صدام کی یاد میں بچوں کا جلوس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست راجستھان کے شہرجودھپور میں صدام حسین کو یاد کرنے کے لیے بہت سے بچوں نےصدام کی وردی میں ایک جلوس نکالا اور مرحوم رہنما کو سلامی دی۔ تمام بچوں نےصدام کا ہم شکل بننے کے لیے انہیں کی طرح کی وردی پہن رکھی تھی۔ جودھپور کے عوام سڑکوں پران ’صداموں‘ کا جلوس دیکھ کر حیرت میں تھے۔ جلوس کے منتظم توحیداحمد خان کہتے ہیں کہ اس جلوس کا مقصد ان بچوں کی حوصلہ افضائی کر نا ہے جن بچوں کے نام صدام حسین ہے۔’ہمارا مقصد صدام کو ایک ہیرو کی طرح پیش کرنا ہے۔ صدام بہادر تھے، ہندوستان کے دوست تھے اور اپنے وطن کے لیے لڑتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔‘ منتظمین کا کہنا ہے کہ پہلی خلیجی جنگ کے بعد صدام کے نام کی تشہیر ہوئی تھی اور تبھی بہت سے والدین نے اپنے بچوں کا نام صدام رکھا تھا۔ توحید خان کہتے ہیں: ’میں نے صدام نام والے بچوں کی تلاش کی تو اسّی بچوں کی فہرست تیار ہوگئي۔‘ اس جلوس کو ریاستی اسمبلی کے ایک سابق رکن جگل کابرا اور کانگریس کے رہنما بدری جاکھڑ نے پرچم دکھا کرروانہ کیا۔
سٹیڈیم میں صدام کی یہ بھیڑ بش پر ٹوٹ پڑی اور بش نامی گیند کو پیروں تلے کچلنے کے ساتھ ہی بش کے خلاف نعرے بھی بلند کیے گئے۔ میچ کے بعد کھلاڑیوں کے درمیان انعام تقسیم کیا گیااور صدام کے لیے مغفرت کی دعائیں کی گئیں۔ توحید خان نے بتایا: ’ہمارے بھانجے کا نام صدام ہے اور جب صدام حسین کو پھانسی دی گئی تو وہ مایوس ہوگیا، اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ کہیں صدام کے نام والے بچوں میں احساس کمتری نہ پیدا ہو جائے اس لیے یہ پروگرام کیا گیاہے۔‘ بغداد سے جودھپور کا فاصلہ بہت زیادہ ہے لیکن صدام کے نام نے اس فاصلے کو کم کر دیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ شہر میں صدام کے نام کے بچے ہر محلے میں ہیں۔ | اسی بارے میں انڈیا کے ’صدام حسین‘ 09 January, 2007 | انڈیا صدام کی پھانسی کے خلاف ہڑتال 05 January, 2007 | انڈیا صدام پھانسی پر اظہارِ افسوس 30 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||