چوہے: انڈین فوج کے نئے دشمن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں میں علیحٰدگی پسندوں کے خلاف لڑنے والے فوجی ان دنوں چوہوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔ منی پور کے کچھ حصوں اور ریاست میزورام میں چوہوں کی آبادی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ چوہوں کے گروہوں نے نہ صرف فصلیں تباہ کردی ہیں بلکہ ٹنوں غلہ بھی کھا گئے ہیں۔ علاقے میں خوراک کی کمی اور بیماری کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ میزورام کے زراعت کے محکمے کے پلانٹ پروٹیکشن افسر کا کہنا تھا کہ ریاست کے کئی علاقوں اور منی پور کے چندر چور ضلع میں صورت حال بہت خراب ہے۔ چندر چور میں تو صورت حال اتنی خراب ہے کہ فوج طلب کر لی گئی ہے جبکہ میزورام میں شہری حکام خود ہی چوہوں کے ساتھ جنگ میں مصروف ہیں۔ فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج کی چندرچور میں موجودگی بہت ضروری ہے کیونکہ فوج ان علاقوں میں علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی آبادی کے لیے چوہے ایک نئے خطرے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں فوج نہ صرف چوہوں کو ختم کر رہی ہے بلکہ دیہاتیوں کو حشرات اور چوہوں کے خلاف ادویات کے استعمال کے بارے میں بھی بتایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیہاتیوں کی مدد سے کمیونٹی کی سطح پر مختلف چیزیں جسیے ادرک اور ہلدی وغیرہ اگائی جارہی ہے تاکہ چوہے دور رہیں۔ چوہوں کی اس آبادی میں اضافے کی وجہ شمال مشرقی علاقے میں مخصوص قسم کے بانس کے پودے کی فصل خیال کی جا رہی ہے۔یہ فصل چوہوں کی مرغوب ہے اور چوہے اس کے پھول اور بیج بڑے شوق سے کھاتے ہیں اور اس کے کھانے سے ان کی آبادی میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ آخری مرتبہ انیس سو ساٹھ میں بانس کی یہ فصل اگی تھی۔ میزورام کی حکومت فصل کے سلسلے میں پیداوار کی کمی پر قابو پانے کے لیے آلوؤں کی فصل اگا رہی ہے۔ ریاست میں بڑے پیمانے پر چوہوں کو ہلاک کرنے والا زہر بھی چھڑکا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں چوہے ہلاک ہو گئے ہیں۔ | اسی بارے میں مریخ پر چوہے بھی جائیں گے09 February, 2004 | نیٹ سائنس چوہے گانا گاتے ہیں01 November, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||