حسین کی پینٹگ فحش نہیں: عدالت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ایک عدالت نے معروف مصور ایم ایف حسین کے خلاف فحاشی سے متعلق تین مقدمات خارج کر دیئے ہیں۔ ایم ایف حسین کے خلاف ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں 7 مقدمات دائر ہیں اور ان پر الزام ہے کہ ان کی بعض پینٹنگز فحش ہیں۔ یہ سارے مقدمات ایم ایف حسین کی درخواست پر دلی کے ہائی کورٹ میں منتقل کردیئے گئے تھے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنی ایک پینٹنگ میں ہندوستان کو ایک ننگی گوڈیس یا بھگوان کے روپ میں دکھایا ہے۔ ایم ایف حسین کے خلاف مقدمات خارج ہوئے دلی کے عدالت نے کہا ہے کہ ایم ایف حسین کی پینٹنگ فحش نہیں تھی۔ ہندوستان میں فحاشی قانونی جرم ہے۔ ہندوستان میں کئی مقدمات دائر ہونے کے بعد ایم ایف حسین دبئی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
حسین کے وکیل اکھل سبل نے بتایا ہے کہ عدالت نے کہا ہے کہ ’90 سالہ ایم ایف حسین ملک وطن واپس آنے کے حقدار ہیں اور اپنی پینٹنگ جاری رکھیں۔‘ 2006 میں حسین نے اپنی پینٹنگ کے لیے عوام سے معافی مانگی تھی۔ بعض ہندو نظریاتی تنظيموں کی جانب سے مخالفت کے بعد ایم ایف حسین نے کہا تھا کہ وہ نیلام گھر سے اپنی متنازعہ پینٹنگز واپس لے لیں گے۔ ہندوستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں کئی مہنیوں سے حکومت سے مطالبہ کررہی ہیں کہ وہ ایم ایف حسین کو واپس وطن بلائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور اگر ایم ایف حسین جیسے مصور اپنے ملک میں واپس نہیں آسکتے تو اس سے ہندوستان کی سیکولر شبیہ کو نقصان پہنچے گا۔ | اسی بارے میں مقدمہ کی سماعت روک دیں: عدالت10 April, 2006 | انڈیا حسین کی جائیداد: ضبطی کے نوٹس 07 May, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||