میرا صفحہ: مجھے ماہ پارہ سے پیار ہوگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے کچھ مہینے سے کمال کی محبت نے مجھے نئے اور ایک بہت انوکھے طریقے سے صدائیں دینی شروع کردی ہیں۔ یہ صدائیں البتہ اپنے جوش کے سبب دل دہلا دیتی ہیں۔ یہ ایک الگ امر ہے۔ کانوں پہ تکیہ رکھنے یا ذہن کو نیند کی طرف راغب کرنے کے میرے سارے اقدامات حکومت کی خارجہ پالیسی کی طرح شکست سے ہمکنار ہوتے ہیں اور میں کنارے کی طرف سرکنا شروع کر دیتی ہوں۔ مگر مجال ہے کہ میری آہ و بکا بلکہ بکواس کا کوئی اثر ہوجائے۔ کمال کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس بات سے ابھی ابھی یہ آئیڈیا آیا کہ کمال کے سر میں اگر جوئیں ہو جائیں تو کان پر رینگنے کا امکان بھی یقینی ہے۔ پہلے میں خوابوں میں سہانی جگہوں پہ گھوم رہی ہوتی تھی۔ جیسے ہرے بھرے پہاڑ ، خوبصورت شعر اب اس آوارہ گردی کی جگہ دہشت گردی نے لے لی ہے۔ کیونکہ جب زبردستی نیند آجائے تو کبھی چیختی ہوں یا کسی کو پیٹ رہی ہوتی ہوں۔ کمال کے ڈاکٹر بھائی نے ناک میں ڈالنے کے ڈراپس تجویز کیے۔ پوری شیشی خالی ہوگئی مگر قطرہ قطرہ بھی کمال کے پتھر دل کو نرم نہ کرسکا۔ اور پھر مجھے ماہ پارہ سے پیار ہو گیا۔
ماہ پارہ وہ ننھی سی بچی ہے جو خراٹوں کے بیچ ایک دن خواب میں دکھائی دی۔ کسی نے بتایا کہ اس کا نام ماہ پارہ ہے۔ لو بھئی کمال کو بتایا تو ان کا پارہ چڑھ گیا ۔ بولے میری دو بیٹیاں ہیں ۔ اب ماہ پارہ کا باپ بننے کا میرا کوئی ارمان نہیں۔ اریبہ، سارہ نے کہا کہ ہم دونوں کے ہی مطالبات پورے نہیں ہوتے۔ اب یہ ماہ پارہ کہاں فٹ ہوگی۔ ماہ پارہ بیچاری اس رسپانس سے اتنی دل برداشتہ ہوئی کہ دوبارہ دکھائی نہ دی۔ حالانکہ اپنی محبت سے مجبور ہو کر کتنی ہی بار میں نے اسے سوتے میں پکارا اور جواب میں ہر بار ایک بیہودہ خراٹا سنائی دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||