BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 May, 2006, 08:52 GMT 13:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنارس حملوں کا ’ملزم‘ ہلاک
بنارس دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک شخص کو لے جایا جا رہا ہے
اس دھماکے میں سو سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک شدت پسند کو ہلاک کیا ہے جو کہ ان کے مطابق بنارس کے بم دھماکوں میں ملوث تھا۔

پولیس کے مطابق مرنے والے مبینہ شدت پسند کا نام محمد زبیر ہے جو لائن آف کنٹرول کے قریب ہندواڑہ میں پولیس کے ہاتھوں مارا گیا۔ مارچ میں بنارس میں ہونے والے دھماکوں میں پندرہ افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ یہ دھماکے ایک بنگلہ دیشی شدت پسند گروہ کی مدد سے کیئے گئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ محمد زبیر اس علاقے میں کیا کر رہے تھے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پولیس کے انسپکٹر جنرل راجندر کمار کا کہنا تھا کہ ’شاید وہ پاکستان فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا‘۔

اپریل کے مہینے میں پولیس نے اتر پردیش میں ایک شخص کو گرفتار کیا تھا جن پر الزام تھا کہ انہوں نے ان حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ولی اللہ نامی یہ شخص ایک دینی مدرسہ چلاتے تھے۔ اس سے قبل پولیس نے دھماکوں کے الزام میں گرفتار کیئے گئے دو افراد کو رہا کر دیا تھا۔

بنارس کے مشہور مندر سنکت موچن میں ہونے والے اس دھماکے کا نشانہ ایک شادی کی تقریب بنی۔ بنارس دلی کے جنوب مشرق میں تقریباً 670 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ ہندو مذہب کا مرکز ہے جہاں بہت سے زائرین آتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد