ظہیرہ: ’ممبئی پولیس سے خطرہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عدالت میں جھوٹ بولنے کی مجرم ظہیرہ شیخ نےایک بار پھر اپنا بیان بدلتے ہوئے اب عدالت سے کہا کہ انہیں ممبئی نہیں بلکہ گجرات کی جیل میں رکھا جائے کیونکہ انہیں خوف ہے کہ حراست کےدوران ممبئی پولیس اسے قتل کر دے گی۔ اس سے قبل انہوں نے عدالت میں جج سے اپیل کی تھی کہ انہیں گجرات نہیں بلکہ ممبئی کی جیل میں رکھا جائے کیونکہ انہیں گجرات میں جان کا خوف ہے۔ ظہیرہ نے آج ممبئی کی خصوصی عدالت میں جج ابھے تھپسے کے سامنے ممبئی پولیس پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ جیل میں اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔ انہیں اچھا کھانا نہیں دیا جاتا اور انہیں نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ جج نے وہاں موجود خاتون پولس کانسٹیبل سے اس سلسلہ میں وضاحت طلب کی۔ کانسٹیبل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ظہیرہ شیخ کو نماز پڑھنے سے نہیں روکا گیا تھا لیکن جیل کا ایک قانون یہ بھی ہے کہ خاتون قیدیوں کو ساڑھی یا دوپٹہ نہیں دیا جاتا کیونکہ انہیں گلے میں لپیٹ کر خودکشی کے واقعات ہو چکے ہیں۔ جج نے جیل حکام کو ظہیرہ کے ساتھ سختی نہ کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ بیس مارچ کو سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک وہ اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں سنا سکتے۔ ظہیرہ جمعرات کو اپنے دونوں وکلاء ڈی کے گارگ اور اتل مستری کے ہمراہ عدالت میں حاضر ہوئیں۔ ان کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار تھے۔ جج نے ان کی اپیل منظور کر لی تھی اور جمعرات تک فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ جج نے سپریم کورٹ سے بھی اس سلسلہ میں وضاحت طلب کی تھی۔ بیس مارچ کو ہی سپریم کورٹ میں ظہیرہ کی والدہ، ان کے بھائی اور بہن کو اپنا حلفی بیان دینا ہے جس میں انہیں وضاحت کرنی ہے کہ انہوں نے بھی عدالت میں جھوٹ کیوں بولا؟ ظہیرہ کو عدالت کی جانب سے گھر کا کھانا دینے کی اجازت تھی لیکن ان کے گھر والوں نے انہیں کھانا بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کے بھائی نصیب اللہ کا کہنا تھا کہ وہ میرا روڈ میں رہتے ہیں اور یہاں تک آنے کے لئے انہیں دو ٹرینیں بدل کر آنا ہو گا اس لئے وہ کھانا نہیں لا سکتے۔ ظہیرہ کو سپریم کورٹ نے ایک سال قید اور پچاس ہزار روپیہ جرمانہ کی سزا دی تھی لیکن ابھی تک یہ فیصلہ ہی نہیں ہو سکا کہ انہیں کس ریاست کی جیل میں رکھا جائے ۔ | اسی بارے میں ظاہرہ جھوٹی ہیں: انکوائری کمیٹی29 August, 2005 | انڈیا ظاہرہ شیخ عدالتی تحویل میں13 March, 2006 | انڈیا بیسٹ بیکری کیس: نو ملزموں کو سزا24 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||