انڈیا ڈائری

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

لگے رہو منا بھائی!

سنجے دت آج کل پونے کی یراوڑا جیل میں قید ہیں
،تصویر کا کیپشنسنجے دت آج کل پونے کی یراوڑا جیل میں قید ہیں

سنجے دت یاد ہیں آپ کو؟منا بھائی ایم بی بی ایس جیسی فلموں کے ہیرو؟ انہیں اصل زندگی میں نئے نئے رول نبھانے میں مزا آتا ہے۔ کبھی سیاست میں قسمت آزمائی تو کھی انڈر ورلڈ کے چکروں میں گھرے۔

یہ تو تھا فلیش بیک۔ آج کل وہ پونے کی یراوڑا جیل میں قید ہیں اور سنا ہے کہ وہاں ان سے قید با مشقت کی بجائے کلیریکل کام کروایا جا رہا ہے۔

دفتر میں بیٹھیں گے، کاغذی کام کریں گے اور روزانہ پچیس روپے ملیں گے سو الگ۔

اس سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ آپ اندر ہوں یا باہر کچھ چیزیں ہیں جو ہمیشہ کام آتی ہیں!

جیسے انڈر ورلڈ سے روابط؟ نہیں، میرا اشارہ تعلیم کی جانب ہے!

غربت ذہنی کیفیت ہے!

راجیو اور سونیا گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی مجھے بہت پسند ہیں۔ وہ جب بھی منہ کھولتے ہیں ایک ڈائری لکھنےکا دل کرتا ہے۔۔۔الہ آباد میں انھوں نے ایک تقریب میں کہا کہ غریبی ایک سٹیٹ آف مائنڈ یعنی ذہنی کیفیت ہے۔

ظاہر ہے کہ ان کا مطلب وہ نہیں ہوگا جو سننے میں لگتا ہے۔ یہ ضرور کوئی ویسی ہی گہری بات ہوگی جو وہ اکثر اپنی تقریروں میں کیا کرتے ہیں۔ بس لوگوں کو آسانی سے سمجھ نہیں آتی۔ کیونکہ اگر غربت سٹیٹ آف مائنڈ ہے تو یہ سٹیٹ کس نے اور کب بنایا؟

تیلنگانہ کی طرح حکومت کی جانب سے اس کا باقاعدہ اعلان کیوں نہیں کیا گیا؟ اور کیا اسی طرح خوشحالی، فرقہ پرستی، قوم پرستی اور بدعنوانی وغیر بھی علیحدہ سٹیٹ ہیں؟ یہ بات اپنی سمجھ سے تو باہر ہے کیونکہ پھر غریب کسی دوسرے سٹیٹ آف مائنڈ میں کیوں نہیں چلے جاتے؟

بہرحال، ٹوئٹر پر لوگوں نے کچھ دلچسپ باتیں کہی ہیں، ظاہر ہے نشانے پر راہول ہی ہیں۔ ایک شخص کا کہنا ہے کہ سٹیٹ آف مائنڈ دنیا کی سب سے بڑی ریاست ہوگی( شاید اس لیے کہ اس میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ غریب رہتے ہیں)!

چھوٹی سی آشا

بھارت میں سماجی کارکن انا ہزارے کی عوامی تحریک سے بدعنوانی پر بحث شروع ہوئی
،تصویر کا کیپشنبھارت میں سماجی کارکن انا ہزارے کی عوامی تحریک سے بدعنوانی پر بحث شروع ہوئی

بھارت میں سماجی کارکن انا ہزارے کی عوامی تحریک سے بدعنوانی پر بحث شروع ہوئی، یہ سب مانتے ہیں۔ یہ تحریک دراصل اروند کیجری وال چلا رہے تھے، انھوں نے اب اپنی الگ سیاسی جماعت بنالی ہے، نام ہے، عام آدمی پارٹی۔

نام سن کر لگتا ہے جیسے یہ غریبوں کی پارٹی ہو لیکن جمہوری تقاضوں کی وجہ سے اس کی رکنیت سب کے لیے کھلی ہے۔ پہلے پارٹی نے ایک کچی آبادی میں اپنا دفتر قائم کیا تھا لیکن اب بظاہر اسے نئی دہلی کے ایک پاش علاقے میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

نیا دفتر ایک کوٹھی میں بنے گا جس کا کرایہ بازار کے ریٹ کے حساب سے دو تین لاکھ روپے ہونا چاہیے۔ یہ کوٹھی کے مالک کا دعوی ہے۔ لیکن بدعنوانی ختم کرنےکے لیے انھوں نے مسٹر کیجری وال کو یہ جگہ ماہانہ ایک روپے میں دیدی ہے۔

واقعی، بدعنوانی ختم کرانےکے لیے کچھ لوگ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں! لیکن لوگ کہتے ہیں کہ بدعنوانی شروع بھی ایسے ہی ہوتی ہے، آپ بہت کم سے شروع کرتے ہیں، پھر عزائم بڑھتے ہیں اور ضروریات بھی!