BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جنرل مشرف کی مجبوری ہوگی‘
News image
اڈوانی ملک گیر انتخابی مہم پر ہیں
بھارت کے نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی نے کہا ہے کہ جب تک پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اس روڈ میپ پر قائم ہیں جو حال ہی میں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں کے مابین تشکیل پایا تھا اس وقت تک دوطرفہ امن کے عمل کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

اڈوانی جنرل مشرف کے ایک حالیہ بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے تھے جس میں پاکستانی صدر نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ اگر کشمیر پر مذاکرات میں اگست تک کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو وہ اس عمل کا حصہ نہیں رہیں گے۔

بعد میں پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس بیان کی جزوی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر مشرف نے کسی مہلت کا ذکر نہیں کیا تھا۔

ایل کے اڈوانی نے جو اس وقت گجرات میں اپنی انتخابی مہم میں مصروف ہیں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’میں ایسے بیانات کی توجیح میں حسنِ ظن سے کام لیتا ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ بیان داخلی مجبوریوں کے تحت دیا ہو۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اگر بھارت کی طرف سے جذبے کی کمی ہوتی اور شکوک و شبہات چھائے رہتے تو بھارت اور پاکستان کے مابین امن کا عمل اس مرحلے تک بھی نہ پہنچ پاتا جہاں اس وقت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد