ندیم مراد ساؤتھ افریقہ |  |
ایک اسکول کے آنگن میں تھا اک پھول کا پودا گرما کی لمبی رخصت میں پھول کھلا اک اس میں پہلے پہل جب وہ غنچہ تھا آنکھیں موندھے ٹہنی پر یوں جھولے جھولا کرتا تھا جیسے اس جیسا خوش قسمت ارض و سما میں کوئی نہ ہو لیکن جب وہ پھول بنا اور جوبن نے لی انگڑائی اس کو یہ احساس ہوا کتنی ہے تنہائی شہر کے بیچوں بیچ اک چھوٹے سے اسکول کے آنگن میں پھول بہت ہی تنہا تھا بچے تو تعطیل منانے دور گئے تھے جھیلوں اور پہاڑوں پر باغوں اور کھلیانوں میں شہر کے آلودہ حالات ہیں دو چار ہی تتلیاں بھنورے ان کو بھی اس تنہا پھول کے بارے میں کچھ علم نہ تھا ورنہ وہ دو چار گھڑی بھی ملتے، باتیں کرتے، گاتے چومتے منہ اور چومتے رس اک دوجے کا پھول نے اپنے جوبن کے وہ دن بھی ٹہنی پر کاٹے جب تک اس سے پہلے آنے والے اس پودے کے پھول لاکھ حفاظت کرتا مالی ننہے ننہے اور معصوم سے ہاتھوں میں سج جاتے تھے اور کتابوں سے بوجھل بستوں میں بس جاتے تھے موسم گرما کی بارش بھی اس کے ہوتے ہونہ سکی اور شبنم کے قطروں میں بھی گردوغبار اور دھواں تھا پھر اک دن وہ پھول بالآخر سوکھ گیا سوکھ گیا اور ہلے سے ایک جھونکے سے پتی پتی بکھر گیا اس کی قبر کے کتبے پر مٹی نے لکھا لمس کی لذت سے ناواقف اک بدقسمت
نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کا صفحہ قارئین کا، قارئین کے لئے ہے۔ قارئین کے مضامین سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی کسی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |