BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 July, 2005, 15:24 GMT 20:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیو یارک میں دیسی کھانا

دیسی کھانا
دیسی کھانا امریکیوں میں بھی کافی مقبول ہوتا جا رہا ہے۔
امریکہ میں بھارت اور پاکستان سے آکر بسنے والے لوگوں کا ایک بڑا مشغلہ کھانا کھانے کا رہتا ہے۔ امریکہ کی تیز رفتار زندگی میں ہر شخص کام میں مشغول ہی نظر آتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہفتے میں پانچ روز کام کرنے کے بعد زیادہ تر لوگوں کو پاکستانی اور انڈین لذیذ کھانے یاد آ ہی جاتے ہیں۔

امریکہ میں رہنے والے انڈین اور پاکستانی نژاد لوگ اکثر گھر سے باہر کسی ریستوران میں کھانا کھانے چلے جاتے ہیں۔ نیو یارک میں بھی عموماً لوگ ہفتے یا اتوار کے روز شہر کے انڈین اور پاکستانی ریستوران کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر برصغیر سے تعلق رکھنے والے لوگ انڈین اور پاکستانی ریستوران میں ہی کھانا زیادہ پسند کرتےہیں۔

ان میں کچھ ریستوران تو امریکی لوگوں میں بھی خاصے مقبول ہوتے جا رہے ہیں۔

ایک زمانہ تھا کہ جب امریکی لوگ انڈین کھانوں سے دور بھاگتے تھے۔ وجہ تھی ان کھانوں میں مصالحوں کا زیادہ استعمال۔ امریکیوں کو خدشہ رہتا تھا کہ اگر اس طرح کے زیادہ مصالحے والے کھانے انہوں نے کھا لیے تو ان کا پیٹ خراب ہو جائے گا یا طبیعت بگڑ جائے گی۔ لیکن پچھلے چند سالوں سے پاکستانی اور انڈین ریستوران کے کھانوں میں مصالحوں کا استعمال قدرے کم کر دیا گیا ہے جس سے اب امریکی پھر سے ان کھانوں کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔

مین ہٹن میں ایک انڈین ریستوران ’طبلہ‘ پچھلے آٹھ سالوں سے اسی طرح کے اتار چڑھاؤ سے دو چار رہا ہے۔ لیکن اب اس ریستوران میں امریکیوں کی بھیڑ لگی ہوتی ہے۔ طبلہ کے شیف فلائڈ کارڈوز، جن کا تعلق بمبئی سے ہے، اس بارے میں کہتے ہیں، ’جب ہم نے شروع کیا تھا تو امریکیوں کو برصغیر کے کھانے پسند نہیں تھے۔ سب سے بڑی وجہ تھی کہ کھانوں میں مصالحے بہت استعمال ہوتے تھے۔ اب امریکی اس بات سے نہیں ڈرتے کہ مصالحے والا کھانا کھا کر ان کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔ وہ اب تھوڑے بہت مصالحے والے کھانا کھانے میں ہچکچاتے نہیں ہیں اور انہیں یہ بھی پتہ چل گیا ہے کہ مصالحوں کے استعمال سے ان کی صحت کو فائدہ بھی ہوتا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ انہیں سارے کھانوں کے نام تک پتہ ہیں۔‘

’طبلہ‘ میں اب روزانہ تقریباً سات سو افراد کھانا کھاتے ہیں جن میں زیادہ تر امریکی ہوتے ہیں۔ مقبول ترین پکوان میں کیکڑے کے کیک، خربوزے کا سالن، بھیل پوری، بٹاٹا وڈا اور پیلی دال شامل ہیں۔

اب ایک اور چلن چلا ہے کہ انڈین اور پاکستانی ریستوران میں روایتی پکوان دوسرے ممالک کی اشیا ملا کر پکائے جاتے ہیں، جنہیں ’فیوژن فوڈ‘ کہا جاتا ہے۔ ’طبلہ‘ کے شیف کارڈوز کہتے ہیں، ’فیوژن تو شروع میں لوگوں کی سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ چند اشیا کو ایک ساتھ ملا کر پکا دیں تو فیوژن ہو جائے گا۔ ہم لوگ الگ الگ ملکوں سے مختلف پکوانوں کو ملا کر بناتے ہیں جو صحیح فیوژن ہوتا ہے۔ مثلاً فرینچ اور انڈین فیوژن، چائنیز اور انڈین فیوژن وغیرہ۔ لیکن مصالحوں کا استعمال کم ہی کرتے ہیں۔‘

چائنیز فیوژن میں چائنیز چکن پکوڑے اور سموسے خاصے پسند کیے جاتے ہیں۔

دیسی کھانا
امریکہ میں رہنے والے انڈین اور پاکستانی نژاد لوگ اکثر گھر سے باہر کسی ریستوران میں کھانا کھانے چلے جاتے ہیں۔

جب نیو یارک میں برصغیر سے تعلق رکھنے والے گھر سے باہر کھانے کا موڈ بناتے ہیں تو کسی اچھے ریستوران کی تلاش ہوتی ہے۔ ایسے ریستوران جن میں کھانا تو اچھا ہو ہی ساتھ میں ان کی صورت بھی اچھی ہو، یعنی سجاوٹ ہو کشادہ ہوں، وغیرہ وغیرہ۔

زیادہ تر ریستوران تو اچھے خاصے سجے ہوئے ہوتے ہیں۔ نیو یارک کی جیکسن ہائٹس میں کباب کِنگ پیلیس ایسا ہی ایک ریستوران ہے جہاں پاکستانی کھانوں کے شائقین سینکڑوں کی تعداد میں روز آتے ہیں، اور جن کھانوں کی زیادہ فرمائش ہوتی ہے ان میں بہاری کباب اور بریانی سر فہرست ہیں۔

ان کھانوں کو بنانے میں خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ہوٹل کے ملک سعید عثمان فرماتے ہیں، ’سارے کھانے ہم ویسے ہی بناتے ہیں جیسے انڈیا یا پاکستان میں، لیکن یہاں پر مقامی لوگوں کا خیال کرتے ہوئے جنہیں زیادہ مصالحے اور تیل کا استعمال پسند نہیں ہے، جن میں ہماری نئی نسل بھی شامل ہے، تو ہم احتیاط سے بناتے ہیں۔ خاص کر تیل اور مرچیں کم استعمال ہوتی ہیں، لیکن مزے میں کوئی فرق نہیں ملے گا آپکو۔‘

اسلم اپنی فیملی کے ساتھ اکثر اس ریستوران میں آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’مجھے تو بہاری کباب اور بریانی کھانا بہت پسند ہے، اور ان کھانوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کا مزہ ایک دم ویسا ہے جیسا پاکستان میں ہوتا ہے۔‘

پاکستانی نژاد افراد اور گوشت کھانے والے دیگر شائقین میں گوشت، چاہے بکرے کا ہو یا بھینسے کا، کھانا ضروری ہے۔ تندور میں بھنے ہوئے کباب کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور انڈیا کے الگ الگ علاقوں کے خاص کھانے بھی ان ریستوران میں مہیا ہوتے ہیں۔

زیادہ تر ریستوران حلال گوشت سرو کرتے ہیں اور ان میں سے بہت سے چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں۔

میٹھے میں کھیر، گاجر کا حلوہ، گلاب جامن اور رس ملائی بہت پسند کیے جاتے ہیں۔ کھانے کے ساتھ ساتھ پینے کے لیے میٹھی اور نمکین لسی، آم کا رس، چائے، مصالحہ چائے اور کافی خاصے مقبول ہیں۔

جیکسن ڈائنر نامی ایک ریستوران کے مالک منجیت سنگھ کا خاندان بیس سال سے ریستوران چلا رہا ہے اور ان کی خاصیت یہ ہے کہ یہ خالص کھانے بناتے ہیں، کسی طرح کی ملاوٹ میں یقین نہیں رکھتے۔ منجیت کہتے ہیں، ’ہم فیوژن نہیں کرتے۔ ہمارے پکوان بالکل خالص ہوتے ہیں۔ ہم مصالحے بھی کم نہیں کرتے، ہاں مرچیں کم ضرور ڈالتے ہیں۔‘ منجیت کہتے ہیں کہ ان کے ریستوران میں امریکی گاہک بڑی تعداد میں آتے ہیں، ’امریکی سب کچھ کھاتے ہیں، بھنڈی، بینگن کا بھرتا، پالک، ملائی کباب اور تندوری چکن بھی بہت پسند کرتے ہیں۔‘

ہلری ایک ایسی ہی امریکی خاتون ہیں جو اکثر دیسی کھانے کا لطف اٹھانے چلی آتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’مجھے تو پنیر پکوڑے، تندوری مرغ، گرم گرم روٹی اور رائتہ کھانے میں بہت مزہ آتا ہے۔ یہ کھانے بہت لذیذ ہوتے ہیں۔ مصالحے کا استعمال بھی زیادہ نہیں ہوتا۔ میں تو ہفتے میں دو تین بار کھانے آ جاتی ہوں۔‘

اس کے علاوہ اگر آپ جلدی میں ہیں تو کچھ ایک دکانیں ایسی بھی ہیں جو بیٹھ کر کھانا کھانے کی سہولیت کے ساتھ ساتھ کھانا پیک کرکے بھی دے دیتی ہیں۔ آپ فون پر بھی آرڈر کر سکتے ہیں اور کسی بھی وقت اس پِک اپ کر سکتے ہیں۔ اس قسم کے فاسٹ فوڈ کا بھی نیو یارک میں چلن زیادہ ہے کیونکہ دفتر میں کام کرنے والے لوگوں کے پاس زیادہ وقت نہیں ہوتا۔

ایسا لگتا ہے کہ بر صغیر کے کھانوں کی مقبولیت اور شہرت کا یہ سلسلہ تھمنے والا نہیں ہے۔ ’طبلہ‘ کے شیف کارڈوز کہتے ہیں، ’یہ تو ابھی شروعات ہے۔ ابھی یہ کھانے اور مقبول ہونگے۔ آخر یہ امریکی بھی سمجھ جائیں گے کہ بر صغیر میں ایک ارب سے زیادہ لوگ یہی پکوان کھاتے اور صرف زندہ رہنے کے لیے نہیں بلکہ شوق سے کھاتے ہیں۔ اب تو امریکی لوگ بھی انڈین اور پاکستانی ریستوران کھولنے لگے ہیں۔‘

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66میرا صفحہ: جلسہ
کینیڈا میں احمدیہ جماعت کا جلسہ
66تین سال کا MA
پشاور یونیورسٹی کے طلباء کی اپیل
66صوفی اور اسلام
جدید دور میں صوفی اسلام کا کردار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد