BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 April, 2006, 16:44 GMT 21:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جامع مسجد کے زخمیوں کی عیادت‘

 جامع مسجد دلی میں دھماکے کی جگہ
دھماکے مسجد کے صحن میں وضوخانے کے نزدیک ہوئے
بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے جامع مسجد کے بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد سے ہسپتال جا کر ملاقات عیادت کی ہے۔ اس واقعے میں بارہ افراد زخمی ہوئے تھے جن کا علاج لوک نائیک جے پرکاش اسپتال میں جاری ہے۔ منموہن سنگھ نے جامع مسجدکا بھی دورہ کیا اور مسجد کے امام سید احمد بخاری سے ملاقات کی ہے۔


وزیراعظم نے صبر وتحمل سے کام لینے پر لوگوں کی تعریف کی اور کہا کہ کچھ لوگ تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھنے اور فرقہ پرستوں کو شکست دینے کے لیے اسی طرح متحد رہنے کی ضرورت ہے۔

مسٹر سنگھ نے امن وامان قائم کرنے کی کوششوں کے لیے مسجد کے امام سید احمد بخاری کا بھی شکریہ ادا کیا۔وزیر اعظم کے ساتھ مرکزی وزیر ای احمد اور دلی کے لیفٹینٹ گورنر بی ایل جوشی بھی ساتھ تھے۔

دارالحکومت دلی کی تاریخی جامع مسجد میں بم دھماکوں کے دوسرے روز حالات معمول پر آ چکے ہیں۔ گزشتہ روز دھماکے کے بعد فصیل بند شہر میں افراتفری کا ماحول تھا لیکن سنیچر کو معمول کے مطابق تجارتی سرگرمیاں آہستہ آہستہ پھر شروع ہونے لگی ہیں۔

ادھر دھماکوں کے سلسلے میں پولیس کی تفتیش جاری ہے۔ اطلاعات ہیں کہ بعض افراد سے پوچھ گچھ بھی کی جارہی ہے لیکن پولیس نے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ ابھی کسی بھی گروہ یا تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی کہ آخر مسجد میں دھماکہ کس نے اور کس مقصد سے کیا۔

جامع مسجد کے علاقے میں ایک دکاندار نسیم کا کہنا تھا کہ آج کل ملک میں بم دھماکے ایک عام بات ہیں اس لیے ’ڈر تو نہیں لگتا ہے لیکن اب لوگ سکیورٹی کے تحت زیاد احتیاط برتنے لگے ہیں‘۔

اسلام الدین کا کہنا تھا کہ ’ کچھ لوگ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فساد کروانا چاہتے ہیں اور شاید اسی لیے یہ دھماکے کیے گئے ہیں لیکن چونکہ لوگ سمجھدار ہیں اس لیےانہیں اپنے مقصد کامیابی نہیں ملی ہے‘۔

طاہر کا کہنا تھا جامع مسجد اور لال قلعے کو دیکھنے ہر روز سینکڑوں سیاح آتے تھے لیکن دھماکوں کے بعد اس میں کمی آئی ہے۔ ’یہاں کی تجارتی سرگرمیاں سیاحوں پر منحصر ہیں اور ان کی آمد میں کمی سے بازار میں مندی آئی ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد