بنارس حملوں کا ’ملزم‘ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک شدت پسند کو ہلاک کیا ہے جو کہ ان کے مطابق بنارس کے بم دھماکوں میں ملوث تھا۔ پولیس کے مطابق مرنے والے مبینہ شدت پسند کا نام محمد زبیر ہے جو لائن آف کنٹرول کے قریب ہندواڑہ میں پولیس کے ہاتھوں مارا گیا۔ مارچ میں بنارس میں ہونے والے دھماکوں میں پندرہ افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ یہ دھماکے ایک بنگلہ دیشی شدت پسند گروہ کی مدد سے کیئے گئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ محمد زبیر اس علاقے میں کیا کر رہے تھے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پولیس کے انسپکٹر جنرل راجندر کمار کا کہنا تھا کہ ’شاید وہ پاکستان فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا‘۔ اپریل کے مہینے میں پولیس نے اتر پردیش میں ایک شخص کو گرفتار کیا تھا جن پر الزام تھا کہ انہوں نے ان حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ولی اللہ نامی یہ شخص ایک دینی مدرسہ چلاتے تھے۔ اس سے قبل پولیس نے دھماکوں کے الزام میں گرفتار کیئے گئے دو افراد کو رہا کر دیا تھا۔ بنارس کے مشہور مندر سنکت موچن میں ہونے والے اس دھماکے کا نشانہ ایک شادی کی تقریب بنی۔ بنارس دلی کے جنوب مشرق میں تقریباً 670 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ ہندو مذہب کا مرکز ہے جہاں بہت سے زائرین آتے رہتے ہیں۔ | اسی بارے میں مشتبہ بمباروں کی تلاش شروع10 March, 2006 | انڈیا ’لشکر طیبہ ملوث ہے‘ خاکے جاری09 March, 2006 | انڈیا مندر پر حملے کے خلاف بنارس بند08 March, 2006 | انڈیا بنارس:دھماکوں کے بعد ہائی الرٹ07 March, 2006 | انڈیا بنارس کے بڑے مندر میں دھماکہ07 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||