بی بی سی کا رضاکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میری عمر اٹھائیس سال ہے۔جب میری عمر دو تین سال تھی، تب مجھے پولیو ہو گیا تھا اور میں چلنے سے محروم ہو گیا۔ میں اور بچوں کی طرح گھر سے زیادہ سے دور نہیں جا سکتا تھا۔ ہماری گلی میں ایک بزرگ بی بی سی ہر روز سُنتے تھے۔ اس لیے مجھے بھی وہاں سے بی بی سی سننے کی عادت پڑ گئی۔ میری تعلیم میں بھی بی بی سی کا کافی ہاتھ ہے۔ میں نے جب سُنا کہ بی بی سی کی ٹیم ہمارے علاقے میں آئی ہوئی ہے تو تب سے میں نے اپنی سائیکل کے پیچھے بی بی سی کا پوسٹر لگایا ہوا ہے اور اپنے علاقے میں لوگوں کو بی بی سی کے پروگرام میں آنے کی دعوت دے رہا ہوں۔ میں روزانہ شہر میں لگے ہوئے بی بی سی کے سٹال پر جاتا ہوں اور لوگوں کو بی بی سی کے پروگرام میں آنے کی دعوت دیتا ہوں، دوسرے لفظوں میں میں خیر پُور میں بی بی سی کا رضا کار ہوں۔ بی بی سی کے پروگرام ہیں تو بہت اچھے، لیکن میرے جیسے معذور لوگوں کے لیے بی بی سی پر کوئی خاص پروگرام نہیں ہے جس سے مجھے کافی دکھ ہوتا ہے۔ میں بی بی سی سے شکایت تو نہیں کرنا چاہتا لیکن بی بی سی کہ ایک سامع ہونے کی وجہ سے میں اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ بی بی سی کو مزید بہتر ہونا چاہیے۔ بی بی سی کے لوگ ہمارے مہمان ہیں، میں یہ نہیں بتا سکتا کہ مجھے انہیں لوگوں کو دیکھ کر کتنی خوشی ہو رہی ہے۔ میں نے بی بی سی کے کچھ نامہ نگاروں کے ساتھ تصاویر بنوائی ہیں جو میرے لیے ایک سند ہیں۔ آج بھی میں صبح سے بی بی سی کے اس پروگرام میں آیا ہوا ہوں۔ اس طرح کے پروگرام سے لوگوں اور بی بی سی کا رشتہ مضبوط ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||