BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 July, 2005, 14:33 GMT 19:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میرا شہر: بھیمبر

بھیمبر
بھیمبر بالکل پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ (فائل فوٹو)
آج میں آپ کو اپنے شہر بھیمبر کی سیر کرانے لے جا رہا ہوں۔ بھیمبر شہر آزاد کشمیر کا ایک اہم شہر ہے۔ یہ ضلعہ بھیمبر کا ہیڈکواٹر ہے۔ بھیبر پاکستان کے شہر گجرات سے کوئی پینتالیس کیلومیٹر شمال میں بالکل پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔

یہ شہر کسی زمانے میں راجہ بھیم سنگھ کی ریاست کا دارالحکومت رہا ہے جس کے نام پر اس کو بھیمپور کہا جاتا تھا جو بدلتے بدلتے بھیمبر بن گیا۔

یوں تو پورے کشمیر کی اپنی ایک تاریخ ہے اور اس کا ہر شہر، ہر گلی، ہر ایک علاقہ اپنی تاریخی اہمیت رکھتا ہے لیکن بھیمبر کی تاریخی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مغل حکمران اسی راستے سے وادی کشمیر کا سفر کیا کرتے تھے۔بھینبر سے کوئی تیس کیلومیٹر شمال مشرق میں پہاڑوں کی چوٹی پر کوئی نو سو پینسٹھ میٹر کی اونچائی پر ایک قلعہ باغسر کے نام سے ہے جو مغل دورِ حکومت میں انجینئیرنگ کا بے مثال نمونہ ہے۔

یہ وہ قلعہ ہے جس نے نہ صرف احمد شاہ عبدالی، رنجیت سنگھ اور گلاب سنگھ کے دور حکومت میں اہم کردار ادا کیا بلکہ مغل حکمران جہانگیر اپنے سفرِ کشمیر سے واپسی پر یہاں بھیمبر آئے اور اسی قلعے میں جان جان عافرین کے حوالے کی۔

بھیمبر تحصیل برنالہ میں چھمب کا قصبہ ہے جو دریا توی کے کنارے پر ہے۔ یہی وہ میدان جنگ ہے جہاں انیس سو پینسٹھ اور انیس سو اکہتر میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان تاریخی جنگ لڑی گئی تھی۔ اب چھمب کا نام بدل کر جنرل افتخار جنجوا کی مناصبت سے افتخار آباد رکھ دیا گیا ہے۔

بھیبر شہر میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ ڈگری کالیج ہونے کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر ہسپتال محدود وسائل کے باوجود اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔ بھیمبر میر پور روڈ سے ہسپتال جانی والی روڈ کسی تنازعے کی وجہ سے پائےتکمیل تک نہیں پہنچ سکی جس کی وجہ سے مریضوں کو ہسپتال لے جاتے ہوئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وزارت صحت کو اس سلسلے میں بہت پہلے سے اس مسئلے پر سوچنا چاہیئے تھا۔ پتہ نہیں یہ مسئلہ کب تک حل طلب رہے گا۔

یہاں آرمی کا بریگیڈ ہیڈکواٹر بھی ہے اور آرمی پبلک سکولز کے علاوہ مجاہد فورس بٹالین کا ٹریننگ کیمپ بھی ہے۔

بھیمبر شہر میں پانی اور نکاسی کا نظام کوئی زیادہ اچھا نہیں بن پایا ہے۔ اس کی روڈس بھی بنتی ہیں اور ٹوٹ جاتی ہیں، نہ جانے کیوں۔۔شاید اس کی وجہ سیاسی بندر بانٹ بھی ہو کیونکہ اپنے من پسند کانٹریکٹر کو ٹھیکے دینے کا چلن تو پورے ملک میں ہے۔

بھیبر شہر کی خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ لائن آف کنٹرول سے آنے والوں کی میضبانی کا حق بھی ادا کرتا ہے۔ انیس سو پینسٹھ، اکہتر اور ننیانوے اور ابھی حال ہی میں جب لائن آف کنٹرول پر انڈیا اور پاکستانی فوج کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو لوگ اپنی جان اور مال کی حفاظت کے لیے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ چونکہ بھیمبر ایک ایسا علاقہ تھا جہاں براہ راست شیلنگ کا کوئی خطرہ نہ تھا سو لوگوں سے ہجرت کے لیے اس کا انتخاب کیا اور کرتے رہتے ہیں۔

اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ بھیمبر کی آبادی میں اضافہ ہوا اور لائن آف کنٹرول سے آنے والے بہت سے لوگوں نے یہاں سکونت اختیار کر لی۔ مگر اس کے ساتھ ہی زمین کی قیمت میں بھی بہت اضافہ ہوا۔

یہاں بےشمار مسائل میں سے ایک ایندھن کا بھی ہے۔ فائر وڈ تو مہنگا ہے ہی مگر گیس سیلنڈر بھی بہت مشکل سے ملتے ہیں اور جو ملتے ہیں وہ بھی پوری طرح بھرے ہوئے نہیں ہوتے۔ ایک مسئلہ یہاں یہ بھی ہے کہ یہاں سیل فون کی سہولیت نہیں ہے۔ آج جب پوری دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نقلاب آیا ہوا ہے ہمارا شہر اس سے کیوں محروم ہے؟



نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66امریکہ میں تبلیغ
نظام الدین اور رائے ونڈ سے امریکہ تک
66تین سال کا MA
پشاور یونیورسٹی کے طلباء کی اپیل
66میرا صفحہ: صحت
پانی میں آلودگی کو روکنا ضروری
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد