چنبیلی پلاؤ اور موتیے کا آپریشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے دنوں ایک کولیگ کو فیئر ویل دینے کی غرض سے ہم نے فیصلہ کیا کہ اسے ڈنر دیا جائے۔ یوں بھی کراچی والوں کی قسمت کھلے نہ کھلے ہر ہفتے کھانے کی ایک نئی جگہ ضرور کھل جاتی ہے۔ اس خصوصی ڈنر کے لیے میں نے سوچا کیوں نہ روایتی کھانا کھایا جائے اور ایک نئے ریستوراں حویلی کا نام تجویز کیا کہ مہنگا ہے تو کیا سپیشل تو ہے۔ دعوت کی رات ساڑھے نو بجے تک سبھی شرکا جائے وقوعہ پر پہنچ چکے تھے۔ میرے ڈینگیں مارنے کی وجہ سے سب نے لنچ بھی ہلکا کیا تھا۔ تاکہ کھانے پر دھوا بول سکیں۔ اور پھر وہ لمحہ بھی آ گیا کہ جب رسمی باتوں اور تکلف کے بندھن توڑ کر بوفے کا رخ کیا گیا۔ بچپن سے اب تک خیالی پلاؤ پکانے پر مجھے ہمیشہ گالیاں پڑی ہیں مگر بقول شاعر وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔ لہذا اس دن بھی یہی ہوا حالانکہ کہ خراماں خراماں پھرتے سفید یونیفارم، لال پٹکے اور رنگین پگڑیوں سے لیس ویٹرز کو اور طاقچوں میں رکھے دیئوں کو دیکھ کر یہ گمان بھی نہیں ہوا تھا کہ آج کے کھانے پر کتنے طعنے سہنے پڑیں گے۔ ہر ڈش پر گلابی اردو سے رچے ناموں کے کارڈ لگےتھے۔ جیسے چنبیلی پلاؤ ، درباری دو پیازہ ، موتیا کوفتے وغیرہ وغیرہ۔ آغاز چنبیلی پلاؤ سے کیا گیا۔ جسے دیکھتے ہی سب کے چہرے مرجھانےلگے۔ گوشت سرے سے غائب اور میوہ اس قدر کہ چٹوروں کا خون خشک ہو جائے۔ ایک ڈش کے آگے لکھا تھا پانی پت کے پسندے۔ ڈھکنا ہٹا تو اندر سے خالی، بالکل ایسے جیسے پانی پت کے میدان سے مرہٹوں کے بھاگنے کے بعد میدان خالی ہو گیا تھا۔ درباری دوپیازے میں مرچیں اتنی تیز تھیں کہ الوداعیہ کلمات سے پہلے ہی سب کی آنکھیں بھر آئیں۔ خاطر جمع کر کے موتیا کوفتوں کا رخ کیا تو ایک اور خالی ڈش دیکھ کر آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ کچھ دن پہلے ڈاکٹر سے شکایت کی کہ آنکھوں کے آگے دھندلا دکھائی دیتا ہے تو اس نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس کی وجہ دواؤں کی زیادتی ہو سکتی ہے۔ میری ڈری ہوئی صورت دیکھ کر یہ یقین بھی دلایا کہ کہ موتیے کا آپریشن اب اتنا مشکل نہیں۔ مگر اس وقت موتیا کوفتے نہ پا کر مجھے سہراب گوٹھ کا آپریشن کلین اپ یاد آگیا۔ پونے دس بجتے ہوئے بھی میری شکل پر بارہ بج رہے تھے۔ کیونکہ یار لوگوں کا بس نہیں تھا کہ اس ڈنر کے لیے حویلی کا حوالہ دینے پر وہ مجھے حوالات میں بند کروا دیں۔ وہ تو بھلا ہو بہادرآباد کی لاجو آئسکریم کا جس نے بچے کھچے ڈنر کی لاج رکھ لی۔ اس واقعے کے کچھ دن بعد بھائی کی سالگرہ تھی۔ گھر والوں نے ڈنر کے لیے مجھ سے جگہ تجویز کرنے کے لیے کہا تو آنکھوں کے آگے پھر سے اندھیرا چھانے لگا اور موتیے کے آپریشن کے خوف سے میں نے پیار سے انکار کر دیا۔ سب کے چہروں پر سوال تھا کہ آخر کیوں؟ شکر ہے کہ میں نے ان سے حویلی کا ڈنر کا تزکرہ نہیں کیا ورنہ بوجھ لیتے یہ پہیلی! |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||