میری ڈائری: ’ٹائم کیا ہو گیا ہے؟‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنا ہے کہ بھوت راتوں کو دکائی دیتے ہیں۔ لیکن ہمارے آفس کے پانچویں فلور پر ایک بھوت دن میں بھی نظر آتا ہے اور وہ بھی جتنی بار آپ چاہیں۔ چونکہ وہ ایک عمر رسیدہ خاتون ہیں اس لیے انہیں بھتنی کہنا بھی معیوب لگتا ہے ، مگر ان کے وجود میں بھوتوں کی سی پراسراریت ہے۔ وہ پانچویں فلور کے ریسٹ رووم کی کیرکٹر ہیں اور دو کرسیاں جوڑ کر ایک کونے میں خاموش بیٹھی رہتی ہیں۔ میں نے انہیں کبھی بھی صفائی کرتے نہیں دیکھا مگر واش روم ہمیشہ ستھرا ہی ہوتا ہے۔ عموما بھوتوں کی موجودگی میں لوگوں پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے مگر ان خاتون سے کوئی ڈرتا نہیں دیکھا۔ الٹا یہ تھوڑی تھوڑی دیر میں ایسے جھرجھریاں لیتی ہیں جیسے خود ٹھٹھر رہی ہوں۔ مگر اس میں سردی کا اتنا ہاتھ نہیں ہوتا جتنا ریسٹ رووم وزٹ کرنے والی خواتین کا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے بڑی بی کی کھوجتی ہوئی آنکھیں آنے والیوں کے بظاہری روپ سے گزر کر روح تک پہنچ جانے کی قوت رکھتی ہوں اور بڑی بی ان کی زندگیوں کے چھپے ہوئے ڈراؤنے راز جان کر لرزتی رہتی ہیں۔ کوئی آئے کوئی جائے، پانچویں فلور کا بھوت انہیں ایک ٹک دیکھتا رہتا ہے۔ کسی کے چہرے کا بلش آن تو باقی ہے مگر رنگت پھیکی پڑ چکی ہے۔ کسی کے ہونٹ لپ سٹک سے لال ہیں مگر مسکراہٹ کسی نے چرا لی ہے۔ کسی کا مسکارا تو تھوڑا سا چھٹ گیا ہے مگر سکون پورا لٹ گیا ہے۔ سب سے دلچسپ ہوتا ہے وہ سین جب آنے والی خواتین جونہی آئینے میں دیکھتی ہیں ان کو بڑی بی کا عکس نظرآتا ہے اور وہ اسے نظر انداز کر کے نوک پلک سنوار کر چلی جاتی ہیں۔ پہروں کی خاموشی توڑ کر بڑی بی جب بولتی ہیں تو صرف ایک جملہ ٹائم کیا ہو گیا ہے؟ نہ جانے انہیں وقت سے کیا دلچسپی ہے۔ کیا وہ اپنا گزرا ہوا وقت واپس لانا چاہتی ہیں یا انہیں یہ فکر ہے کہ رسیٹ روم آنے والیوں کا اچھا ٹائم اصل میں کب آئے گا؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||