BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 June, 2005, 13:40 GMT 18:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں پرائیوٹ سکولوں کا حال

پاکستان میں پرائویٹ سکول
’پاکستان میں پرائویٹ سکولوں میں تعلیم کا میار انتہائی پست ہے‘ (فائل فوٹو)
پرائیوٹ سکولوں (کچھ کو چھوڑ کر) میں تعلیم کا معیار انتہائی پست ہے اور جو اچھے پرائیوٹ سکول ہیں وہاں کی فیس اتنی زیادہ ہے کہ ایک عام انسان کبھی بھی افورڈ نہیں کر سکتا۔ میں نے پرائیوٹ سکول پر ریسرچ کے علاوہ خود اپنی آنکھ سے مشاہدہ کرنے کے لیے دو پرائیوٹ سکولوں میں جاب کی ہے۔

پہلی چیز جو میں نے وہاں دیکھی وہ وہاں کا سٹینڈرڈ آف ایجوکیشن ہے۔ ٹیچرز جو کہ زیادہ تر نان کیالیفائڈ فیمیل سٹاف پر مشتمل ہیں، ان کو خود پتہ نہیں کہ وہ کیا پڑھا رہے ہیں۔ بس حل کیے گئے سوالوں کی کوئی بھی کتاب (جو کہ عام طور پر انہیں پرنسپل دیتے ہیں) اٹھائی اور طالب علموں کو لکھوانا شروع کر دیا۔ نہ سمجھایا اس ٹاپک کے بارے میں، جہاں اردو ٹیچر کو یہی نہیں معلوم کہ سر سید احمد خان اپنے مضامین میں انگلش کے الفاظ کیوں استعمال کرتے تھے۔ اس سے بچے رٹا لگانے کے عادی بنائے جا رہے ہیں۔ جب مستقبل کے رہنماؤں کی تربیت کرنے والوں کو خود تربیت کی ضرورت ہو تو ایسے ملک کا کیا حال ہوگا؟

دوسری چیز یہ کہ اگر آپ سکول کی ٹیچر سے ہوم ٹیوشن پڑھو تو آپ پوزیشن لے سکتے ہو، ورنہ پاس ہونا بھی مشکل ہے، چاہے آپ نے کتنا بھی اچھا پڑھا ہو۔ اس ٹیوشن فیس میں سے سکول کے پرنسپل کا بھی ماہانہ کمیشن ہوتا ہے۔ ایک دلچسپ واقعہ آپ کو سناتا ہوں۔ ایک دن میں نے بایولاجی کی ٹیچر سے پوچھا کہ ابو علی سینا کون تھے، تو مجھ سے کہتی ہیں مجھے کیا پتہ، میرا کوئی رشتہ دار تھوڑے ہے؟ یاد رہے ابو علی سینا کے بارے میں بایولاجی کی ٹیکسٹ بک میں ایک پیراگراف ہے۔

سکول کا سب سے اہم مقصد زیادہ سے زیادہ سالانہ فیس حاصل کرنا ہوتا ہے۔ لائبریری فیس (جبکہ سکول میں دور دور تک لائبریری کا نام ونشان تک نہیں ہوتا)، سالانہ چارجز، لیبارٹری چارجز۔ جب میں نے پہلی بار سکول جوائن کیا تو پرنسپل نے مجھ سے کہا آپ نویں اور دسویں جماعت کے تمام سٹوڈنٹس سے کہہ دیں کہ لیبارٹری چارجز ایک ہزار روپئے جمع کرا دیں۔ میں نے کہا میڈم سکول میں تو سرے سے کوئی مخصوص لیبارٹری ہے ہی نہیں۔ بس ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جو لیبارٹری بھی ہے، کچن بھی اور سٹاف روم بھی۔ ہزار روپے کس بات کے، جبکہ لیب چارجز تو دو سو روپے سے زیادہ ہوتے ہی نہیں ہیں؟ تو میڈم نے فرمایا کہ ہر سکول میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

میں خود آپ کو ایسے سکول کی نشاندہی کروا سکتا ہوں جہاں تعلیم کے نام پر صرف پیسہ بٹورا جا رہا ہے۔ سکول کی پرنسپل کو صحیح پڑھنا تک نہیں آتا اور پرنسپل کی کرسی پر فائز ہیں۔

یہ تو صرف مین فیچر ہیں پرائیوٹ سکولوں کے۔ اگر میں اور لکھنا شروع کروں تو ایک ہزار صفحے کی کتاب بھر کم پڑ جائے گی اور پرائیوٹ سکولوں کی خصوصیات ختم نہیں ہوں گی۔

آخر میں میری آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ پلیز اپنے بچوں کو کسی بھی پرائیوٹ سکول میں اڈمیشن کرانے سے پہلے وہاں یہ سب چیزیں ضرور دیکھ لیں، ورنہ کہیں ان کی اچھی تربیت کا خواب آپ کا صرف ایک خواب ہی رہ جائے گا۔



نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت آپ اپنے کسی بھی مسئلے کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو لکھ بھیجیں۔
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66میں معذور نہیں
ایک نابینا نوجوان کی کامیابیاں، ارادے
66پانی کی قلت
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
66ہمارے مقامی مسائل
نانگا پربت سے محمد علی انصاری کا خط
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد