بھارت کو پیٹریاٹ میزائل پر بریفنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اعلیٰ سطح کے امریکی دفاعی اہلکاروں کی ایک ٹیم نے بھارتی حکام کو پیٹریاٹ میزائل کے دفاعی نظام اور لڑاکا طیاروں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی ہے۔ پیٹریاٹ میزائل سسٹم بیلاسٹک اور کروز میزائلوں کے خلاف دفاع کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ تفصیلات بھارت کی درخواست پر فراہم کی گئی ہیں اور بھارت پیٹریاٹ دفاعی نظام کی خریداری میں دلچسپی رکھتا ہے جب کہ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس خریداری سے علاقے میں طاقت کا توازن متاثر ہو گا۔ سرد جنگ کے زمانے میں ایک دوسرے کے مخالف کیمپوں میں رہنے والے بھارت اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعلقات میں کچھ عرصے سے بہتری آئی ہے۔ بھارت کو معلومات فراہم کرنے والی امریکی ٹیم کی قیادت، پینٹاگون کے دفاعی سکیورٹی کارپوریشن ایجنسی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل جیفری بی کوہلر نے کی جب کہ ٹیم میں امریکی فضائیہ اور بحریہ کے حکام کے علاوہ بوئنگ کمپنی کے لوک ہیڈ مارٹن بھی شامل تھے۔ امریکی ٹیم نے بھارت کے وزارتِ دفاع کو جدید ترین صلاحیتوں والے پیٹریاٹ میزائل کے نظام پی اے سی تھری کے بارے میں بتایا۔ دلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل جیفری بی کوہلر کا کہنا ہے ’پی اے سی تھری نظام خاص طور پر وسیع تباہی والے ہتھیاروں کے خلاف منفرد صلاحتیوں کا حامل ہے‘۔ اس بریفنگ کے بعد بھارت دنیا کے ان دس ملکوں میں شامل ہو گیا ہے جنہیں اب تک پیٹریاٹ میزائلوں کے اس دفاعی نظام کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بھارتی فضائیہ اور بحریہ کو ایک سولہ ایف اٹھارہ، ہورنٹ جنگجو طیاروں اور پی تھری سے اوورین بحری نگراں طیاروں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||