BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 July, 2005, 13:48 GMT 18:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کینیڈا میں دیسی کھانا

دیسی کھانا
دالیں اور دوسری چیزیں بھی اچھی کوالٹی کی مل جاتی ہیں
ہمیں یہاں کینیڈا میں رہتے ہوئے تین سال سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ ٹھہریے پہلے میں آپ کو اپنا تھوڑا سا تعارف کروا دوں۔ میں ایک مکینکل انجینئیر ہوں اور اللہ کے فضل سے یہاں کینیڈا میں ایک اچھی زندگی گزار رہا ہوں۔

میری بیوی ایک گھریلو قسم کی خاتون ہیں اور ہمارا ایک بیٹا ہے۔ اب آتے ہیں بدیسی ملک میں کچھ دیسی کھانوں کی طرف۔

جہاں تک ہمارا تجربہ رہا ہے دیسی کھانوں کے بارے میں، تو جو سب سے پہلی بات ہے وہ یہ کہ یہاں پر دیسی کھانے انتہائی مہنگے ہیں۔ آپ کینیڈا میں کہیں بھی چلے جائیں، جہاں جہاں دیسی لوگ ہیں وہاں آپ کو ضرور آس پاس کوئی نہ کوئی دیسی ریسٹورانٹ بھی مل جائے گا۔

یہ ریسٹورانٹ شاید اس فلسفے پر چلتے ہیں کہ نئے آنے والے گاہک (کیونکہ پرانا تو ایک بار ہی کھانے کے بعد دوبارہ ادھر کا رخ نہیں کرتا) سے پورے ریسٹورانٹ کا خرچہ ایک ہی بار میں نکلوا لو۔ جس قیمت میں شاید بریانی کی پوری دیگ گھر میں پک سکتی ہے اتنی قیمت میں وہ آپ کو دو چوزے کی بوٹیاں ڈال کر ایک ننھی سی پلیٹ میں بریانی پکڑا دیں گے۔

آپ ٹورانٹو میں کہیں بھی چلے جائیں، یہی حال ہے۔ پانچ ڈالر میں جو پاکستان کے دیہی علاقوں میں چائے کی چھوٹی چھوٹی دکانوں میں جو پیالے استعمال ہوتے ہیں، اتنے پیالے مییں آپ کو چھولوں کی چاٹ (جس کو کسی بھی طرح سے چاٹ کہنا غلط ہوگا) کی پلیٹ ملتی ہے۔

اب آتے ہیں ذائقے کی طرف، تو جناب شاید ایک آدھ ہی ریسٹورانٹ ہمیں ایسا ملا ہوگا جہاں پروفیشنل باورچی نے کھانا بنایا ہو۔ جب آپ پاکستان کے انتہائی پڑھے لکھے لوگوں کو پانچ ڈالر فی گھنٹے دے کر کھانا بنوائیں گے (جنہوں نے پاکستان میں شاید چائے بھی خود نہ بنائی ہو) تو ایسے کھانے کا کیا ذائقہ ہوگا؟ یہاں تو یہ حال ہے کہ پاکستان میں اکاونٹنٹ تھے اور یہاں ریسٹورانٹ میں کھانا بنا رہے ہیں۔

اسے محض مذاق مت سمجھیئےگا، میرا ایک دوست جو پاکستان میں انجینئیر کا کام کرتا تھا، وہ یہاں پر تقریباً چھ ماہ تک ایک دیسی ریسٹورانٹ میں بریانی بنایا کرتا تھا۔ اب آپ خود اندازہ لگا لیجیئے ذائقے کا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں تندوری روٹی بہت اچھی ملتی ہے، لیکن جو روٹی بازار میں پیکٹ میں ملتی ہے، وہ اتنی خاص نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ریسٹورانٹس کا ڈیکوریشن بھی کچھ خاص نہیں ہوتا۔ بہت کم ریسٹورانٹ ایسے ہیں جہاں پر جا کر اور کھانا کھا کر آپ کو لگتا ہے کہ پیسے حلال ہو گئے ہیں۔ ورنہ تو میری بیگم تو جہاں بھی جاتی ہیں ایک بار ہی کھا کر اس پر بین لگا دیتی ہیں کہ ایسے ہی فضول میں اتنے پیسے ضائع کر دیے، ان پیسوں میں تو ایک ویک کی گراسری ہو سکتی تھی، وغیرہ وغیرہ!

جہاں تک بات ہے کہ جو کھانا سرو کیا جاتا ہے وہ واقعی دیسی ہوتا ہے، تو ہمیں کہہ لینے دیجیئے کہ نام تو اس کا دیسی ہی ہوتا ہے، مگر کھانے کے بعد بہت دن یہی سوچتے ہوئے گزر جاتے ہیں کہ کیا کھایا تھا؟؟!!

اب آتے ہیں اس کھانے پر جو ہمارے گھر میں پکتا ہے، تو صاحب کیونکہ ہماری بیگم دیسی ہیں تو اس حساب سے ہمارے گھر میں بالکل دیسی کھانے پکتے ہیں، ہاں کبھی کبھی بیگم صاحبہ کا موڈ ہو تو چائنیز بھی بنا لیتی ہیں۔ یہاں پر چاول، جو کہ پاکستان سے ہی آتا ہے، بہت اچھی کوالٹی کا ملتا ہے۔ اس کے علاوہ دالیں اور دوسری چیزیں بھی اچھی کوالٹی کی ملتی ہیں اور قیمت بھی یہاں کے حساب سے ٹھیک ہی ہوتی ہے (آپ کہیں اسے پاکستانی روپے میں کنورٹ کرنے کے چکر میں مت لگ جایئےگا، کیونکہ پھر تو آپ یہاں کینیڈا میں سوائے ہوا کے کچھ نہیں کھا سکتے ہیں، وہ بھی اس لیے کہ وہ مفت ہے!!)

ہم کچنر میں رہتے ہیں، جو کہ ٹورانٹو سے دو گھنٹے دور ہے۔ یہاں پر بڑا مسئلہ حلال گوشت کا ہے۔ یہاں پر صرف ایک ہی سومالین کی دکان ہے جہاں حلال گوشت ملتا ہے۔ باقی ہر چیز تو بہت آسانی سے اور اچھے دام پر مل جاتی ہے۔

یہاں پر جو شادی شدہ حضرات ہیں وہ تو بیگم کے ہاتھ کا کھانا کھا لیتے ہیں، مگر بیچلر حضرات تو ’شان مسالوں‘ کے ہی سہارے رہتے ہیں۔

آخر میں اپنی بات اس طرح ختم کروں گا کہ آپ دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں، اگر دیسی بیگم ساتھ ہے تو دیسی کھانا ملنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66نظم: ایک پودا
جنوبی افریقہ سے ماحولیات پر ایک نظم
66امریکی معاشرہ
امریکی معاشرے کی اچھائیاں اور برائیاں
66میرا شہر
بھیمبر کی تاریخ پر ایک نظر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد