’ راجیو کے قتل پر’افسوس‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایل ٹی ٹی کے رہنما اینٹن بالاسنگھم نے راجیو گاندھی کے قتل کو ایک تاریخی حادثہ قرار دیا ہے اور اس پر انہوں نے ’افسوس‘ کا اظہار کیا ہے۔ 1991 میں راجیو گاندھی کو تامل ٹایئگر کے ایک خود کش بمبار نے قتل کر دیا تھا ۔ بھارت کے ایک نجی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر بالا سنگھم نے کہا ’میں اسے ایک بڑا حادثہ قرار دیتا ہوں اور اس تاریخی حادثہ پر گہرے افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔‘ مسٹر بالا سنگھم نے مزید کہا کہ ہندوستان اور اس کے عوام کو اپنے بڑے پن کا مظاہرا کرتے ہوئے ماضي کو پیچھے چوڑ دینا چاہیے۔ تامل ٹایئگرز نے سری لنگا میں جاری ’سول وار‘ میں بھارت کی مداخلت کے خلاف احتجاج کے طور پر راجیو گاندھی کا قتل کر دیا تھا۔ اس وقت وہ ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر تھے۔ اس سے قبل ماضی میں بھی تامل باغیوں نے اس حملے کی ذمےداری لی تھی لیکن پہلی مرتبہ تمل باغیوں کی طرف سے اس حادثہ پر گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے خارجی امور کے وزیر آنند شرما نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے سلسلے میں ایل ٹی ٹی ائی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس حادثہ کو ہندوستان اور اس کے عوام نہ تو بھول سکتے ہیں اور نہ ہی معاف کر سکتے ہیں۔ مسٹر شرما کے مطابق ایسے حادثہ کو انجام دینے کے بعد اس پر افسوس ظاہر کرنا بے معنی ہے۔ آنند شرما نے مقامی ٹی وی چینل کو بتایا کہ ایل ٹی ٹی ائی پر ہندوستان نے پابندی عائد کر رکھی ہے اور دنیا کے کئی ملکوں نے اسے عسکریت پسند تنظیم قرار دیا ہے ۔ لیکن صحافی این رام کا کہنا ہے کہ ماضي میں بھی ایل ٹی ٹی ائی نے اس طرح کی بات کہی ہے لیکن خاص بات یہ ہے کہ اس خصوصی بات چیت میں بھی ایل ٹی ٹی ائی کے رہنما نے واضح طور پر راجیو گاندھی کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ | اسی بارے میں کروناندھی نے کمان سنبھال لی13 May, 2006 | انڈیا سیاست اور قانون: شنکرآچاریہ کی گرفتار16 January, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||