بندروں کو شہر بدری کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نےدہلی کی سڑکوں سے پکڑے گئے تین سو بندروں کو مرکزی ریاست مدھیا پردیش کے جنگلات میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ ہزاروں بندر جو دارالحکومت، خصوصاً سرکاری دفاتر کے اردگرد مٹر گشت کرتے پائے جاتے ہیں، عوام کے لیے باعثِ زحمت تصور کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے سرکاری ملازموں کو بھی دہشت زدہ کر رکھا ہے اور ایک مرتبہ تو بندروں نے حساس خفیہ کاغذات بھی نوچ ڈالے۔ لیکن چونکہ ہندو بندروں کو مقدس جان کر انہیں کھلاتے پلاتے ہیں جن سے انکی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ خوراک کی چھینا جھپٹی دہلی میں آوارہ بندروں کی بڑی آبادی شہریوں کے لیے ایک پرانا مسئلہ ہے۔ بہت سی شہری آبادیوں میں وہ پریشانیوں کا باعث بنتے ہیں جہاں وہ انجان لوگوں خصوصاً بچوں سے خوراک چھین لیتے ہیں۔ چونکہ ہندو بندروں کو مقدس جانتے ہیں اس لیئے حکومت کے لیے بندروں سے چھٹکارہ پانااور بھی مشکل ہے۔ اب سپریم کورٹ نے حکم صادر کیا ہے کہ جو تین سو بندر پکڑے گئے ہیں انہیں مرکزی ہندوستان کے جنگلات میں پھر سے آباد کیا جائے۔ لیکن آغاز سے ہی کچھ لوگ اس بات کی مخالفت کر رہے ہیں، اور انکا موقف یہ ہے کہ جو بندر شہری فضا میں پلے بڑھے ہیں وہ شاید جنگلی ماحول میں زندہ نہ رہ سکیں۔ | اسی بارے میں بیوی سے تنگ ،جنگل میں رہائش 27 January, 2006 | انڈیا عدلیہ و پارلیمنٹ دلی میونسپلٹی اور بندر22 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||