BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 September, 2007, 17:05 GMT 22:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سٹنگ آپریشن، رپوٹر گرفتار

انڈین ٹی وی (فائل فوٹو)
ہندوستان میں سٹنگ آپریشن ذرائع ابلاغ کا ایک اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں
دارالحکومت دلی میں پولیس نے مبینہ طور پر جعلی سٹنگ آپریشن کے ایک معاملے میں پرائیویٹ ٹی وی چینل کے ایک صحافی کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا ہے۔ اس پرائیویٹ ٹی وی چینل نے سٹنگ آپریشن میں یہ دکھانے کی کوشش کی تھی کہ سرکاری سکول کی ایک ٹیچر طالبات سے جسم فروشی کراتی اور ان کی عریاں فلمیں بناتی تھیں۔

سٹنگ آپریشن کے نشر ہونے کے بعد ٹیچر کے خلاف پر تشدد مظاہرے ہوئے تھے اور مشتعل ہجوم کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ یہ ایک’ جعلی سٹنگ آپریشن‘ ہے جسے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ پولیس کے ترجمان راجن بھگت نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جو لڑکی سٹنگ آپریشن میں دکھائی گئی وہ طالب علم نہیں ہے اور اسے جسم فروشی کے لیے کھورانہ نے مجبور کیا ہو اس کا بھی ثبوت نہیں ہے‘۔

پولیس نے پہلے اس لڑکی کو حراست میں لیا تھا جس نے سٹنگ آپریشن میں اپنے آپ کو طالبہ کے طور پر پیش کیا ہے۔ چینل کے رپوٹر کو تفتیش کے لیے طلب کیا گيا تھا لیکن رپوٹر نے جب انکار کیا تو پولیس نےگرفتار کرلیا۔ خبروں کے مطابق مذکورہ لڑکی کا تعلق ایک ہندی اخبار سے ہے۔

ہندوستان میں سٹنگ آپریشن ذرائع ابلاغ کا ایک اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث مباحثے بھی ہوتے رہے ہیں۔ حکومت نے براڈ کاسٹنگ قوانین میں بعض تبدیلیوں کا اشارہ بھی کیا ہے۔ اطلاعات و نشریات کے وزیر پریہ رنجن دس منشی نے حال ہی میں کہا تھا کہ اس سے متعلق ایک بل پر غور ہو رہا ہے۔

لیکن ایک پرائیویٹ ادارے نیوز براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن ’این بی اے‘ اس کا مخالف ہے۔ اس کے صدر جی کرشنن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کی روک تھام کے لیے تمام پرائیوٹ چینلز ایک سیلف ریگولٹری سسٹم بنانا چاہتے ہیں۔ ’ ہم یہ نہیں چاہتے کہ بعض ایسے واقعات کی بنیاد پر حکومت مداخلت شروع کرے، ہم اسے روکنے کے لیے خود کے اصولوں پر عمل کریں گے لیکن حکومت کی طرف سےکوئی گائیڈ لائن نہیں چاہیے‘۔

سٹنگ آپریشن کی باقاعدہ شروعات تہلکہ ڈاٹ کام نے کی تھی۔اس نے واجپئی کی حکومت میں دفاعی سودوں میں بدعنوانی کے بعض معاملات کو اٹھانے کی کوشش کی تھی جس سے ملک میں زبردست سیاسی ہلچل پیدا ہوگئی تھی اور اس وقت کے وزیر دفاع کو استعفٰی دینا پڑا تھا۔

تہلکہ کے ایڈیٹر ترن تیج پال نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹنگ آپریشن صحافی کے پاس ایک اچھا ہتھیار ہے لیکن اس کا بیجا استعمال بھی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’سٹنگ آپریشن سے عوام کا فائدہ ہوسکتا ہے، یہ اس بندوق کی طرح ہے جس سے برائی اور اچھائی دونوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ اب یہ چلانے والے پر ہے کہ وہ کس پر چلاتا ہے۔ یہ جو بھی کچھ ہوا ہے اس کی ہمیں مذمت کرنی چاہیے لیکن اچھی چیزوں کو سراہنا بھی چاہیے‘۔

مذکورہ سٹنگ آپریشن میں جس ٹیچر کا ذکر ہے وہ پرانے شہر کے ایک سکول میں پڑھاتی تھیں۔ ہنگامے کے بعد پولیس نے متعلقہ ٹیچر کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا تھا اور بعد میں انہیں ملازمت سے برخاست کر دیا گیا تھا۔ وہ ٹیچر ابھی بھی عدالتی تحویل میں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد