پر تشدد نوجوان، ذمہ دار کون؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نوجوانوں میں تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ذمہ دار ایک بڑی حد تک میڈیا ہے۔ میڈیا کے کرتا دھرتا ایک طرف تو نوجوانوں کو تشدد کی طرف راغب کرنے کے الزامات کی نفی کرتے ہیں تو دوسری جانب سالانہ کروڑوں ڈالر نوجوان طبقے کو مدِ نظر رکھ کر بنائے جانے والے اشتہارات پر خرچ کرتے ہیں۔ اسی طرح فلم ساز کمپنیاں اور ٹیلی ویژن پروگرام بنانے والے اس بات سے منکر ہیں کہ ان کی فلمیں اور پروگرام نوجوانوں کے رویوں اور اعمال پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہی کمپنیاں معاشرے کے اسی نوجوان طبقے کو لبھانے کے لیے سپیشل افیکٹس اور تشہیری مہم پر اندھادھند پیسہ خرچ کرتی ہیں۔ کثیرالقومی کمپنیاں پہلے تو نوجوانوں سے مطابقت رکھنے والی اشیاء کی تیاری سے قبل مارکیٹ ریسرچ اور تشہیر پر ایک بڑی رقم خرچ کرتی ہیں لیکن بعد میں اس بات سے انکار کر دیتی ہیں کہ وہ نوجوانوں پر ثقافتی اور معاشرتی لحاظ سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ اگر یہ کمپنیاں اپنے دعویٰ میں سچی ہیں تو نائیکی جیسی کمپنی کیوں ہر سال کئی ملین ڈالر اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ اور تشہیر پر خرچ کرتی ہے؟ میکڈونلڈ آج بھی کس لیے اپنے برگر بیچنے کےلیے کارٹون کرداروں کا سہارا لیتا ہے؟ نوجوان نسل کوکرداروں میں استعمال کرتے ہوئے موسیقی کی ویڈیو میں دکھایا جانے والا تشدد اور سیکس اگر نوجوان نسل کو ابھارنے کے لیے نہیں تو پھر کس لیے ہے؟ شراب کے اشتہارات میں نوجوانوں کی سرگرمیاں فلمبند کرنے کا مقصد دراصل کیا ہے؟ دراصل ان تمام کوششوں کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے نوجوان نسل کے رویوں اور آئیڈیلز پر اثر اندار ہونا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج تشہیری کمپنیاں اربوں ڈالر کا کاروبار نہ کر رہی ہوتیں اور نہ ہی ایم ٹی وی جیسے چینل نوجوان نسل کے رجحانات کو جاننے کے لیے مشیر بھرتی کرتے۔ کپڑوں کا کاروبار کرنے والے کمپنیاں تشہیر کے لیے خوش شکل مردوں اور عورتوں کو اس لیے استعمال کرتی ہیں کیونکہ وہ ان کے بور اور سادہ کپڑوں کو رونق بخشتے ہیں۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت اگر آپ اپنےمسائل کے بارے میں یا کسی موضوع پر دلائل کے ساتھ کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||