BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 December, 2003, 12:28 GMT 17:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بام: زلزلے کی روداد
اجتماعی قبریں تیار کی جارہی ہیں
اجتماعی قبریں تیار کی جارہی ہیں

ایران کے شہر بام میں جمعہ کے روز آنے والے زلزلے میں ساڑھے بائیس ہزار سے زیاد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد تیس ہزار تک بڑھ جائے گی۔ بی بی سی کے قارئین نے ہمیں ایران اور دیگر مقامات سے حسب ذیل تاثرات اور رپورٹیں بھیجی ہیں۔


حجت، کرمان: سنیچر کی صبح کے چار بجے ہیں، بام میں آنیوالے زلزلے کو بائیس گھنٹے گزر چکے ہیں اور زخمیوں کو کرمان کے بہونار ہسپتال میں لایا جارہا ہے۔ ایک خاتون جو بام میں تھی ایک نوزائیدہ بچی کو سیٹی اسکین کے لئے لائی ہے۔ بچی بھوک کی وجہ سے رورہی ہے۔ اس کے والدین ملبوں میں دب کر ہلاک ہوچکے ہیں۔ بھوک کی وجہ سے اس کی آنکھوں کی نیچی پلکیں نیلی ہوگئی ہیں۔ ڈاکٹروں نے سیٹی اسکین کی تیاری مکمل کرلی ہے اور اس کا نام زہرہ رکھا ہے۔

سپیدے، بفت، کرمان: میں اب تہران میں ہوں۔ جب میں نے زلزلے کی خبر سنی تو بام میں میری فیملی سے رابطہ کرنے میں مجھے ایک گھنٹے لگا۔ تب مجھے حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔ میں خدا سے دعاء کرتا ہوں کہ وہ ہمیں مدد کرے کہ ہم زلزلے کے متاثرین کی مدد کرسکیں۔ حکام کب تک معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے رہیں گے؟ کیا چار سال قبل ہی گولفت میں آنیوالے زلزلے کے بعد ماہرین نے نہیں بتایا تھا کہ کرمان میں بھی زلزلہ آسکتا ہے؟

مسعود، کرمان: میں بام کے اپنے ایک دوست سے بات کررہا ہوں۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کے اسُی رشتہ دار اس زلزلے میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنے تباہ شدہ مکان کی کھڑکیوں سے دیکھ رہا ہے، جس روڈ پر وہ رہتا تھا تمام مکانیں گرچکیں ہیں اور صرف ایک بستر باقی ہے۔ اس کا کہنا ہے: ’ہم لوگ ابھی زندہ ہیں، یہ ایک معجزہ ہے۔ امدادی کارکنوں نے تمام امیدیں ترک کردی ہیں۔ صرف کتے ہی مرے ہوئے جسموں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کڑاکے کی سردی پڑرہی ہے۔ گزشتہ آٹھ برسوں میں بام میں جو سیاحوں کے لئے مکانات بنائے گئے تھے وہ تباہ ہوچکے ہیں۔

سینا، تہران: میرا نام سینا ہے، میری عمر سترہ سال ہے۔ میں اپنی فیملی کے ساتھ تہران میں ہوں۔ مجھے ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ میری چاچی اور اس کے شوہر ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔ ہم انہیں بچانے کے لئے جارہے ہیں۔

حسین آغاپوری، زاہدان، ایران: ایران کرد طلباء کے نمائندے کی حثییت سے میں اس سانحے پر نہایت اداس ہوں۔ ہماری تمام دعائیں زلزلے کے متاثرین کے لئے ہیں۔

مارک استاریہ، لندن: زلزلے کے متاثرین کے لئے برطانوی ریڈ کراس نے ایمرجنسی اپیل کی ہے۔ ہماری ویب سائٹ پر آئیں جس کا پتہ ہے: www.redcross.org.uk

مہدی، شیراز: اتنی بڑی تباہی میں نے نہیں دیکھی تھی۔ صرف سیکنڈوں میں میرے ہزاروں لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔ مجھ سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا لکھوں۔ میری دعائیں زلزلے کے متاثرین کے ساتھ ہیں۔

علی، زاہدان، ایران: صبح کا سکوت اچانک ٹوٹ گیا، چاروں طرف تباہی کا منظر تھا، لوگ اپنے رشتہ داروں کی لاشوں پر زاروقطار رورہے تھے۔ ہماری مدد کیجئے، ان ملبوں میں ہمیں دفن ہونے سے بچائیے، یہ زلزلہ ہارے بچوں اور خواتین، زخمی بزرگ لوگوں کے لئے جاڑے کی سرد راتوں میں مشکل ہی مشکل چھوڑ گیا ہے۔

زہرہ، تہران: پلیز ہماری مدد کریں۔ میرے ملک کے بہت لوگ ہلاک ہوگئے ہیں اور لاتعداد زخمی ہیں۔ یہ بہت بڑی تباہی تھی۔ موسم کافی سخت ہے، متاثرین کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، گرم کپڑے، کھانے کی اشیاء، پینے کا پانی، کچھ بھی نہیں، پورا بام شہر تباہ ہوگیا ہے۔

شہرزاد ناصری نِک، تہران: میں ایک اٹھارہ سالہ ایرانی لڑکی ہوں۔ میں سوچ رہی ہوں کہ اگر ہمارے ساتھ ایسا ہوا ہوتا تو ہم پر کیا گزری ہوتی۔ بام کے لوگ صرف ایک سیکنڈ میں اپنی پوری دنیا کھو بیٹھے۔ ان لوگوں کے بارے میں سوچئے جن کی ابھی شادی ہوئی تھی، چھوٹے بچے اور بچیاں جنہوں نے اس اختتام ہفتہ کے لئے کچھ منصوبے بنارکھے تھے، وہ لوگ جو اپنے رشتہ داروں سے ملنے آئے تھے، وہ لوگ جنہیں نہیں معلوم تھا کہ قسمت نے ان کے لئے کیا تحریر کررکھا ہے۔۔۔۔

عبدالحسین عبدالاہی، زراند۔کرمان: صبح پانچ بجکر آٹھائیس منٹ پر میری بیوی، میری چھ سالہ بیٹی اور میں زلزلے کے جھٹکے سن کر پریشانی کی حالت میں بستر سے باہر نکلے۔ سیکنڈوں میں میری بیوی چلارہی تھیں: اوہ، زلزلہ، بھاگو، بھاگو۔۔۔ ذہنی طور پر ہمارے لئے یہ بہت بڑا صدمہ تھا۔ ہم لوگوں کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ہم کیا کریں۔ یہ واقعہ بام سے دوسو کیلومیٹر دور واقع شہر زراند میں پیش آیا۔ بام میں لوگوں پر کیا گذری ہوگی۔

ارمین درودیان، تہران: رودبار میں تیرہ سال قبل آنیوالے ایک زلزلے میں میرا ایک دوست ہلاک ہوگیا۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ لوگوں پر کیا گزررہی ہوگی، مجھے امید ہے کہ امیر ممالک مدد کریں گے۔

مریم ہمدا، تہران: میں اس علاقے کے متاثرین کے لئے غمگین ہوں۔ جب یہ زلزلہ اس وقت آیا تھا جب سبھی لوگ سورہے تھے۔ بہت سے موت کی نیند سوگئے۔ میں متاثرین کے لئے عالمی امداد کی اپیل کرتی ہوں۔

اصغر غاصمی، تہران: اس زلزلے میں میری اہلیہ لاپتہ ہوگئیں، میری دنیا میں صرف وہی تھیں۔ میں بہت اداس ہوں۔ بام کے لوگوں کو عالمی امداد کی ضرورت ہے۔ میں بچوں اور بزرگوں کی مدد کے لئے بام جارہا ہوں۔ اس بات کی امید نہیں ہے کہ میری اہلیہ مل پائیں گی، لیکن دوسرے متاثرین کی مدد کروں گا۔

نرگس، تہران: میں ایک ایرانی لڑکی ہوں۔ پلیز ہماری مدد کیجئے۔ موسم اتنا سرد ہے، ان کے پاس گرم کپڑے نہیں ہیں، غذا نہیں ہے، پینے کو پانی نہیں ہے۔ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ان میں سے کئی گزشتہ شب کی سردی سے ہلاک ہوگئے۔

علی شمدانی، تہران: بام سے خبر ملی کہ شہر کا نوے فیصد حصہ تباہ ہوگیا ہے اور ہزاروں جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ میری دادی، چچا اور چچی ہلاک شدگان میں ہیں۔

مصطفیٰ، کرمان، بام: میرا خاندان تین برسوں سے بام میں آباد تھا۔ ہمارا تعلق شمالی ایران کے صوبے گیلان سے ہے۔ زلزلے کی خبر سن کر فوری طور پر میں کرمان شہر سے بام کے لئے روانہ ہوگیا۔ وہاں پہنچنے پر میرے سامنے ایک ویران تھا، ایک دکھ بھری کہانی تھی: تمام عمارتیں تباہ ہوگئیں تھیں اور سڑکوں پر دھول اور ریت کا سیلاب تھا۔ ان مناظر کو دیکھتے ہی میں اپنے رشتہ داروں کے بارے میں فکرمند ہوگیا لیکن اللہ کے کرم سے، میری فیملی محفوظ ہے۔

جمال، شیراز: میں ایک ایرانی لڑکا ہوں۔ بام کے زلزلے سے مجھے کافی صدمہ پہنچا ہے۔ میں آپ سے مدد کی اپیل کرتا ہوں۔۔۔۔

محمد رضا یاوری، تہران: یہ بہت بری خبر ہے۔ کمزور عمارتیں زیادہ ہلاکتوں کے لئے ذمہ دار ہیں۔ ایرانی حکومت کو چاہئے کہ وہ زیادہ عمارتیں بنانے کے بجائے مضبوط مکانات تعمیر کرنے کے بارے میں سوچے۔ میں بام کے متاثرین کے لئے دعاءگو ہوں۔

علی رضا، تہران: میں اس زلزلے سے بری طر متاثر ہوا ہوں۔ میرے کچھ رشتہ دار بام میں رہتے تھے۔ ماضی میں میں زلزلے سے متاثر ہوا تھا لیکن پورا شہر تباہ نہیں ہوا تھا۔ بام میں آنیوالے زلزلے سے بلاشبہہ لاتعداد افراد کی جانیں ضائع ہوجائیں گی۔ مجھے امید ہے کہ اس طرح کی تباہی سے معصوم لوگوں کی جان بچانے کے لئے مستقبل میں کوئی اقدام کیا جائے گا۔

فاطمہ، تہران: مجھے اس تباہی کی خبر سن کر کافی صدمہ پہنچا ہے۔ مجھے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ہم اس طرح کی تباہی سے خود کو کیسے بچا سکتے ہیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد