’جنرل مشرف کی مجبوری ہوگی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی نے کہا ہے کہ جب تک پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اس روڈ میپ پر قائم ہیں جو حال ہی میں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں کے مابین تشکیل پایا تھا اس وقت تک دوطرفہ امن کے عمل کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ اڈوانی جنرل مشرف کے ایک حالیہ بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے تھے جس میں پاکستانی صدر نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ اگر کشمیر پر مذاکرات میں اگست تک کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو وہ اس عمل کا حصہ نہیں رہیں گے۔ بعد میں پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس بیان کی جزوی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر مشرف نے کسی مہلت کا ذکر نہیں کیا تھا۔ ایل کے اڈوانی نے جو اس وقت گجرات میں اپنی انتخابی مہم میں مصروف ہیں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’میں ایسے بیانات کی توجیح میں حسنِ ظن سے کام لیتا ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ بیان داخلی مجبوریوں کے تحت دیا ہو۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر بھارت کی طرف سے جذبے کی کمی ہوتی اور شکوک و شبہات چھائے رہتے تو بھارت اور پاکستان کے مابین امن کا عمل اس مرحلے تک بھی نہ پہنچ پاتا جہاں اس وقت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||