آپ بیتیاں: فلوجہ کے در بدر خاندان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حالیہ دنوں میں امریکی بمباری کی وجہ سے ہزاروں لوگ فلوجہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ بی بی سی عربِک سروس نے امریکی فوجی آپریشن کے پس منظر میں فلوجہ کے تین خاندانوں سے بات چیت کی ہے۔ فلوجہ کے حالات پر ان خاندانوں کا ردعمل حسب ذیل ہے۔ ام عبداللہ کی فیملی ’ہماری فیملی فلوجہ سے ہے اور اس میں چھ افراد ہیں: میں، میری تین بیٹیاں اور دو بیٹے۔ امریکی حملے سے کچھ ہفتے پہلے ہی ہم نے فلوجہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ مجھے لگا کہ میرے بچوں کے لئے وہاں رہنا خطرناک ہوگا۔ ہم نے دیکھا کہ امریکی بمباری قریب تر ہونے لگی ہے اور ہمیں لگا کہ ہم اس کی زد میں آجائیں گے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ اپنی شادی شدہ بیٹی کے گھر جاکر رہیں گے جو بڑا ہے اور اس میں دو خاندان رہ سکتے ہیں۔
فلوجہ میں حالات امریکی حملے سے قبل برے تھے اور اب بھی برے ہیں۔ فلوجہ کے شہریوں کو دو خطرات کا سامنا تھا۔ اول، مسلح مزاحمت کار تھے جن میں کچھ عرب اور کچھ عراقی تھے۔ دوم، امریکی فورسز کی جانب سے ہمیں ہمیشہ خطرہ تھا۔ جس بات نے ہمیں فلوجہ چھوڑنے پر مجبور کردیا وہ عراقی حکومت کا بیان تھا کہ فلوجہ پر حملے جلد ہی شروع ہوں گے اور یہ کہ فلوجہ کے باشندے شہر چھوڑ دیں۔ لہذا نہ چاہتے ہوئے بھی ہم نے شہر چھوڑ دیا۔ ہم نے خود کو بچانے کے لئے اپنا سب کچھ وہاں چھوڑ دیا اور صرف کچھ کپڑے لے کر چل پڑے۔ فلوجہ کے باشندوں کی اکثریت نے شہر چھوڑ کر اپنے رشتہ داروں کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ جو لوگ کرائے پر مکان حاصل نہ کرسکتے تھے یا جن کے شہر سے باہر رشتہ دار نہیں تھے، انہیں حکومت کی مہیا کردہ کمیمپوں میں رہنا پڑا جہاں زندگی آسان نہیں تھی۔ ہم نے سنا کہ کچھ باشندوں نے سکولوں میں، ہسپتالوں میں پناہ لی۔ میں عراقی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہوں کہ غیرمسلح شہریوں کے تحفظ کے لئے اس نے کوئی کوشش نہیں کی۔ بدقسمتی سے حکومت صرف اس بات کے لئے ہی فکرمند تھی کہ مسلح ملیشیا کا خاتمہ کیسے ہو۔‘ ابو عمر الدلیمی کی فیملی ’یہ پہلی بار نہیں ہے جب ہم فلوجہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ہم نے اس وقت شہر چھوڑا جب حکومت نے مزاحمت کاروں کو الٹی میٹم دیا۔ پھر ہم واپس فلوجہ گئے۔ لیکن جلد ہی حالات خراب تر ہوتے گئے اور شہر پر بمباری تیز ہوگئی اور ہمیں دوبارہ فلوجہ چھوڑنا پڑا۔ ہم نے اسی وقت شہر چھوڑ دیا جب حکومت نے ہمیں فلوجہ چھوڑنے کو کہا۔ دکھی دل سے ہم نے شہر چھوڑا لیکن ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ہم کہاں جارہے ہیں۔ ہمیں صرف اتنا معلوم تھا کہ ہمیں جتنا جلد ہوسکے شہر چھوڑنا ہے۔
ہماری فیملی میں تیس افراد ہیں اور ہم نے ایک ساتھ گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ پھر ہم تین گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ ہم نے بغداد میں پناہ لی جہاں ایک رشتہ دار نے ایک گھر میں جگہ دی۔ یہاں ہماری زندگی بدتر ہے اور ہم فلوجہ واپس جانا چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس فلوجہ میں دو ٹیکسیاں تھیں۔ لیکن ان میں سے ایک چوری ہوگئی، جس سے ہماری آمدنی کا ذریعہ آدھا ہوگیا۔ خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے پڑوسیوں نے ہماری مدد کی اور ہمیں روزانہ کھانا بھیجنا شروع کیا۔ ہماری فیملی کا ایک فرد روزانہ فلوجہ جاتا تھا کہ یہ دیکھا جاسکے کہ کہیں ہمارا مکان لوٹ تو نہیں لیا گیا۔ لیکن بعد میں شدید بمباری ہونے لگی تو امریکی فوجیوں نے فلوجہ جانے کا راستہ بھی بند کردیا۔ ہم عام لوگ ہیں اور فلوجہ میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے لئے ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہم صرف امن سے رہنا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے رشتہ داروں کی مہربانی اور ہمدردی کے لئے ان کے شکرگزار ہیں۔ ہمارے بچوں نے تعلیمی سال شروع ہونے سے اب تک سکول کا راستہ نہیں دیکھا ہے۔ اس لئے وہ عارضی طور پر بغداد کے ایک سکول میں داخلہ کرانے جارہے ہیں۔ ‘ الجبوری فیملی ’ایک ماہ قبل جب امریکی بمباری شدید ہوگئی تو ہم نے فلوجہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ میری فیملی میں اٹھارہ افراد ہیں: میرے والدین جو عمررسیدہ ہیں اور باقی بیٹے بیٹیاں اور پوتے پوتیاں۔
ہمارے پاس اتنا پیسہ نہیں تھا کہ ہم ایک مکان کرائے پر لیتے اور چونکہ میری فیملی بڑی ہے، اس لئے ہم کسی رشتہ دار کے گھر نہیں جاسکتے تھے۔ لہذا ہم نے خود کو کئی گروہوں میں تقسیم کیا تاکہ عراق میں مختلف مقامات پر رہ سکیں۔ لیکن ہم میں سے بیشتر بغداد گئے۔ ہمارے پاس غذا اور پیسے کافی نہیں ہیں۔ لیکن ہم بغداد میں جس خاندان کے ساتھ رہ رہے ہیں، وہ لوگ کافی مہربان ہیں۔ ہماری میزبان خاتون ام علی کہتی ہیں کہ وہ ہمیں ایک سال تک رکھنے کے لئے تیار ہیں اور یہ کہ اگر ان کا مکان بڑا ہوتا تو اپنی غربت کے باوجود وہ ہم سب کو سہارا دیتیں۔ام علی کو قرضہ لینا پڑا تاکہ ہم لوگوں سمیت گھر کے تمام افراد کا خرچہ چلایا جاسکے۔ جو لوگ فلوجہ میں رہ گئے ان کے ساتھ کیا ہوا اس کے بارے میں کئی طرح کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ضرور کئی لوگ ہلاک ہوئے ہوں گے۔ ہم نے سنا کہ امریکیوں نے صرف مزاحمت کاروں کو ہی نہیں، دیگر کئی لوگوں کو بھی قیدی بنالیا۔ اللہ کا شکر ہے، ہم بمباری سے بچ گئے۔ لیکن اب ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے گھر سے طویل عرصے تک دور رہنا پڑے گا جو پہلے ہم نے سوچا نہیں تھا۔ ہم دکھی ہیں کہ عراقی حکومت نے ان حالات میں ہمارے لئے کچھ نہیں کیا اور کوئی مدد نہیں کی۔ یہ بتانا مشکل ہے کہ مستقبل قریب میں ہم لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا۔ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں ک ہم فلوجہ جلد واپس ہوں اور ایک فیملی کی طرح رہ سکیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||