میرا صفحہ: آدھی عادی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شیما کمال اس سے پہلے ہماری مقبول بلاگر رہی ہیں۔ یہ صفحہ ان کی ڈائری میں سے لیا گیا ہے۔ چھبیس فروری دوہزار پانچ کہتے ہیں زندگی کو پوری طرح جینا چاہیے لیکن کبھی کبھی آدھی زندگی کو بھی پوری طرح جینا پڑتا ہے۔ شروع شروع میں بہت تکلیف ہوتی ہے۔ پھر اس تکلیف کی پھانس جیسے دل میں چبھی سی رہ جاتی ہے اور پھر اس چبھن کے آپ عادی ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔ جیسے کہ میں۔ بارہ سال پہلے مجھے آرتھرائٹس ہوا اور پھر پروفیشن اور گھریلو ذمہ داریاں نبھانے کی کشمکش میں اپنے علاج کو بالکل توجہ نہ دے سکی جس کے نتیجے میں پیچیدگیاں بڑھتی چلی گئیں۔ پہلے دوائیں زیادہ ہوئیں پھر ساتھ ساتھ دعائیں بھی اور آدھا پن پوری طرح حاوی ہونا شروع ہو گیا۔ یہ جنگ بدستور جاری ہے۔ پہلے اماں کی آنکھوں میں نمی ہوتی تھی،اب دونوں بیٹیوں کی آنکھوں میں جھلملاتی ہے تو زندگی کے راستے میں اندھیرا سا ہونے لگتا ہے۔ روز میں اپنے درد کو اندر دفن کرکے دوبارہ جینے کی جدوجہد میں مصروف ہوجاتی ہوں، مسکراتی ہوں اور آدھی زندگی کو اپنے پیاروں کی خاطر پوری طرح جینے کےلیے ایک قدم اور پھر ایک قدم بڑھاتی چلی جاتی ہوں۔ شاید یہ راہ اتنی مختصر نہ ہو جتنی مجھے اکثر بڑی شدت کے ساتھ لگتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ محبت اور حوصلے کے جگنوؤں کی یہ روشنی دل میں اتر جائے اور بہت سے زخموں کے لیے مرہم بن جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||