اتراکھنڈ میں پولنگ مکمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی ریاست اتراکھنڈ میں بدھ کی صبح سے اسمبلی انتخابات کی پولنگ جاری ہے۔ کُل ستر اسمبلی حلقوں میں 69 نشستوں کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کے بیچ مکمل ہو گئی ہے۔ نتائج کا اعلان ستائیس فروری کو کیا جائے گا۔ مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے پولنگ شروع ہوئی۔ ابتدائی مرحلے میں پولنگ کی رفتار دھیمی رہی۔ تقریباً ساٹھ لاکھ رائے دہندگان 785 سے زائد امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کیا۔ کُل سات ہزار چار سو اکیانوے پولنگ مراکز بنائے گئے جن میں بارہ سو پولنگ مراکز حساس یا انتہائی حساس قرار دے دیے گئے تھے۔ باجپور اسمبلی حلقے میں کانگریس امیدوار جنک راج شرما کی موت کی وجہ سے اس حلقے میں انتخاب کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اسمبلی انتخابات کے ساتھ لوک سبھا کے تیھری حلقے کے لیے ضمنی انتخابات بھی ہو رہے ہیں۔ ماؤ نوازوں اور دہشت گردوں کی جانب سے تخریب کاری کے اندیشے کے بیچ الیکشن کمیشن نےآزادانہ اور شفاف الیکشن کرانے کے لیے ریاستی پولیس اور سینٹرل نیم فوجی دستوں کی پچھہتر ہزار جوانوں کی تعیناتی کی تھی۔ بھارتیہ جتا پارٹی، بھوجن سماج پارٹی اور کانگریس نے سب ہی اسمبلی حلقوں سے اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارے۔ جبکہ راشٹوادی کانگریس پارٹی نے چھبیس، مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی نے چھ اور بھاریتہ کمیونسٹ پارٹی نے تین امیدوار میدان میں اتارے۔ اہم امیدواروں میں سابق وزیر اعلی بھگت سنگھ کوشیاری (بی جے پی ) کپکوٹ، اسمبلی اسپیکر یشپال اریہ (کانگریس) موکتیشور اور کاشی سنگھ اہیری(اتر اکھنڈ کرانتی دل) کنولی چینا اسمبلی حلقوں سے اپنی قسمت آزمائی۔ ریا ست بننے کے بعد دوسری بار اسمبلی انتخابات ہورہے ہیں۔ ریاست میں نارائن دت تیواری کی قیادت میں کانگریس کی حکومت ہے۔ مہم کے دوران خراب موسم اور بارش کے سبب بعض انتخابی ریلیاں متاثر ہوئی تھیں اور وزیر اعظم من موہن سنگھ کو بھی اپنی انتخابی ریلی معطل کرنا پڑی تھی۔ | اسی بارے میں منی پور انتخابات کا دوسرا مرحلہ14 February, 2007 | انڈیا سونیا گاندھی، بایاں محاذ کامیاب11 May, 2006 | انڈیا ریاست بہار کے پنچایتی انتخابات22 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||