جاوید ملک چکوال، پنجاب |  |
 |  ’چکوال میں ہر دوسرا یوزر ’سیکس‘ دیکھنا چاہتا ہے۔‘ (فائل فوٹو) |
میرا نام جاوید ملک ہے۔ میں بہ یک وقت بہت سے کام کر رہا ہوں۔ میں نے جنوبی کوریا سے نیٹ کیفے کا آئڈیا لیا اور چکوال کا سب سے پہلا بروڈبینڈ نیٹ کیفے بنایا تاکہ میرے شہر کے لوگ فاسٹ نیٹ استعمال کر سکیں۔ میں ایک اخبار کا ایڈیٹر بھی ہوں اور بی بی سی تو میرا سب سے ’بیسٹ فرینڈ‘ ہے۔ میں دن بھر اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہوں۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ میری معلومات میں بہت زیادہ اضافہ بی بی سی کی وجہ سے ہوا۔ آج میں چکوال کے نیٹ کیفیز کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ میں چکوال کی نیٹ یونین کا صدر بھی ہوں اور ہمارے نیٹ کیفے میں اکسٹھ پی سیز ہیں جو کہ پنجاب کے چند بڑے کیفیز میں سے ایک ہے۔ ہماری بہت ساری میٹنگز ہوئیں چونکہ ہمیں چکوال پولیس افسر کی جانب سے ایک لیٹر ملا کہ ’نیٹ والو سدھر جاؤ، ورنہ میں ٹھیک کر دوں گا‘۔ بس اسی دھمکی نے ہمیں اتفاق نصیب کر دیا۔ نیٹ کیفیز کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ مجھے بھی انہیں تجربات کا سامنا ہوا۔ چکوال میں ہر دوسرا یوزر ’سیکس‘ دیکھنا چاہتا ہے۔ یہاں پر انٹرنیٹ کو گلوبل ولیج کے طور پر کم اور سنیما کے طور پر زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں پر کئی ایک نیٹ کیفیز ہیں جو صرف ’سیکس‘ کی وجہ سے چل رہے ہیں۔ ہماری یونین کا مقصد یہ تھا کہ ہم نیٹ کیفیز پر لگا ہوا داغ ختم کر دیں اور ان کو حقیقت میں ایک گلوبل ولیج بنا دیں۔ ایسے نیٹ کیفیز جہاں پر سٹوڈنٹ تعلیمی مقاصد کے لیے آئیں، جہاں پر لوگ اسلام کی تبلیغ کو آئیں، جہاں پر لوگ اپنی اپنی ثقافت اور روایات کا تبادلہ کریں، جہاں پر پوری دنیا ایک کلک پر ہو۔ ہم اپنے لوگوں کو سکھائیں کہ مانیٹر کو ٹی وی نہیں کہنا۔ لیکن ہم یہ سب کچھ پولیس کے خوف کی وجہ سے نہ کریں بلکہ صرف اور صرف اپنے من کے لیے۔
نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت آپ اپنے کسی بھی مسئلے کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔ |