حرمین کا ایک سفر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک دفعہ ضرور حرمین کا سفر کرے۔ شاید سفر سے پہلے ہر شخص اپنی منزل کے بارے میں معلومات لے لیتا ہے لیکن حج یا عمرہ کے لیے جاتے ہوئے اکثر لوگ اس سفر سے متعلق مذہبی فرائض کی تیاری میں ایسے مگن ہوتے ہیں کہ عملی مسائل کو بھول جاتے ہیں۔ حرمین جانے کی مذہبی فضیلت اور جذبہ اپنی جگہ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ توکل اپنےاونٹ کو باندھنے کے بعد شروع ہونا چاہیے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جواس سفر پر خواتین اور بچوں کے ساتھ جانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ پاکستانی اور انڈین مسلمان اپنے اپنےملکوں سے یہ سوچ لے کر آتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ میں تو کوئی غلط کام ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن مجھ جیسے لوگ جو یہاں رہتے ہیں اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہاں سب فرشتے نہیں بستے۔ مثلاً عمرہ کے لیے آئے لوگوں کا حرم اور کعبہ کے سامنے بھکاریوں سے جان چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سے زیادہ پریشانی کی بات وہ جیب کترے ہیں جو آپ کی جیب کاٹ کر آپ کو دوسروں کے رحم وکرم پر چھوڑ جاتے ہیں۔تصور کریں اگر آپ کی جیب حرم کے سامنے کاٹ لی جائے۔ پیسوں کی تو خیر ہے کہ ان کا تو شاید کہیں سے بندوبست ہو جائے لیکن پاسپورٹ جیسے ضروری کاغذات کا کیا ہوگا۔ عمرہ یا حج کے دوران اپنا پاسپورٹ کھو دینا، آپ کے لیے خاصی مصیبت کا باعث بن سکتا ہے۔ لیکن ان سب سے زیادہ گھناؤنا کام جس کے بارے میں لوگوں کو اکثر خبردار نہیں کیا جاتا وہ ہے بچوں کا اغوا۔جی ہاں، مکہ اور مدینہ میں بچوں کے اغوا کی وارداتیں خاصی زیادہ ہو چکی ہیں۔ اگرچہ سعودی حکومت نے بچوں کے اغوا کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر رکھی ہے لیکن اس کے باوجود ایسے واقعات پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ میرے خیال میں اس کی سب سے بڑی وجہ زبان کا نہ جاننا ہے۔اگر کوئی شخص ایک بچے کو لے کر حرم سے نکل رہا ہے اور وہ بچہ رو رہا ہے تو پولیس کا اہلکار کیسے تعین کرے گا کہ بچہ اسی شخص کا ہے یا اُسے اغوا کیا جا رہا ہے۔ اس سلسہ میں ایک اور بات جو ہمیں نہیں بھولنا چاہیے وہ یہ ہے کہ اغوا کی ایسی وارداتوں میں مرد کم اور عورتیں زیادہ ملوث ہیں۔ ہمارے ملکوں سے آئی ہوئی خواتین ہر اجنبی پر جلد بھروسہ کر لیتی ہیں۔اپنا سامان اور بچے کسی کے حوالے کر کے باتھ روم جانا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے لیکن میرا تجربہ یہ ہے کہ یہ بات آپ کے لیے خاصی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
میرا اپنا بیٹا اس سال رمضان میں اغوا ہونے سے بال بال بچا۔ ہم لوگ شاہ عبدالعزیز گیٹ کے پاس کھڑے تھے، عورتیں ایک طرف اور مرد گیٹ کی دوسری طرف۔ ابھی ہمیں وہاں کھڑے زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ میری اہلیہ نے دور سے آواز دے کر مجھ سے پوچھا کہ بیٹا کہاں ہے۔ میں نے کہا کہ ابھی یہیں تھا۔ ہم نے اِدھر اُدھر دیکھا لیکن بیٹے کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ میں نے فوراً اپنے بھائی کو نیچے بیٹھنے کو کہا اور خود اس کے کندھوں پر بیٹھ کر ہر طرف نگائیں دوڑانے لگا۔مجھے دُور ایک بچہ دکھائی دیا جس نے میرے بچے کے ساتھ کی شرٹ پہن رکھی تھی۔ ہم سب لوگ اس طرف بھاگے۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک شخص میرے بیٹے کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے اسے زبردستی اپنے ساتھ لیے جا رہا ہے۔ میرا بیٹا رو رہا تھا لیکن وہ اس قدر سہما ہوا تھا کہ مجھے دیکھنے کے باوجود کچھ کہہ نہیں پا رہا تھا۔ ہم نےاس شخص کی طرف بھاگنا شروع کردیا۔اس نے میرے بیٹے کا ہاتھ چھوڑ دیااورپلک جھپکتے ہی سامنے ہجوم میں غائب ہوگیا۔ الحمدللہ، ہماری خوش قسمتی کہ ہمیں ہمارا بیٹامل گیا! یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں تھا کیونکہ ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ ایسے واقعات کئی لوگوں کے ساتھ پیش چکے ہیں۔ اپنے تجربہ کی روشنی میں، میں تو یہی کہوں گا کہ حرمین ضرور جائیے لیکن یہ نہ سوچیے کہ وہاں سب ٹھیک ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||