BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 September, 2005, 07:52 GMT 12:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موت کے سائے میں جینے پر مجبور

خستہ حال عمارتیں
ممبئی میونسپل کارپوریشن کی حدود میں ایک سو آٹھ خستہ حال عمارتیں ہیں
بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں گزشتہ چند ہفتوں میں میں چار عمارتوں کے انہدام میں سترہ افراد کی موت نے ممبئی شہریوں کو خوف زدہ کر دیا۔

ریاست کے وزیرِاعلٰی ولاس راؤ دیش مکھ نے اعلان کر دیا کہ شہر کی کم از کم اٹھائیس انتہائی خستہ حال عمارتوں کے مکینوں کو فوری طور پر ان کے گھروں سے نکال کر عارضی رہائش گاہوں (ٹرانزٹ کیمپوں) میں منتقل کر دیا جائے اور اگر وہ مکانات چھوڑنے سے انکار کریں تو پولیس کی مدد لی جائے۔

وزیرِاعلٰی کے اس سخت فیصلے کے باوجود ان عمارتوں کے مکینوں نے مکانات خالی کرنے سے انکار کر دیا۔ مہاڈا( مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی ) اور بی ایم سی(ممبئی میونسپل کارپوریشن ) ذرائع کے مطابق شہر میں انیس ہزار چھ سو بیالیس خستہ حال عمارتیں ہیں اور ان میں ایک لاکھ سے زائد افراد موت کے سائے میں جینے پر مجبور ہیں لیکن وہ ٹرانزٹ کیمپ میں جا کر رہنا نہیں چاہتے۔

بی بی سی کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق اس کی کئی وجوہات سامنے آئیں۔

بی ایم سی کی حدود میں ایک سو آٹھ خستہ حال عمارتیں ہیں۔ ہر سال مون سون سے قبل بی ایم سی کی جانب سے ان کی بلڈنگ میں نوٹس تو لگا دیا جاتا ہے لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ انہیں کہاں کے ٹرانزٹ کیمپ میں جانا ہے اور جب کافی بھاگ دوڑ کی جاتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ انہیں جو ٹرانزٹ کیمپ دیا گیا ہے وہ ممبئی کے آخری کونے پر ہے۔ بچوں کی تعلیم کی سب سے بڑی فکر ہوتی ہے کیونکہ پھر نئے سرے سے کسی اچھے اسکول میں وہاں داخلہ ملنا مشکل ہوتا ہے ۔

News image
ٹرانزٹ کیمپوں میں صفائی کی حالت ناگفتہ بہ ہے

شہر میں مجموعی طور پر 56 ٹرانزٹ کیمپ ہیں جن میں سے بیشتر کی حالت ان عمارتوں سے کچھ الگ نہیں ہے۔ قلابہ کا وہ ٹرانزٹ کیمپ جہاں صدف منزل اور رسی والا بلڈنگ کے مکینوں کو رہنے کے لیے جگہ دی گئی ہے ،وہاں تقریباً دس برسوں سے رہ رہے عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ ان کے کمرے کی چھت سے پانی ٹپکتا ہے اس لیے وہ سیڑھیوں کے پاس کھانا پکانے پر مجبور ہیں۔ بجلی اکثر آتی جاتی رہتی ہے اور اتنی مشکلات جھیلنے کے بعد اب وہ یہ امید بھی کھو بیٹھے ہیں کہ انہیں کبھی اپنا مسجد بندر کا وہ مکان واپس رہنے کے لیے ملے گا۔

یہیں رہنے والے آنند مولے نے بتایا کہ ان کی بلڈنگ قلابہ میں تھی۔ وہ 23 سال قبل ٹرانزٹ کیمپ میں والدین کے ساتھ رہنے آئے تھے اور آج تک واپس نہیں جا سکے کیونکہ ابھی تک ان کی عمارت اسی طرح ویران ہے۔ اسی بھاگ دوڑ میں وہ اسکول نہیں جا سکے اور آج درزی کا کام کرتے ہیں۔

لوگ خستہ حال عمارت میں جان کی بازی لگا کر خوف کے سائے میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ نہیں کہ اگر آج وہ اپنا مکان چھوڑ کر چلے گئے تو واپس اس میں کبھی آ بھی پائیں گے یا نہیں اسی لیے صدف منزل کے لوگوں نے اس ٹرانزٹ کیمپ میں جانا منظور نہیں کیا ہے کیونکہ صدف منزل سے صرف چار بلڈنگ چھوڑ کر کھوکھر والا منزل کے مکینوں کو آج سے 23 سال قبل اپنی بلڈنگ چھوڑ کر ماہم کے ٹرانزٹ کیمپ میں جانا پڑا تھا۔

News image
ٹرانزٹ کیمپوں میں مہاڈا کے افسران کے کچھ’خاص‘ لوگ رہتے ہیں

آج اس جگہ ایک مقامی شخص نے قبضہ کر لیا ہے اور وہاں کیٹرنگ سروس شروع کر دی ہے اور بقیہ جگہ پر اپنا ایس ٹی ڈی بوتھ بنا لیا ہے ۔کھوکھر بلڈنگ میں رہنے والی مہ جبیں نے جو آج کل ماہم کے اس گیتانجلی ٹرانزٹ کیمپ میں رہ رہی ہے، بی بی سی کو بتایا کہ اس عمارت میں کل بارہ کرایہ دار تھے جس میں ان کے والد علاؤ الدین شیخ بھی تھے۔ آج اس عمارت کے دس کرایہ داراپنی بلڈنگ میں واپسی کا انتظار کرتے کرتے موت کی نیند سو گئے جس میں ان کے والد بھی شامل ہیں۔

 ممبئی شہر میں انیس ہزار چھ سو بیالیس خستہ حال عمارتیں ہیں اور ان میں ایک لاکھ سے زائد افراد موت کے سائے میں جینے پر مجبور ہیں لیکن وہ ٹرانزٹ کیمپ میں جا کر رہنا نہیں چاہتے
مہاڈا اور بی ایم سی

عام طور پرٹرانزٹ کیمپوں میں مہاڈا کے افسران کے کچھ’خاص‘ لوگ رہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے طور پر مہاڈا کے خالی روم کو کرایہ پر اٹھا دیتے ہیں اس کرایہ کا ایک حصہ مہاڈا افسر اور کچھ اس خاص آدمی کی جیب میں جاتا ہے جس کی مثال باندرہ کی نیو ٹاٹا کالونی اور انٹاپ ہل کا ٹرانزٹ کیمپ ہے۔

سال یا چھ ماہ میں جب مہاڈا کے اعلیٰ افسران ان ٹرانزٹ کیمپوں کا دورہ کرنے آتے ہیں تو ان مکینوں کو دو ایک روز کے لیے مکان خالی کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے بعد حالات پھر وہی کے وہی۔

News image
شہر میں مجموعی طور پر 56 ٹرانزٹ کیمپ ہیں

ٹرانزٹ کیمپ میں ایک کمرہ ایک سو ساٹھ سکوائر فٹ کا ہے اور اس میں ایک پورا خاندان نہیں رہ سکتا اس لیے بھی اکثر لوگ ٹرانزٹ کیمپ میں جانا پسند نہیں کرتے۔

مہاڈا ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر سال حکومت کو ایک سو بیس کروڑ روپے بلڈنگوں کی مرمت کے نام پر ٹیکس کے طور پر ملتے ہیں اگر حکومت اور اس سے متعلق ایجنسیاں ایمانداری کے ساتھ بلڈنگوں کی مرمت کا کام کرے تو ممبئی شہریوں کو یوں جان سے ہاتھ نہ دھونا پڑیں ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد