کشمیر میں بے وقت کی موسیقی

شالی مار گارڈن میں آج مہتا کا شو ہے جس میں سرکاری مہمان شرکت کریں گے
،تصویر کا کیپشنشالی مار گارڈن میں آج مہتا کا شو ہے جس میں سرکاری مہمان شرکت کریں گے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

موسیقی کے پرستاروں کے لیے مغربی کلاسیکی موسیقی کے عظیم موسیقار زوبن مہتا کا پروگرام یقیناً ایک نہ کھونے والا موقعہ ہے۔ لیکن بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں زوبن کا پروگرام تنازع کا شکار ہو گیا۔

کشمیری علیحدگی پسندوں کو زوبن مہتا کی موسیقی سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ انہیں شکوہ ہے سری نگر میں اس پروگرام کے اہتمام سے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے بین الاقوامی برادری کو یہ تاثر جائے گا کہ کشمیر میں سب کچھ معمول پر ہے اور اب یہ تنازع حل ہو چکا ہے۔

پچھلی کئی دہائیوں سے کشمیر میں علیحدگی پسندوں نے کشمیر کو بھارت سے الگ کرنے کی تحریک چلا رکھی ہے۔ انیس سو اسّی کے اواخر میں ایک باضابطہ عسکری تحریک کا آغاز ہوا۔ بہت سی ملکی اور غیر ملکی عسکری تنظیمیں وجود میں آئیں۔ اس تحریک میں ہزاروں عسکریت پسند اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور عام شہری مارے گئے۔

دنیا میں جہاں جہاں عسکری تحریکيں چلی ہیں ان کا مقصد ریاست یا حکومت کو مذاکرات کے لیے مجبور کرنا رہا ہے۔ کشمیر میں بات چیت کے لیےکئی مرحلے آئے لیکن عسکریت پسندوں نے بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر نہیں کی۔ یہ تحریک بس چلتی رہی اور ہزاروں نوجوانوں کی موت کے بعد بظاہر اب یہ اپنےآخری مرحلے میں ہے۔

پچھلے پچیس تیس برس میں بہت سے علیحدگی پسند میدان میں رہے لیکن اس پوری جد وجہد میں صرف دو ایسے فریق رہے جن کا موقف واضح تھا اور اورجو اپنے اپنےموقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔

حکومت ہند کا کہنا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ اور علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی اپنے اس موقف پر قائم رہے کہ تقسیم کی رو سےکشمیرکا پاکستان سے الحاق ہونا چاہئے۔

دیگر علیحدگی پسندوں کی پوزیشن کبھی سامنے نہیں آئی کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ پاکستان اسے ''کور ایشو'' کہتے کہتے اب ایک مبہم موقف پر کھڑا ہے اور کشمیر کا ذکر اب شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔

نائن الیون کے حملے کے بعد بین الاقوامی برادری نے بھی کشمیر کے سوال پر رفتہ رفتہ ایک ایسا موقف اختیار کیا ہے جو بھارت کے موقف سے بہت قریب ہے ۔

ایک طویل پر تشدد صورتحال کے بعد کشمیر میں اس وقت ایک پراسرار خاموشی ہے۔ کشمیر میں اب عوام کی زندگی کے ہر پہلو پر ریاست کا مکمل کنٹرول ہے۔ احتجاج اور مظاہروں پر پابندی ہے۔

علیحدگی پسندی اور عسکری تحریک ، پاکستان کے پیچھے ہٹنے، سکیورٹی فورسز کا کنٹرول اور بین الاقوامی سردمہری نے کشمیر کی ایک پوری نسل کو ذہنی طور پر ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جس کی تشریح وہ خود بھی نہیں کر سکتے۔

زوبن مہتا کی موسیقی ذہن وقلب کو فرحت بخشتی ہے لیکن وہ کشمیر کی مجروح روحوں کو شاید مسرور نہ کر سکے ۔ ان کے اورکسٹرا کی عظیم کلاسیکی ترنگیں بھی کشمیر کے زخمی سکوت میں ارتعاش نہیں پیدہ نہیں کر سکیں گی ۔

کشمیر ایک ٹھہری ہوئی حقیقت ہے ۔ لیکن وقت کبھی نہیں رکتا ۔ کشمیریوں کو وقت کے اس جمود سے نکل کر اپنے مستقبل کی نئی تشریح کرنی ہوگی ۔ انہیں دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی حقیقتوں کےسیاق وسباق میں اس وسیع کائنات میں اپنے وجود اور نئی نسلوں کے لیے نئے معنی اور نئے مفہوم تلاش کرنے ہونگے۔