میری ڈائری: اور الارم بجتا رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سولہہ مارچ کبھی آپ نے پرانے رشتوں کو اجنبیت کے بوجھ تلے کچلے دیکھا ہے؟ یہ سب اچانک نہیں ہوتا۔ یہ زہر آہستہ آہستہ تعلق کی شریانوں میں جگہ بناتا چلا جاتا ہے اور آپ بے بسی کے ساتھ اسے بڑھتا پھلتا پھولتا دیکھتے ہیں۔مگر بے بسی کا سٹیج آخری سٹیج ہوتا ہے۔ ابتدا میں کوئی خاموش تماشائی نہیں ہوتا۔ میں نے بھی بہت ہاتھ پاؤں مارے۔ بہت کوشش کی، اس رشتے کو مضبوط بنانے کی۔ خون جگر پلایا۔ دل بہت جلایا۔ رشتہ تو پکا ہوگیا آج دس سال ہوگئے۔ مگر پائیداری اپنی جگہ ہے اور پیار اپنی جگہ۔ کس گھڑی ، کسی کے دل کے کسی گوشے میں میرے لیے جگہ نہ رہی، وقت اور تاریخ تو یاد نہیں۔ مگر جب یہ ہو رہا تھا تو دم گھٹتا تھا۔ پہلے سوال کرتی تھی، پھر آواز گلے میں رندھنا شروع ہوگئی اور ایک سرد خاموشی نے آغاز سفر کی ساری گرم جوشی کو ٹھنڈا کر دیا۔ اس سے پہلے خطرے کی گھنٹیاں گاہے گاہے سنائی دیتی تھیں اور ان کی گونج دل و دماغ میں شور مچاتے سوالوں کو نگل لیتی تھی۔ پھر زندگی میں محبت کی مدھر دھن خاموش ہوگئی اور الارم بجتا رہا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||