موت کے سائے میں جینے پر مجبور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں گزشتہ چند ہفتوں میں میں چار عمارتوں کے انہدام میں سترہ افراد کی موت نے ممبئی شہریوں کو خوف زدہ کر دیا۔ ریاست کے وزیرِاعلٰی ولاس راؤ دیش مکھ نے اعلان کر دیا کہ شہر کی کم از کم اٹھائیس انتہائی خستہ حال عمارتوں کے مکینوں کو فوری طور پر ان کے گھروں سے نکال کر عارضی رہائش گاہوں (ٹرانزٹ کیمپوں) میں منتقل کر دیا جائے اور اگر وہ مکانات چھوڑنے سے انکار کریں تو پولیس کی مدد لی جائے۔ وزیرِاعلٰی کے اس سخت فیصلے کے باوجود ان عمارتوں کے مکینوں نے مکانات خالی کرنے سے انکار کر دیا۔ مہاڈا( مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی ) اور بی ایم سی(ممبئی میونسپل کارپوریشن ) ذرائع کے مطابق شہر میں انیس ہزار چھ سو بیالیس خستہ حال عمارتیں ہیں اور ان میں ایک لاکھ سے زائد افراد موت کے سائے میں جینے پر مجبور ہیں لیکن وہ ٹرانزٹ کیمپ میں جا کر رہنا نہیں چاہتے۔ بی بی سی کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق اس کی کئی وجوہات سامنے آئیں۔ بی ایم سی کی حدود میں ایک سو آٹھ خستہ حال عمارتیں ہیں۔ ہر سال مون سون سے قبل بی ایم سی کی جانب سے ان کی بلڈنگ میں نوٹس تو لگا دیا جاتا ہے لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ انہیں کہاں کے ٹرانزٹ کیمپ میں جانا ہے اور جب کافی بھاگ دوڑ کی جاتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ انہیں جو ٹرانزٹ کیمپ دیا گیا ہے وہ ممبئی کے آخری کونے پر ہے۔ بچوں کی تعلیم کی سب سے بڑی فکر ہوتی ہے کیونکہ پھر نئے سرے سے کسی اچھے اسکول میں وہاں داخلہ ملنا مشکل ہوتا ہے ۔
شہر میں مجموعی طور پر 56 ٹرانزٹ کیمپ ہیں جن میں سے بیشتر کی حالت ان عمارتوں سے کچھ الگ نہیں ہے۔ قلابہ کا وہ ٹرانزٹ کیمپ جہاں صدف منزل اور رسی والا بلڈنگ کے مکینوں کو رہنے کے لیے جگہ دی گئی ہے ،وہاں تقریباً دس برسوں سے رہ رہے عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ ان کے کمرے کی چھت سے پانی ٹپکتا ہے اس لیے وہ سیڑھیوں کے پاس کھانا پکانے پر مجبور ہیں۔ بجلی اکثر آتی جاتی رہتی ہے اور اتنی مشکلات جھیلنے کے بعد اب وہ یہ امید بھی کھو بیٹھے ہیں کہ انہیں کبھی اپنا مسجد بندر کا وہ مکان واپس رہنے کے لیے ملے گا۔ یہیں رہنے والے آنند مولے نے بتایا کہ ان کی بلڈنگ قلابہ میں تھی۔ وہ 23 سال قبل ٹرانزٹ کیمپ میں والدین کے ساتھ رہنے آئے تھے اور آج تک واپس نہیں جا سکے کیونکہ ابھی تک ان کی عمارت اسی طرح ویران ہے۔ اسی بھاگ دوڑ میں وہ اسکول نہیں جا سکے اور آج درزی کا کام کرتے ہیں۔ لوگ خستہ حال عمارت میں جان کی بازی لگا کر خوف کے سائے میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ نہیں کہ اگر آج وہ اپنا مکان چھوڑ کر چلے گئے تو واپس اس میں کبھی آ بھی پائیں گے یا نہیں اسی لیے صدف منزل کے لوگوں نے اس ٹرانزٹ کیمپ میں جانا منظور نہیں کیا ہے کیونکہ صدف منزل سے صرف چار بلڈنگ چھوڑ کر کھوکھر والا منزل کے مکینوں کو آج سے 23 سال قبل اپنی بلڈنگ چھوڑ کر ماہم کے ٹرانزٹ کیمپ میں جانا پڑا تھا۔
آج اس جگہ ایک مقامی شخص نے قبضہ کر لیا ہے اور وہاں کیٹرنگ سروس شروع کر دی ہے اور بقیہ جگہ پر اپنا ایس ٹی ڈی بوتھ بنا لیا ہے ۔کھوکھر بلڈنگ میں رہنے والی مہ جبیں نے جو آج کل ماہم کے اس گیتانجلی ٹرانزٹ کیمپ میں رہ رہی ہے، بی بی سی کو بتایا کہ اس عمارت میں کل بارہ کرایہ دار تھے جس میں ان کے والد علاؤ الدین شیخ بھی تھے۔ آج اس عمارت کے دس کرایہ داراپنی بلڈنگ میں واپسی کا انتظار کرتے کرتے موت کی نیند سو گئے جس میں ان کے والد بھی شامل ہیں۔ عام طور پرٹرانزٹ کیمپوں میں مہاڈا کے افسران کے کچھ’خاص‘ لوگ رہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے طور پر مہاڈا کے خالی روم کو کرایہ پر اٹھا دیتے ہیں اس کرایہ کا ایک حصہ مہاڈا افسر اور کچھ اس خاص آدمی کی جیب میں جاتا ہے جس کی مثال باندرہ کی نیو ٹاٹا کالونی اور انٹاپ ہل کا ٹرانزٹ کیمپ ہے۔ سال یا چھ ماہ میں جب مہاڈا کے اعلیٰ افسران ان ٹرانزٹ کیمپوں کا دورہ کرنے آتے ہیں تو ان مکینوں کو دو ایک روز کے لیے مکان خالی کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے بعد حالات پھر وہی کے وہی۔
ٹرانزٹ کیمپ میں ایک کمرہ ایک سو ساٹھ سکوائر فٹ کا ہے اور اس میں ایک پورا خاندان نہیں رہ سکتا اس لیے بھی اکثر لوگ ٹرانزٹ کیمپ میں جانا پسند نہیں کرتے۔ مہاڈا ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر سال حکومت کو ایک سو بیس کروڑ روپے بلڈنگوں کی مرمت کے نام پر ٹیکس کے طور پر ملتے ہیں اگر حکومت اور اس سے متعلق ایجنسیاں ایمانداری کے ساتھ بلڈنگوں کی مرمت کا کام کرے تو ممبئی شہریوں کو یوں جان سے ہاتھ نہ دھونا پڑیں ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||