BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 March, 2007, 10:42 GMT 15:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس زبردستی کِھلا رہی ہے

شرمیلا کو ایک بار پھر ہسپتال میں داخل کر دیا گيا ہے (فائل فوٹو)
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ چھ برس سے بھوک ہڑتال پر بیٹھی اروم شرمیلا چنو کو زبردستی کھانا کھلانا شروع کر دیا ہے۔

اروم شرمیلا ریاست میں مسلح افواج کو ’ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ‘ کے تحت دیے جانے والے خصوصی اختیارات کے خلاف احتجاجاً بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔

گزشتہ پانچ مہینے دلی میں گزارنے کے بعد وہ واپس منی پوری چلی گئيں۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا، لیکن گزشتہ ہفتے دلی سے امپھال پہچنے پر پولیس نے اروم شرمیلا کو گرفتار کرلیا تھا۔

شرمیلا کو ایک بار پھر ہسپتال میں داخل کر دیا گيا ہے اور انہیں حفاظتی دستے کے حوالے کرنے کے بعد جواہر لعل نہرو ہسپتال کے ایک سپیشل وارڈ میں رکھا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا تھا ’ہمیں انہیں زبردستی کھانا کھلانا ہوگا ورنہ ان کی موت ہوجائے گی۔‘

مذکورہ ایکٹ کے خلاف اور لوگ بھی احتجاج کرتے رہے ہیں

اروم شرمیلا نے امپھال میں ایک نامہ نگار کو بتایا ’دلی میں احتجاج کرنے سے میرے مطالبات کو کافی تشہیر ملی اور اب اقوام متحدہ تک کو اس مسئلے کا پتہ لگ گیا ہے۔ وقت ہے کہ اب شمال مشرقی ریاست میں انسانی حقوق کی پامالی کے معاملات کی بہتر طریقے سے چھان بین کی جائے ۔‘

شرمیلا کی بھوک ہڑتال آسام رائفل کے نیم فوجی دستے کے ہاتھوں امپھال کے نزدیک میلوم میں سنہ دو ہزار میں دس افراد کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی۔

شرمیلا کی بھوک ہڑتال کا ریاست کے حالیہ اسمبلی انتخابات پرکوئی اثر نہیں ہوا ہے کیونکہ ان انتخابات میں مسلح افواج کو دیے جانے والے خصوصی اختیارات کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی مقامی سیاسی جماعت منی پور پیپلز پارٹی کو شکست ہوئی ہے۔ جیتنے والی جماعت کانگریس نے اس مسئلے کو انتخاب کے دوران نظر انداز کیا تھا۔ یہاں تک کہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی اس مسئلہ پر منی پور میں انتخابی ریلی کے خطاب کے دوران کچھ بھی کہنے سے گريز کیا تھا۔

خصوصی اختیارات ایکٹ
 اس ایکٹ کے تحت افواج کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے آپریشن کے وقت بہت زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں ۔ان قوانین کے تحت فوج کو گھروں کی تلاشی اور اپنے دفاع میں قتل کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہیں۔

چالیس سال پرانے اس ایکٹ کے تحت افواج کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے آپریشن کے وقت بہت زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں ۔ان قوانین کے تحت فوج کو گھروں کی تلاشی اور اپنے دفاع میں قتل کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہیں۔

دو ہزار چار میں تھانگ جام منورمہ کے مبینہ جنسی زیادتی اور قتل کے بعد ریاست میں زبردست احتجاج ہوا تھا جس کے بعد مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے ایک سابق جج ایل جیون ریڈی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں فوج کو ملنے والے خصوصی اختیارات کو ختم کرنے کی سفارش کی تھی، لیکن حکومت حفاظتی اہلکاروں کے دباؤ میں اس سفارش کو قبول نہیں کر رہی ہے۔

وزیر دفاع اے کے انٹونی نے اس ایکٹ کو ہٹانے سے انکار کیا اور کہا کہ اگر اسے ہٹایا گیا تو دہشت گردانہ کارروئی پر قابو پانا مزید مشکل ہوجائے گا۔

طویل ترین برت
منی پور کی خاتون کی چھ سالہ بھوک ہڑتال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد