BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 March, 2005, 16:51 GMT 21:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میرا صفحہ: مجھے ماہ پارہ سے پیار ہوگیا

News image

پچھلے کچھ مہینے سے کمال کی محبت نے مجھے نئے اور ایک بہت انوکھے طریقے سے صدائیں دینی شروع کردی ہیں۔

یہ صدائیں البتہ اپنے جوش کے سبب دل دہلا دیتی ہیں۔ یہ ایک الگ امر ہے۔
یہ ذکر ہے کمال کے خراٹوں کا۔ ساڑھے گیارہ بجے رات سے نشریات کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے ۔ کمال کے دل کی گہرائیوں سے خراٹوں کا اور میرے دل کی گہرائیوں سے صلواتوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

کانوں پہ تکیہ رکھنے یا ذہن کو نیند کی طرف راغب کرنے کے میرے سارے اقدامات حکومت کی خارجہ پالیسی کی طرح شکست سے ہمکنار ہوتے ہیں اور میں کنارے کی طرف سرکنا شروع کر دیتی ہوں۔ مگر مجال ہے کہ میری آہ و بکا بلکہ بکواس کا کوئی اثر ہوجائے۔

کمال کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس بات سے ابھی ابھی یہ آئیڈیا آیا کہ کمال کے سر میں اگر جوئیں ہو جائیں تو کان پر رینگنے کا امکان بھی یقینی ہے۔

پہلے میں خوابوں میں سہانی جگہوں پہ گھوم رہی ہوتی تھی۔ جیسے ہرے بھرے پہاڑ ، خوبصورت شعر اب اس آوارہ گردی کی جگہ دہشت گردی نے لے لی ہے۔ کیونکہ جب زبردستی نیند آجائے تو کبھی چیختی ہوں یا کسی کو پیٹ رہی ہوتی ہوں۔

کمال کے ڈاکٹر بھائی نے ناک میں ڈالنے کے ڈراپس تجویز کیے۔ پوری شیشی خالی ہوگئی مگر قطرہ قطرہ بھی کمال کے پتھر دل کو نرم نہ کرسکا۔

اور پھر مجھے ماہ پارہ سے پیار ہو گیا۔

نیند اور خارجہ پالیسی
 کانوں پہ تکیہ رکھنے یا ذہن کو نیند کی طرف راغب کرنے کے میرے سارے اقدامات حکومت کی خارجہ پالیسی کی طرح شکست سے ہمکنار ہوتے ہیں اور میں کنارے کی طرف سرکنا شروع کر دیتی ہوں۔

ماہ پارہ وہ ننھی سی بچی ہے جو خراٹوں کے بیچ ایک دن خواب میں دکھائی دی۔ کسی نے بتایا کہ اس کا نام ماہ پارہ ہے۔ لو بھئی کمال کو بتایا تو ان کا پارہ چڑھ گیا ۔ بولے میری دو بیٹیاں ہیں ۔ اب ماہ پارہ کا باپ بننے کا میرا کوئی ارمان نہیں۔

اریبہ، سارہ نے کہا کہ ہم دونوں کے ہی مطالبات پورے نہیں ہوتے۔ اب یہ ماہ پارہ کہاں فٹ ہوگی۔

ماہ پارہ بیچاری اس رسپانس سے اتنی دل برداشتہ ہوئی کہ دوبارہ دکھائی نہ دی۔ حالانکہ اپنی محبت سے مجبور ہو کر کتنی ہی بار میں نے اسے سوتے میں پکارا اور جواب میں ہر بار ایک بیہودہ خراٹا سنائی دیا۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
شیما کمال کی ڈائریشیما کمال کی ڈائری
’پہلے دوائیں زیادہ ہوئیں اور ساتھ ساتھ دعائیں بھی‘
ایک سترہ سالہ فلسطینی لڑکی کی آپ بیتیرملہ سے براہ راست
ایک سترہ سالہ فلسطینی لڑکی کی آپ بیتی
 کوئی کچھ بتائے گا کیا؟ شاہدہ اکرام کا خطمیرا صفحہ: ٹینشن
کوئی کچھ بتائے گا کیا؟ شاہدہ اکرام کا خط
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد