BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 September, 2007, 11:08 GMT 16:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار:اسکولوں میں چک دے انڈیا

شاہ رخ خان
’چک دے انڈیا‘ فلم کو ٹیکس فری کر نے کی توقع
شاہ رخ خاں کی مشہور فلم ’چک دے انڈیا‘ کی بدولت بھارتی ہاکی ٹیم کے مظاہرے میں کوئی بہتری آئے یا نہ آئے لیکن بہار کے سرکاری ہائی اسکولوں میں لڑکیوں کو ہاکی میں اپنا ہنر دکھانے اور اسے بہتر کرنے کا موقع ضرور مل گیا۔

ریاست کے محکمۂ تعلیم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ لڑکیوں کے سرکاری اسکولوں میں ہاکی اسٹک، جرسی، جوتے اور دیگر متعلقہ ساز و سامان خریدنے کے لیے فی اسکول دو لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔

ریاست کی انسانی وسائل کی وزارت کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر مدن موہن جھا کے مطابق سبھی اضلاع کے ایجوکیشن افسر(ڈی ای او) کو سرکاری گرلز اسکولوں میں ہاکی کا ساز و سامان خریدنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ڈ اکٹر جھا نے ہمیں بتایا کہ یہ اسکیم ان اسکولوں میں بھی نافذ کی جائے گی جہاں لڑکیوں کی خاطر خواہ تعداد ہے۔

واضح رہے کہ ریاست جھارکھنڈ کی علیحدگی سے قبل بہار کی لڑکیوں اور لڑکوں کی ہاکی ٹیم قومی ٹورنامنٹوں میں کافی اچھا مظاہرہ کرتی تھی لیکن اب اس کی حالت اتنی اچھی نہیں ہے۔

 سبھی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسروں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر سے طلبہ و طالبات کے ساتھ فلم ’چک دے انڈیا‘ دیکھنے کو کہیں
ڈاکٹر مدن موہن جھا

بہار ویمنز ہاکی ایسو سی ایشن کے سیکریٹری یوگیش حکومت کے اس فیصلے کو بہت اہم بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے ریاست میں لڑکیوں کی ہاکی کو جلا بخشنے میں مدد ملے گی۔

مسٹر یوگیش کہتے ہیں کہ ریاست کی تقسیم کی وجہ سے ہاکی کے لیے ضروری تمام انفرا سٹرکچر مثلاً ٹرف اور کوچنگ سنٹرز جھارکھنڈ میں رہ گئے اس لیے پہلے ’ٹاپ فائیو‘ میں رہنے والی بہار کی لڑکیوں کی ہاکی ٹیم اب کہیں نظر نہیں آتی۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست میں ضروری سہولیات نہ ہونے کے سبب بہار کی لڑکیاں آج گجرات، دلی اور پنجاب وغیرہ کی نمائندگی کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر مدن موہن جھا کے مطابق سبھی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسروں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر سے طلبہ و طالبات کے ساتھ فلم ’چک دے انڈیا‘ دیکھنے کو کہیں۔

دوسری جانب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ ریاست میں ’چک دے انڈیا‘ فلم کو ٹیکس فری کر دیا جائے۔

حال ہی میں کھیلوں کی ایک تقریب کے دوران نائب وزیراعلٰی سشیل کمار مودی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس فلم کو ٹیکس فری کر دیا جائے تو اس تقریب میں شامل وزیراعلٰی نتیش کمار نے اعلان کیا کہ مسٹر مودی اقتصادی امور کے وزیر کی حیثیت سے سفارش کریں تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہوگا۔

اسی بارے میں
’ایسے مت چک انڈیا‘
25 August, 2007 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد