بہار میں پانی کی شدید قلّت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین ریاست بہار میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے جس سے وہاں لوگوں کی زندگی بے شمار مسائل سے دوچار ہے۔ علاقے کے تالاب، کنویں اور پانی کے دیگر ذرائع تو پہلے ہی سوکھ رہے تھے مگر اب ہینڈ پمپ سے بھی پانی نہیں نکل رہا۔ ریاست میں یہ شکایت پہلے بھی رہی ہے مگر اس پیمانے پر نہیں۔ عام طور پر اس مسئلے کی شروعات مئی کے آخر سے ہوتی تھی مگر اس بار تقریباً دو ماہ پہلے سے ہر خاص و عام آبی ذخائر کے سوکھنے کی شکایت کر رہا ہے۔ پینے کے پانی کی فراہمی کے لیئے ذمہ دار پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ریاستی وزیر پریم کمار کے مطابق صوبے کے تیرہ اضلاع پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں جن میں گیا، نوادہ، اورنگ آباد، جہاں آباد، نالندہ، شیخ پورہ، روہتاس، مونگیر اور بھاگلپور وغیرہ شامل ہیں۔ گیا میں تو پانی کے لیئے روزانہ دھرنے دیئے جا رہے ہیں اور ضلعی انتظامیہ ٹینکر سے پانی فراہم کررہی ہے۔ سماجی کارکن اور پانی کے مسئلے سے متعلق تنظیم ’مگدھ جل جماعت‘ کے اہلکار پربھات شانڈلیہ کہتے ہیں لوگ صبح اٹھ کر پانی بھرنے کی جدوجہد میں لگ جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ پانی کی فراہمی کے لیئے ذمہ دار وزیر کا تعلق گیا سے ہے اور وہیں لوگ پانی کے لیئے دھرنے دینے اور سڑک جام کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دو ماہ پہلے وزیر اعلٰی نتیش کمار نے گیا آکر پانی کے مسئلے کا حل نکانے کی بات کی تھی مگر اس کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔
ریاست کے جن اضلاع میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے وہاں عام طور پر چاپا کل(ہینڈ پمپ) اور کنوؤں سے پانی نکالا جاتا ہے۔ پانی کی سطح نیچے جانے سے اکثر گھروں سے پانی کی قلت کی شکایت مل رہی ہے۔ کنویں سوکھ رہے ہیں، ہینڈ پمپ سے پانی نکالنا بھی مشکل ہے۔آدمی کےساتھ ساتھ مویشی بھی پانی کی قلت سے پیدا ہونے والے مسائل سے دو چار ہیں۔ ندی میں پانی کم ہے، تالاب اور اس طرح کے دوسرے آبی ذرائع سوکھ چکے ہیں۔ اس صورت حال سے جہاں عام آدمی پینے کے پانی کے لیئے پریشان ہے وہیں ندیوں کے گھاٹ سے پانی کےدور جانے اور تالاب کے سوکھنے سے دھوبی برادری کو بھی دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پی ایچ ای ڈی کی رسائی شہروں تک محدود ہے اور اس کے ذریعے پانی کی فراہمی کا نظام بدحالی کا شکار ہے۔ کہیں پمپ خراب ہے، کہیں پائپ زنگ آلود اور جس جگہ ایسی کوئی خرابی نہیں وہاں بجلی کی عدم فراہمی ہے۔ پانی کی اس کمی سے نمٹنے کے لیئے لوگ دو۔دو تین۔تین کیلومیٹر دور جا کر سائیکل اور رکشوں سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ کنواں اور ہینڈ پمپ کے کاریگروں کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح پندرہ سے بیس فٹ نیچے چلی گئی ہے۔ ان کے مطابق پہلے جن جگہوں پر دو سو فٹ کی گہرائی میں پانی مل جایا کرتا تھا اب وہاں دو سو پچیس فٹ سے زائد پر پانی مل رہا ہے۔ سنٹر واٹر بورڈ پٹنہ مرکز کے ڈائریکٹر آر ایس سنگھ کہتے ہیں کہ واٹر لیول کا نیچے جانا مقامی مسئلہ نہیں۔ ان کے مطابق یہ عالمی مسئلہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کی سطح نیچے جانے کا مسئلہ زیادہ تر ریاست کے جنوبی اضلاع میں ہے۔ شمالی بہار میں ندیوں کی وجہ سے حالت قدر بہتر ہے مگر مسئلہ وہاں بھی ہے۔انہوں نے بتایا کہ آبی ذرائع کا ریچارج ہونا ضروری ہوتا ہے۔گزشتہ دو سالوں سے ریاست کے جنوبی حصے میں خشک سالی جیسے حالات ہیں اس لیئے آبی ذرائع ریچارج نہیں ہو پارہے۔ پٹنہ کے میٹرولوجیکل سینٹر کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ٹی این جھا نے بتایا کہ گزشتہ سال مون سون میں اوسط سے چھبیس فی صد کم بارش ہوئی۔ اس سال جاڑے میں بھی بارش کافی کم ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے پانی کی سطے نیچے جانے کی شکایت مل رہی ہے۔ ان کے مطابق ابھی مون سون کے بارے میں کچھ بتانا قبل از وقت ہوگا اور جب تک مون سون کی بارش زور دار طریقے سے نہیں ہوتی واٹر لیول کا اوپر آنا ممکن نہیں۔ پانی کے لیئے ریاستی حکومت نے تین سال پہلے جو سروے کرایا تھا اس کے مطابق اٹھائیس ہزار محلے ایسے ہیں جہاں کوئی سرکاری انتظام نہیں اور وہاں کے لوگ پوری طرے قدرتی ذرائع آب پر انحصار کرتے ہیں۔ پریم کمار کے مطابق پینتالیس ہزار محلوں میں سرکار کی جانب سے جزوی طور پر پانی کی فراہمی کا انتظام ہے۔ وزیر کے مطابق حکومت اگلے سال تک تقریباً پچاس ہزار ہینڈ پمپ لگانے کا ہدف ہے۔ انہیں امید ہے کہ اس سے پانی کی قلت کی شکایت کم ہوجائے گی۔ | اسی بارے میں انڈیا: موسم کا حال’موسم‘ پر05 April, 2006 | انڈیا نئے منصوبے، آبی ذخائر کو خطرہ18 March, 2006 | انڈیا بارش، جھیلوں کے شہر کا دردِ سر01 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||