کرکٹ میں ریٹائرمنٹ کی عمر کا تعین

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
اگر سب ٹھیک رہتا تو جلدی ہی ممبر پارلیمنٹ سچن تندولکر ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنا دو سوواں ٹیسٹ میچ کھیلتے، دنیا بھر میں کرکٹ کے شائقین پر نم آنکھوں سے انہیں خیر باد کہتے، کرکٹ کے میدان پر ان کے بے مثال کارناموں کو ہمشیہ یاد رکھا جاتا اور انجام کار ایک ناقابل فراموش عہد کے ساتھ یہ بحث بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی کہ وہ آخر کب ریٹائر ہوں گے؟
لیکن اگر کچھ گڑبڑ ہو سکتی ہے تو ہو ہی جاتی ہے۔ امریکی اوپن ٹینس چیمئن شپ میں اب انڈیا کے لیانڈر پئیس نے اپنا سولہواں گرینڈ سلیم جیت لیا ہے، اور افسوس کہ سچن کی طرح ان کی عمر بھی چالیس سال ہے۔ مردوں کی ٹینس میں یہ ایک ریکارڈ ہے۔ سچن بلا شبہہ پئیس کی کامیابی سے سبق لیں گے اور یہ عزم کریں گے کہ ابھی جانے کا وقت نہیں آیا ہے۔
اور ان شائقین اور ماہرین کے لیے انتظار اور بڑھ جائے گا جن کا عرصے سے یہ کہنا ہے کہ سچن بھارتی کرکٹ ٹیم میں اب صرف ایک مسافر ہیں جو اس حقیقت سے منہ موڑتے رہتے ہیں کہ ان کا سفر ختم ہو چکا ہے!
بہرحال، یہ جمہوری ملک ہے، سچن جب تک چاہیں انہیں کرکٹ کھیلنے کا حق حاصل ہے لیکن بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کو شائقین پر ایک احسان ضرور کرنا چاہیے۔
باقی سب شعبوں کی طرح، پینسٹھ سال ہی صحیح، کرکٹ سے بھی ریٹائرمنٹ کی عمر طے کر دی جانی چاہیے کیونکہ نئے کھلاڑی اگر ٹیم میں شامل ہی نہیں ہو سکیں گے تو ریٹائر کیسے ہوں گے!
راہول کب آؤ گے؟

گجرات کے متنازع وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی تاج پوشی اب کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم کی حیثیت سے تو نہیں کیونکہ افسوس جمہوری نظام حکومت میں اس کے لیے پہلے الیکشن جیتنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے لیے ایسی کوئی شرط نہیں ہے۔ ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس جلد ہی اس سلسلے میں اعلان کر سکتی ہے۔
ادھر وزیر اعظم من موہن سنگھ لگتا ہے کہ اب تھک چکے ہیں، ان کی عمر اکیاسی سال ہے، بائی پاس سرجری ہو چکی ہے، اقتصادی ترقی کی رفتار انتی تیزی سے گر رہی ہے کہ جوان آدمی کو بھی چکر آ جائیں۔ اس لیے شاید انہوں نے کہا ہے کہ دو ہزار چودہ میں راہول گاندھی کو ہی وزیراعظم بننا چاہیے اور وہ ان کی رہنمائی میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسئلہ صرف یہ ہے کہ وزیراعظم بننے کے لیے الیکشن جیتنا صرف مودی کے لیے ہی شرط نہیں ہے!
راہول گاندھی کی عمر 43 برس ہے، وہ غیر شادی شدہ ہیں اور کم سے کم سیاست میں صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں۔ سچن میدان سے جانے کے لیے تیار نہیں ہیں، راہول میدان میں اترنے کے لیے تیار نہیں ہیں!
راہول، سب جانتے ہیں کہ دو ہزار چودہ کی پارلیمانی جنگ آپ کی سپہ سالاری میں لڑی جائے گی، لیکن اگر آپ اب بھی لشکر کے پیچھے ہی رہنا چاہتے ہیں تو یہ ذمہ داری سچن کو سونپ دیجیے، وہ سیاست میں قدم تو رکھ ہی چکے ہیں، انہیں لمبی اننگز کھیلنے کا تجربہ بھی اور وہ آسانی سے پیچھے ہٹتے بھی نہیں، سیاست میں اس سے بڑی اور کیا خوبی ہوسکتی ہے؟
اور اگر کانگریس الیکشن ہار بھی گئی تو سچن سے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کم سے کم کرکٹ ٹیم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ تو کیا جاسکے گا!
انڈیا کی کمسن دلہنیں

دنیا بھر میں جتنی بھی کمسن لڑکیاں شادی کا شکار ہوتی ہیں ان میں سے چالیس فیصد آپ کو ہندوستان میں ملیں گی! یہ وہ معصوم بچیاں ہیں جن کی شادی اٹھارہ سال سے پہلے ہی کر دی جاتی ہے چاہے وہ چاہیں یا نہ چاہیں۔ تازہ تخمینوں کے مطابق ان کی تعداد دو کروڑ تیس لاکھ ہے۔
یہ ایک انتہائی تکلیف دہ اور حساس معاملہ ہے۔ لیکن کیا اس ملک میں کوئی بھی کام صحیح وقت پر نہیں ہوسکتا؟







