص پاکستانی مٹھائیاں ڈائریکٹ لاہور اور کراچی سے منگوائے جاتے ہیں۔

اتنے وسیع پیمانے پر بزنس کرنا جہاں بزنس میں تجربہ کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے وہاں ہم جیسے پاکستانیوں کے لیے پردیس میں رہتے ہوئے اپنے پیارے دیس کی یادیں اور ذائقے تازہ رکھنے کا ذریعہ بھی ہے، اور میرا یہ کہنا قطعاً مبالغہ آرائی نہ ہوگی کہ آج ٹورانٹو میں باقی تمام ضروریات زندگی کی طرح پاکستانی گروسری اور پکوان حاصل کرنا بھی صرف ایک فون کال کے فاصلے پر ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66لاہوریوں کا پیار
حاجی کی نہاری، گرم گرم پوڑیاں، پائے اور برگر
66مینہیٹن کا ’طبلہ‘
نیو یارک میں مصروفیت اور دیسی کھانا
66کری کی کہانی۔۔۔
پکوان مغلئی اور باورچی بنگالی؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد