BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 August, 2004, 11:29 GMT 16:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بجٹ سیشن میں جرم و سزا

مجرمانہ مقدمات کی وجہ سے شیبو سورین کو مرکزی وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا تھا
فوجداری مقدمات کی وجہ سے شیبو سورین کو وزارت سے استعفیٰ دینا پڑا
ہندوستان کی پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ اس اجلاس میں پارلیمانی کارروائی میں کئی بار رخنہ پڑا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ مرکزی کابینہ سےان وزراء کو برطرف کیا جائے جن کے خلاف مجرمانہ مقدمات چل رہے ہیں۔

لالو پرساد یادو، تسلیم الدین، ایم اے اے فاطمی، جے پرکاش نارائن اور پریم چند گپتا ایسے وزراء ہیں جن کے خلاف بد عنوانی سے لیکر اغوا ور قتل کی کو شش تک کے معاملات درج ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ ان وزراء کا‏بائیکاٹ کرےگی۔

حزب اختلاف اور حکمراں جماعتوں کے درمیان فی الحال سمجھوتہ ہوگیا ہے اورامیدہے کہ ایوان کی کارروائی چلنے لگے گی۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ پر برقرار ہے کہ یہ کس طرح طے ہو کہ کون سے مجرمانہ معاملات سیاسی نوعیت کے ہیں اور کون سے واقعی مجرمانہ۔

حکمراں اتحاد اپنے وزراء کایہ کہہ کر دفاع کر رہا ہے کہ حزب اختالاف کے بھی کئی وزراء کے خالاف اسی نوعیت کے مقدمات ہیں۔ وزیراعظم من موہن سنگھ نے گزشتہ دنوں سابق وزیر داخلہ ایل کے اڈوانی کو یاد دلایا کہ رام مندر کی تحریک کے دوران ان کی رتھ یاترا کے بعد ہونے والے فسادات میں سینکڑوں لوگ مارے گئے۔اتنے بڑے سانحے کو محض سیاسی معاملہ کہہ کر رد نہیں کیا جاسکتا۔

یہ معاملہ صرف چند وزراء تک ہی محدود نہیں ہے۔ بعض اعداد وشمار کے مطابق ہندوستان کی پارلیمنٹ میں تقریبا 100 ارکان ایسے ہیں جن کے خلاف مجرمانہ نوعیت کے مقدمات ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھاجب جرائم پیشہ افراد سیاسی رہنماؤں کے اثر ورسوخ سےفائدہ اٹھا تے تھے اور اب وہ خود سیاست میں داخل ہونےلگے ہیں۔

حالات اتنے بگڑ رہے ہیں کہ انتخابی کمیشن نے سیاست میں جرائم کی آمیزش روکنے کے لئے کئی تجاویز پیش کی ہیں۔لیکن ما ضی کی طرح اس بار بھی سیاسی جماعتوں نے ان تجاویز میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ اب ایسے ارکانِ پاریمان کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو جیل سے الیکشن لڑ رہے ہیں، جو ضمانت پر رہا ہیں، جن کے خلاف کوئی کھڑا ہونے کی جرات نہیں کرسکتا۔ ان میں سے کئی مرکزی کابینہ میں وزیر بھی ہیں۔ جموریت کا یہ بھی ایک پہلو ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد