BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 March, 2005, 16:18 GMT 21:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میرا بی بی سی: ’تینتالیس برس کا تعلق‘

میں انجنیئر ہوں، میری عمر پچپن برس ہے اور آج بی بی سی سے میرے تعلق کو تینتالیس برس ہوگئے ہیں۔

میرا بی بی سی اردو سروس سے تعلق ایک اتفاق سے شروع ہوا اور اب یہ تعلق ایک ایسا مضبوط رشتے میں بدل گیا ہے کہ جس کے بغیر میں نہیں رہ سکتا۔
ہوا یوں کہ انیس سو باسٹھ میں جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم انگلستان کے دورے پر گئی تو ایک دن میں ریڈیو پر کرکٹ کی کمنٹری تلاش کر رہا تھا کہ میرے ریڈیو کی سوئی ایک ایسی جگہ اٹکی جہاں بی بی سی اردو سروس کا پروگرام لگا ہوا تھا۔ وہ مجھے بہت پسند آیا، بس اُس کے بعد سے میں نے باقاعدگی سے بی بی سی سُننا شروع کر دی۔

اُس وقت حامد حسن قادری بچوں کا پروگرام پیش کیا کرتے تھے جو مجھے بہت پسند تھا، میں بھی اُس پروگرام میں خط لکھا کرتا تھا۔ میرے پاس اُس وقت کی پروگرام گائیڈ اور تصاویر ابھی تک محفوظ ہیں۔

اُس وقت کی بی بی سی اردو سروس کی چند آوازیں مجھے آج بھی یاد ہیں اُن یادگار آوازوں میں زبیر علی، شاہد سیلم، اطہر علی اور اظہر کاظمی شامل ہیں۔

اب بی بی سی پر جہاں نئے لوگ آئے ہیں وہیں بی بی سی کے پروگراموں میں بھی کافی تبدیلی آئی ہے۔ اب حالات حاضرہ کا وقت بڑھا دیا گیا ہےجو مجھے بہت پسند ہے۔

بی بی سی سے میرے لگاؤ کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ میں انیس سو بیاسی سے انیس سو چھیاسی کے دوران میں زمبابوے میں تھا جہاں بی بی سی سُننے میں مجھے کافی مشکل پیش آ رہی تھی کیونکہ وہاں بی بی سی اردو سروس کی ریسپشن اچھی نہیں تھی تو میں نے اپنے شوق کو پورا کرنے کے لیے لندن سے شارٹ ویو ریسیور منگوایا جس پر اُس وقت میرے کوئی دو سو پاؤنڈ خرچ ہوئے تھے۔

میں اس ٹیلی وژن اور انٹرنیٹ کے دور میں ریڈیو کو اس لیے اہمیت دیتا ہوں کہ اگر کوئی شخص انٹرنیٹ یا ٹیلی وژن پر مصروف ہے تو وہ کوئی اور کام نہیں کر سکتا جبکہ ریڈیو سُننے والے پر اس طرح کی کوئی پابندی نہیں ہوتی، ریڈیو سنتے سنتے ہم اپنا روزمرہ کا کام بھی کر سکتے ہیں۔

جب میں صبح اُٹھتا ہوں تو ریڈیو پر بی بی سی لگا لیتا ہوں ساتھ ساتھ اپنے کام بھی کرتا رہتا ہوں جب جہاں نما ختم ہوتا ہے تو میں ورلڈ سروس کی نشریات سُنتا ہوں۔ اس دوران میں اپنی شیو بھی بنا لیتا ہوں اور ناشتہ بھی کر لیتا ہوں۔

لیکن مجھے ایک افسوس ہے کہ اب ریڈیو سُننے والے کم ہوتے جا رہے ہیں، میرے بچوں کو بھی اس ریڈیو سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، لیکن بی بی سی اردو سروس کے حوالے سے ایک حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ اب اردو سروس کی ویب سائٹ ہے جو جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، میں بی بی سی ریڈیو پر سُننے کے علاوہ اب اس کی ویب سائٹ بھی دیکھتا ہوں۔

بس میری ایک خواہش ہے کہ ’سب رس‘ کی طرح کا کوئی پروگرام ضرور ہونا چاہیے۔


حامد جنجوعہ سے یہ بات جیت بی بی سی اردو سروس کے لیے محمد اشتیاق نے کی۔ اگر آپ بھی بی سی کے پرانے سننے والے ہیں اور ہمیں اس بارے میں لکھنا چاہیں تو تفصیل سے لکھ بھیجیے کہ آپ نے بی بی سی کب شننا شروع کیا، کون کون سے پروگرام پیش کرنے والے لوگ آپ کو یاد ہیں، کون سب سب سے بہتر ہیں، ان سالوں میں آپ کے لیے بی بی سی کی یادگار نشریات کون سی تھیں اور اب آپ بی بی سی کے متعلق کیا سوچتے ہیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
علی عنصر، بی بی سی کا رضاکار
علی عنصر، خیر پُور میں بی بی سی کا رضا کار
میرا صفحہ: چکوال کا حالمیرا صفحہ: چکوال سے
بی بی سی سے چکوال کی امیدیں
 نوجوان نسل میڈیا اور نوجوان
میرا صفحہ: میڈیا نوجوان نسل پر اثر انداز ہو رہا ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد