آسارام باپو کے ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

آسارام باپو کے لاکھوں مرید ہیں جن میں کئی مقتدر شخصیات بھی شامل ہیں
،تصویر کا کیپشنآسارام باپو کے لاکھوں مرید ہیں جن میں کئی مقتدر شخصیات بھی شامل ہیں

بھارت میں سرکردہ ہندو روحانی گرو آسارام باپو کو جودھ پور کی عدالت نے انہیں پھر سے چودہ روز کی تحویل میں بھیج دیا ہے۔

آسا رام باپو پہلے ہی چودہ دن کے ریمانڈ پر تھے۔ آسا رام باپو پر ایک سولہ سال کی لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام ہے۔

اس سے پہلے عدالت نے چار ستمبر کو آسارام کے وکلاء کی دلیلیں مسترد کرتے ہوئے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

یہ مدت گزر جانے کے بعد انہیں پیر کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ لیکن عدالت نے انہیں 30 ستمبر تک کی عدالتی حراست میں پھر سے بھیج دیا۔

آسارام کے ساتھ ہی ان کے ایک ساتھی شوا کی بھی عدالتی حراست بڑھا دی گئی ہے۔

آسارام باپو کو جودھپور کی جیل میں رکھا گیا ہے۔ انہیں جودھپور پولیس نے اندور شہر سے گرفتار کیا تھا۔

آسارام کے وکلاء ان پر جنسی زيادتی کے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ آسارام کے آشرم کی ایک طالبہ نے ان پر جنسی استحصال کا الزام لگایا تھا۔

بہّتر سالہ گرو کا آشرم بپارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ہے اور ان کے لاکھوں پیروکار ہیں۔ اس لڑکی کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ بارہ سال سے آسارام کے پیروکار ہیں۔

سنت آسا رام کا نام پہلے بھی تنازعوں میں آ چکا ہے۔ کچھ عرصے پہلے ان کےگجرات کے ایک آشرم سے دو بچوں کی لاشیں ملی تھیں۔

چونکہ ان پر الزام کی نوعیت بہت سنگین ہے اور متاثرہ لڑکی نابالغ ہے اس لیے سنت آسارام کوزبردست قانونی پیچیدگیوں سے گزرنا ہوگا۔